سانتا کلاز: ’قطب شمالی‘ نامی وہ امریکی قصبہ جہاں پورا سال کرسمس کا سماں رہتا ہے

سانتا کلاز ہاؤس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سانتا کلاز ہاؤس سال بھر سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے

آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ سانتا کلاز کے گھر تک کیسے پہنچا جاتا ہے۔

سانتا کلاز لین پر سفر کریں اور وینڈیز برگر بار کے ساتھ سے سینٹ نکولس سٹریٹ پر دائیں مڑیں۔

شاید یہ کوئی عام پتہ نہیں ہے۔ مگر امریکی ریاست الاسکا میں واقعہ ’قطب شمالی‘ بھی کوئی عام سا قصبہ نہیں ہے۔

21 سالہ کوڈی میئر اس قصبے کے بارے میں آپ کو بتائیں گے۔ وہ قطب شمالی میں ہی پلے بڑھے ہیں اور اب وہیں قائم سانتا کلاز ہاؤس میں نوکری کر رہے ہیں۔

آپ انھیں مافوق الفطرت مت کہیں کیونکہ پہلے ہی جب وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے نئے دوستوں سے ملتے ہیں تو انھیں یہ سمجھانے میں کافی دقت پیش آتی ہے کہ ان کا تعلق کس علاقے سے ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کوڈی میئر نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ عموماً کہتے ہیں ’اچھا تو تم قطب شمالی میں رہتے ہو۔ کیا تم مذاق کر رہے ہو؟‘

نئے دوست عموماً کوڈی سے پوچھتے ہیں کہ ’کیا قصبہ حقیقت میں اپنا وجود رکھتا ہے؟ اور پھر مجھے انھیں گوگل کر کے دکھانا پڑتا ہے کہ ہاں یہ قصبہ واقعی موجود ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

قطب شمالی میں فادر کرسمس کا دنیا کا سب سے بڑا فائبر گلاس سے بنا مجسمہ بھی موجود ہے

قطب شمالی ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس کی آبادی 2117 نفوس پر مشتمل ہے اور یہ اصل قطب شمالی سے 1700 میل کی دوری پر واقع ہے۔

اگرچہ یہ اصل قطب شمالی نہیں مگر پھر بھی سنو مین لین کے ساتھ آپ کو قطبی ہرن چرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ وہاں کینڈی کین لائٹس ہر جگہ موجود ہیں اور فادر کرسمس کا دنیا کا سب سے بڑا فائبر گلاس سے بنا مجسمہ بھی وہیں ہے۔

نارتھ پول آرکٹک سرکل کے جنوب میں چند گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ سیاحوں میں کافی مقبول ہے اور امریکی پوسٹل سروس کو موصول ہونے والے تمام خطوط جن پر پتہ ’سانتا کلاز قطب شمالی‘ درج ہوتا ہے دراصل ان کی منزلِ مقصود یہی قصبہ ہوتی ہے۔

ایلسن ایئر فورس بیس پر ان خطوط کا جواب دینے کے لیے ایک دفتر قائم ہے جہاں رضاکار کام کرتے ہیں۔

میٹزی ولکوکس فرسٹ کلاس ایئر ویمن ہیں اور وہ دو سال سے یہاں کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’سانتا ایک مصروف انسان ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان کی مدد کرنے پر وہ ہمارے معترف ہوں گے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک انوکھا تجربہ ہے۔ ’کتنے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ وہ قطب شمالی میں رہتے ہیں؟ ہم پوری دنیا میں بچوں کی جانب سے بھجوائے جانے والے خطوط کے جوابات دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں بچپن میں سانتا کو خطوط لکھتی تھی۔ اور میں یہ صرف تصور ہی کر سکتی ہوں کہ اگر مجھے اپنے خط کا جواب مل جاتا تو میں کس قدر خوش ہوتی تھی۔‘

،تصویر کا کیپشن

مٹزی کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برسوں سے پوری دنیا میں بچوں کی جانب سے سانتا کلاز کو لکھے گئے خطوط کا جواب دیتی ہیں

سال کے ان اوقات میں اس علاقے میں زیادہ دن کی روشنی نہیں ہوتی۔

کوڈی نے بتایا کہ عام طور پر شدید سردیوں میں سورج صبح گیارہ یا بارہ بجے طلوع ہوتا ہے اور پھر تین بجے کے قریب یہ غروب ہو جاتا ہے۔ یوں آپ کے پاس صرف چار گھنٹے ہی ہوتے ہیں۔

مٹزی کا کہنا ہے کہ سورج کی روشنی کی کمی کے باعث یہاں ایسے بلب استعمال کیے جاتے ہیں جو مصنوعی سورج کی روشنی فراہم کرتے ہیں جبکہ یہاں رہنے والوں کو سورج کی روشنی سے حاصل ہونے والے وٹامنز استعمال کرنے کو کہا جاتا ہے۔

لیکن سردیوں کے بارے میں کیا کیا جائے؟ دسمبر کے مہینے میں یہاں کا درجہ حرارت منفی 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک گِر جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس مہینے میں ان کے جسم پر کئی تہوں والے کپڑے ہوتے ہیں۔ سردیاں بظاہر لمبی لگتی ہے لیکن شمال میں بہت دور ہونے کی وجہ سے ہم نادرن لائٹس دیکھ سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

نادرن لائٹس کو دیکھنے کے لیے سیاح یہاں آتے ہیں

تو قطب شمالی میں رات کے وقت کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ کوڈی کے مطابق باہر نکل کر لطف اندوز ہونا کافی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

انھوں نے نیوزبیٹ کو بتایا کہ ’ہم سںو بورڈنگ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آئس فشنگ (برف میں مچھلیاں پکڑنا) کرتے ہیں۔‘

لیکن کیا ہر وقت کرسمس جیسے ماحول میں رہنا نیا پن ختم کر دیتا ہے؟

کوڈی کو یہاں رہتے ہوئے دو برس ہو چکے ہیں مگر ان کے احساسات ابھی مجروح نہیں ہوئے۔ ’میرے لیے کرسمس پورے سال میں سب سے بہترین وقت ہوتا ہے۔‘

کوڈی نے بتایا کہ ’مجھے اس سے محبت ہے۔ میں شاید یہاں اگر اپنی پوری زندگی نہ بھی رہ پایا تو کم از کم ایک لمبا عرصہ ضرور گزاروں گا۔‘