کرسمس پر پوپ فرانسس کا پیغام: ’خدا بُرے سے بُرے انسان سے بھی محبت کرتا ہے‘

پوپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ ہفتے پوپ نے کلیسا کی خفیہ معلومات سے متعلق قواعد کو ختم کر کے بڑی تبدیلیاں متعارف کروائیں

رومن کیتھولک مسیحی برادری کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ خدا ہم سب سے محبت کرتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بُرا کیوں نہ ہو۔

وہ ویٹیکن سٹی میں کرسمس سے پچھلی شب سینٹ پیٹرز بسیلیکا میں منعقد ہونے والے ماس کے موقعے پر ہزاروں افراد کے مجمعے سے خطاب کر رہے تھے۔

ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے پوپ فرانسس نے کہا: ’ہو سکتا ہے کہ آپ کے خیالات میں غلطی ہو، ہو سکتا ہے کہ آپ نے چیزوں کو بالکل خراب کر دیا ہو۔۔۔ لیکن خدا بھر بھی آپ سے محبت کرتا رہا ہے۔‘

پوپ فرانسس کا کرسمس کے موقعے پر اپنا روایتی پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے آج سینٹ پیٹرز بسیلیکا واپس آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

مسلمانوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ کا کیا مقام ہے؟

ویٹیکن: پوپ نے یہ نہیں کہا کہ جہنم نہیں ہے

’ویٹیکن ایک ہم جنس پرست ادارہ ہے‘

نامہ نگار کے مطابق کچھ لوگ پوپ کے اس خطاب کی تشریح چرچ سے جڑے سکینڈلز، جن میں جنسی تشدد کے الزامات بھی شامل ہیں، کے حوالے سے کریں گے۔

گذشتہ ہفتے پوپ نے کلیسا کی معلومات خفیہ رکھنے سے متعلق ان قواعد کو ختم کرتے ہوئے بڑی تبدیلیاں متعارف کروائیں جن کی وجہ سے مذہبی پیشواؤں کی طرف سے بچوں سے بدسلوکی کے واقعات سامنے نہیں آتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سے قبل بچوں سے بدسلوکی کے واقعات کو چرچ نے صغیہ راز میں رکھا اور اس پر پردہ ڈالا۔ اس وقت یہ کہا گیا کہ یہ کوشش متاثرین اور اہل خانہ کی عزت کے لیے کی گئی ہے۔

لیکن نئی دستاویزات کے مطابق ان افراد سے پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں جو زیادتی کے حوالے سے رپورٹ کریں یا پھر یہ بتائیں کہ وہ زیادتی کا نشانہ بنے۔

پوپ نے ویٹیکن کی جانب سے چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق ویٹیکن کی تعریف کو بھی تبدیل کیا ہے۔ عمر کی معیاد 14 یا اس سے کم سے لے کر اٹھارہ یا اس سے کم کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں پادریوں کی جانب سے جنسی بدفعلی کے ارتکاب کی ہزاروں رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں الزامات ہیں کہ سینیئر مذہبی پیشواؤں کی جانب سے ان پر پردہ ڈالا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پوپ فرانسس کو اس حوالے سے بہت شدید دباو کا سامنا رہا ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے لیڈر شپ فراہم کریں اور بحران کا جس نے چرچ کو حالیہ برسوں میں نگل لیا ہے کارآمد طور حل کریں۔

شام کی اس تقریب میں حصہ لینے والوں میں وینزویلا، عراق اور یوگینڈا سے بچوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

روم سے بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوین نے کہا کہ یہ کیتھولک فرقے کے رہنما کی جانب سے تارکین وطن، جنگ کے متاثرین کے حالات پر توجہ مرکوز کرنے کی ایک واضح کوشش ہے جو وہ اکثر کرتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں