جاپان میں بچے سکول جانے سے انکار کیوں کر رہے ہیں؟

جاپان بچے سکول تصویر کے کاپی رائٹ STEPHANE BUREAU DU COLOMBIER

جاپان میں بچوں کی ایک بڑی تعداد سکول جانے سے انکار کر رہی ہے۔ اس حالت کو ’فتوکو‘ کہتے ہیں۔ سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ تعلیمی نظام کا قصور ہے یا طلبہ کی اپنی کوئی خامی ہے۔

10 سالہ یوٹا ایتو نے سالانہ چھٹیوں کے بعد اپنے والدین کو بتایا کہ وہ اب سکول جانا نہیں چاہتے۔

کئی ماہ سے وہ ہچکچاہٹ کے ساتھ اپنے پرائمری سکول جا رہے تھے۔ اور کبھی کبھار سکول جانے سے انکار کرتے تھے۔ انھیں سکول میں تنگ کیا جاتا تھا اور ساتھی طلبہ سے لڑائی بھی ہوتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بچوں کو سکول میں تنگ کیا جاتا ہے اور ان کی ساتھی طلبہ سے لڑائی بھی ہوتی ہے

اب ان کے والدین کے پاس صرف تین حل تھے: بہتری کی امید میں یوٹا کی سکول میں اصلاح کروائی جائے، گھر میں ہی سکول کی تعلیم دی جائے یا ’فری سکول‘ میں بھیج دیا جائے۔ یوٹا کے والدین نے تیسرا حل چُنا۔

اب یوٹا اپنے دن خوشی سے گزارتا ہے اور جو چاہے وہ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جاپان آخر اتنا صاف کیسے ہے؟

یہ نیم برہنہ مرد کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟

جاپان: خالی ٹائلٹ ڈھونڈنے کے لیے ایپ تیار

یوما جاپان میں ان ’فتوکو‘ میں سے ہے جو جاپان کی وزارت تعلیم کے مطابق 30 دن سے زیادہ عرصے تک صحت یا پیسوں کے مسائل کے بجائے کسی دوسری وجہ سے سکول نہیں جاتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ STEPHANE BUREAU DU COLOMBIER
Image caption 'فتوکو' سے مراد وہ بچے ہیں جو 30 دن سے زیادہ عرصے تک صحت یا پیسوں کے مسائل کے بجائے کسی دوسری وجہ سے سکول نہیں جاتے

اسے ایبسنٹیزم (لگاتار چھٹی لینا)، ٹریو اینسی (جان بوجھ کر تعلیم حاصل نہ کرنا)، سکول کا فوبیا (ڈر) یا سکول ریفیوزل (انکار) کہا جاتا ہے۔

گذشتہ دہائیوں کے دوران فتوکو سے متعلق رویوں میں تبدیلی آئی ہے۔ سنہ 1992 تک سکول جانے سے انکار ایک قسم کی ذہنی بیماری تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن 1997 میں اسے فتوکو کا نام دیا گیا یعنی غیر حاضر ہونے کی ایک غیر جانبدار اصطلاح میں تبدیل کر دیا گیا۔

17 اکتوبر کو حکومت نے اعلان کیا کہ ابتدائی اور جونیئر ہائی سکول کے طلبہ میں غیر حاضری اپنی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 2018 میں 164528 بچے 30 یا اس سے زیادہ دن تک سکول سے غیر حاضر رہے جبکہ 2017 میں یہ تعداد 144031 تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ STEPHANE BUREAU DU COLOMBIER
Image caption اسے لگاتار چھٹی لینا، جان بوجھ کر تعلیم حاصل نہ کرنا، سکول کا فوبیا (ڈر) یا سکول ریفیوزل (انکار) کہا جاتا ہے

سنہ 1980 کی دہائی میں فتوکو کی بڑھتی تعداد کے باعث جاپان میں ’فری سکول‘ مہم کا آغاز ہوا۔ یہ ایسے سکول ہیں جنھیں انفرادیت اور آزادی کے اصولوں پر چلایا جاتا ہے۔

فری سکول اور گھر میں تعلیم دینے کو کسی ادارے میں لازم تعلیم کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن فری سکول میں بچوں کو کوئی تسلیم شدہ سند نہیں دی جاتی۔

گذشتہ سالوں میں فری اور متبادل سکولوں میں بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ تعداد سنہ 1992 میں 7424 تھی جبکہ سنہ 2017 میں 20346 رہی۔

سکول سے غیر حاضر رہنے کے دیرپا اثرات ہو سکتے ہیں۔ یہ خدشہ بھی ہوتا ہے کہ نوجوان معاشرے سے پوری طرح کٹ جائیں گے اور اپنے کمروں میں خود کو قید کر لیں گے۔ اس حالت کو ہکیکموری کہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ سالوں میں فری اور متبادل سکولوں میں بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے

زیادہ خطرہ ایسے طلبہ کا ہے جو اپنی زندگی خود ختم کر لیتے ہیں۔ سنہ 2018 میں 332 کیس سامنے آئے جن کی بدولت سکول کی خودکشیاں گذشتہ 30 سال میں سب سے زیادہ تھیں۔

سنہ 2016 میں بچوں کی خودکشیوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے جاپانی حکومت نے اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کی منظوری دی تھی جن میں سکولوں کے لیے خاص تجاویز تھیں۔

جاپان میں بچے سکول کیوں نہیں جانا چاہتے؟

وزارت تعلیم کے ایک سروے کے مطابق خاندانی صورتحال، دوستوں کے ساتھ ذاتی تنازعات اور سکول میں تنگ کیے جانا بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

عام طور پر سکول چھوڑنے والے بچوں نے بتایا ہے کہ ان کی دوسرے طالب علموں، یا کبھی کبھار اساتذہ، کے ساتھ نہیں بنی۔

ٹوموے موریہاشی نامی بچی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ STEPHANE BUREAU DU COLOMBIER
Image caption زیادہ خطرہ ایسے طلبہ کا ہے جو اپنی زندگی خود ختم کر لیتے ہیں

اس 12 سالہ بچی نے بتایا ’مجھے کئی لوگوں کے ساتھ رہنا اچھا نہیں لگا۔ سکول کی زندگی دردناک تھی۔‘

ٹوموے ایک نفسیاتی مرض کا شکار ہیں جسے سلیکٹیو موٹزم کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ لوگوں میں پر سکون محسوس نہیں کرتی۔

’میں گھر سے باہر یا خاندان سے دور بول نہیں سکتی تھی۔‘

اور ان کے لیے جاپانی سکولوں کے سخت اصولوں کی پیروی کرنا مشکل تھا۔

’ٹائٹس کا کوئی دوسرا رنگ نہیں ہونا چاہیے، بالوں کو رنگ کروانے کی اجازت نہیں، بال باندھنے والی پونی کا رنگ بھی طے شدہ ہے اور انھیں کلائی پر باندھنا منع ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ STEPHANE BUREAU DU COLOMBIER
Image caption تکاشی یوشیکاوا نے اپنا پہلا فری سکول 2010 میں کھولا تھا

جاپان میں کئی سکول بچوں کی حلیے کو ہر طرح سے اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ بچوں کو کہا جاتا ہے کہ اپنے بال بهورے رنگ کے کروائیں اور سرد موسم ہونے کے باوجود ٹائٹس یا کوٹ نہ پہنیں۔

کچھ حالات میں وہ بچوں کے زیر جامہ (انڈر ویئر) کا رنگ بھی طے کرتے ہیں۔

جاپانی سکولوں میں 1970 اور 1980 کی دہائی میں تشدد اور تنگ کیے جانے کے واقعات کے ردعمل میں سخت قواعد و ضوابط متعارف کرائے گئے تھے۔ ان میں 1990 کی دہائی میں نرمی آئی تھی لیکن حالیہ عرصے میں انھیں مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

انھیں ’سکول کے سیاہ قواعد‘ کے طور پر جانا جاتا ہے جس کا مطلب ہے یہ ایسی کمپنیوں کی عکاسی کرتے ہیں جو اپنے ملازمات کا استحصال کرتی ہیں۔

ٹوموے اب یوٹا کی طرح ٹوکیو میں تماگوا فری سکول میں جاتی ہیں جہاں بچوں کو یونیفارم پہننے کی ضرورت نہیں اور وہ اپنی سرگرمیاں خود اپنی مرضی سے چُن سکتے ہیں۔ اس منصوبے پر سکول انتظامیہ، والدین اور بچوں سب متفق ہوتے ہیں۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنے انفرادی ہنر اور دلچسپی کی پیروی کریں۔

جاپانی اور ریاضی کی کلاسوں کے لیے کمروں میں کمپیوٹر ہیں جبکہ ایک لائبریری میں کتابیں اور جاپانی کامک بکس (مانگاس) پڑی ہوتی ہیں۔

ماحول کافی غیر رسمی ہے اور لوگ ایک بڑے خاندان کی طرح رہتے ہیں۔ بچے یہاں ایک دوسرے سے بات کرتے اور کھیلتے ہیں۔

سکول کے سربراہ تکاشی یوشیکاوا کا کہنا ہے کہ ’اس سکول کا مقصد یہ ہے کہ لوگ معاشرے میں ایک دوسرے سے بات چیت کرنا سیکھیں۔‘

بچوں کو یہاں سیکھایا جاتا ہے کہ وہ زیادہ لوگوں میں نہ گھبرائیں۔ چاہے یہ سیکھانے کے لیے انھیں ورزش کرائی جائے، ویڈیو گیمز کھیلائی جائیں یا کچھ پڑھایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کچھ حالات میں سکول بچوں کے زیر جامہ (انڈر ویئر) کا رنگ بھی طے کرتے ہیں

حالیے عرصے میں یہ سکول ایک بڑی جگہ منتقل ہوگیا ہے جہاں روز 10 بچے آتے ہیں۔

تکاشی یوشیکاوا نے اپنا پہلا فری سکول 2010 میں ٹوکیو کے ایک رہائشی علاقے فوچو میں ایک تین منزلا فلیٹ میں کھولا تھا۔

’مجھے امید تھی کہ 15 سال سے زیادہ عمر کے طلبہ آئیں گے لیکن جو آئے وہ محض سات یا آٹھ سال کے تھے۔ زیادہ تر بچے سلیکٹیو موٹزم کی وجہ سے خاموش تھے اور سکول میں کچھ نہیں کرتے تھے۔‘

تکاشی یوشیکاوا سمجھتے ہیں کہ بچوں کے لیے سکول جانے سے انکار کرنے کی بڑی وجہ ان کے بولنے کے مسائل ہیں۔

تعلیم کے شعبے میں ان کا اپنا سفر غیر معمولی ہے۔ 40 سال سے زیادہ کی عمر میں انھوں نے ایک جاپانی کمپنی میں تنخواہ دار ملازم کی نوکری چوڑ دی۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مستقبل میں مزید ترقی حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کے والد ڈاکٹر تھے جو ان کی طرح معاشرے کے لیے کچھ اچھا کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے وہ سماجی کارکن اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے سوتیلے والد بن گئے۔

اس تجربے نے ان کی آنکھیں کھول دیں کہ بچوں کو کیا مسائل درپیش ہیں۔ انھیں اندازہ ہوا کہ بچوں کو غریب ہونے یا گھریلو تشدد سے متاثر ہونے کی وجہ سے کیا مشکلات پیش آتی ہیں۔ اور اس سے سکول میں ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

نگویا یونیورسٹی میں ماہر تعلیم پروفیسر ریو یوچیدا کہتے ہیں کہ سکول میں بڑے کلاس روم ہونا بچوں کے لیے مشکل پیدا کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایک کلاس روم میں اگر 40 بچے ایک سال تک ساتھ ہوں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔‘

پروفیسر یوچیدا کہتے ہیں کہ جاپان میں آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے زندگی گزارنے کے لیے دوستی اہم ہوتی ہے۔ اگر آپ دوسرے کے ساتھ دوست نہیں بنتے تو آپ بچ نہیں سکیں گے۔ یہ صرف سکولوں میں ہی نہیں بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ یعنی بسوں اور دوسری جگہوں پر بھی ہوتا ہے کیونکہ ہر طرف آبادی گنجان ہے۔

کئی بچوں کے لیے اس کی پیروی کرنا ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ وہ زیادہ بھرے ہوئے کلاس روموں میں اچھا محسوس نہیں کرتے کیونکہ یہاں انھیں اپنے ساتھی طالب علموں کے ساتھ مل کر تنگ جگہ میں رہتے ہوئے سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔

پروفیسر یوچیدا کہتے ہیں ’ایسے ماحول میں اچھا محسوس نہ کرنا عام سی بات ہے۔‘

اس کے علاوہ جاپان میں بچوں کو ایک ہی جماعت میں سال ہا سال رہنا پڑتا ہے۔ تو پھر اگر یہی مسئلہ درپیش ہو تو سکول جانا دردناک ہوسکتا ہے۔

پروفیسر یوچیدا کے مطابق ’اس حساب سے فری سکولوں سے ملنے والی مدد کافی اہم ہوتی ہے۔ فری سکولوں میں وہ بچوں کو ایک گروہ کی شکل میں نہیں دیکھتے بلکہ ہر طالب علم کے انفرادی خیالات اور جذبات کی قدر کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ STEPHANE BUREAU DU COLOMBIER
Image caption فری سکولوں ایک اچھا متبادل ہیں لیکن جاپان میں تعلیمی نظام خود ایک مسئلہ بنا ہوا ہے

فری سکولوں ایک اچھا متبادل ہیں لیکن تعلیمی نظام خود ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ پروفیسر یوچیدا کہتے ہیں کہ بچوں میں تنوع پیدا نہ ہونے دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

جاپان کے سکولوں میں ’سکولوں کے سیاہ قواعد‘ پر تنقید بڑھتی جارہی ہے۔ ٹوکیو کے ایک اخبار شمبن نے بھی انھیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہا ہے جو بچوں میں تنوع پیدا ہونے میں ایک رکاوٹ ہے۔

اگست میں ایک مہم چلائی گئی تھی جس کا نام ’سکول کے سیاہ اصولوں کو ختم کیا جائے‘ تھا۔ اسے انٹرنیٹ پر ایک درخواست کے طور پر شروع کیا گیا تھا اور 60 ہزار لوگوں کے دستخط کے بعد وزارت تعلیم کو بھیجا گیا تھا۔ اس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ سکولوں کے غیر معقول قواعد و ضوابط کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ اوساکا میں ہر سکول کے اصولوں کا جائزہ لیا گیا تھا اور 40 فیصد تبدیلیاں کی گئی تھیں۔

پروفیسر یوچیدا کہتے ہیں کہ اب وزارت تعلیم بچوں کی غیر حاضری کو غیر معمولی نہیں بلکہ ایک ٹرینڈ سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح حکومت تسلیم کرتی ہے کہ فتوکو سے متاثر بچے ایک مسئلہ نہیں بلکہ در حقیقت بچے ایک ایسے تعلیمی نظام پر اپنا ردعمل دے رہے ہیں جہاں پرسکون ماحول دستیاب نہیں۔

ایسا کہا جاتا ہے کہ جاپان میں کم از کم پانچ لاکھ نوجوان مردوں نے معاشرے سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ ایسے لوگ اپنے بیڈ روم سے باہر نہیں نکلتے۔ انھیں ہکیکموری کہتے ہیں۔

ان کے خاندان کو معلوم نہیں کہ اب کیا کرنا ہے۔ لیکن ایک تنظیم نے ایسے مردوں کو تنہائی کے چنگل سے نکالنے کے لیے ’بہنوں کے مشورے‘ کی سروس شروع کی ہے۔

اسی بارے میں