برکینا فاسو: ’والد کے ساتھ چرچ اور میرے ساتھ مسجد جاتی ہے‘

برکینا فاسو کا ایک فوجی(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption برکینا فاسو میں پچھلے چار برسوں میں دہشتگرد حملےمیں 700 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

افریقی ملک برکینا فاسو میں مشتبہ اسلامی شدت پسندوں کے حملوں میں 31 عورتوں سمیت 35 عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ حملے کرسمس سے ایک دن قبل پیش آئے۔

برکینا فاسو میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ برکینا فاسو کے پڑوسی ملک مالی میں اسلامی شدت پسندوں کے حملے عام ہیں اور اس کے اثرات سرحد پار برکینا فاسو میں بھی پھیلتے نظر آ رہے ہیں۔

لیکن اس ملک میں مذہبی ہم آہنگی کی تاریخ بھی موجود ہے۔ ایسے خاندان موجود ہیں جن میں مسلمان اور مسیحی برادری کے افراد موجود ہیں اور یہ ملک کی آبادی کا 23 فیصد حصہ ہیں۔

صحافی کلائر میکڈوگل نے دارالحکومت میں موجود کچھ ایسے ہی خاندانوں سے ملاقات کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ CLAIR MACDOUGALL
Image caption ایرس کی 2015 میں لی گئی تصویر

پانچ سالہ ایرس اوسنیا اوتارا کے والدین نے برکینا فاسو میں ان کی پرورش کیتھولک اور مسلم دونوں مذہبی روایات کے مطابق کی۔

ایرس کرسمس منا رہی ہیں لیکن وہ عید کا تہوار بھی مناتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ CLAIR MACDOUGALL
Image caption ایرس کی والدہ انھیں نماز اور اس کی ادائیگی کے لیے ضروری امور جن میں وضو بھی شامل ہے کے حوالے سے بھی تربیت دے رہی ہیں

ایرس کی والدہ افوساتو کا کہنا ہے کہ یہ میرے ساتھ جمعے کو مسجد جاتی ہیں اور اتوار کو والد کے ساتھ چرچ جاتی ہیں۔

ڈینسس اور افوساتو چھ سال پہلے توسیانہ میں رہتے تھے جو برکینا فاسو سے 55 کلومیٹر دور ایک دیہی علاقہ ہے۔

انھوں نے ایک دوسرے سے ملنے کے ایک سال بعد شادی کا فیصلہ کیا۔ شادی کی اس تقریب میں دونوں کی مذہبی روایات کو احترام دیا گیا۔

ڈینس نے عارضی طور پر اسلام قبول کیا جو کہ کچھ مسیحی مرد شادی کے اسلامی فریضے سے پہلے دلہن کے رشتہ داروں کی خوشی کے لیے کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ CLAIR MACDOUGALL

افوساتو اب بھی اپنی والدہ کو اس رشتے کو تسلیم کرنے کے لیے منانے کی کوشش کرتی ہیں کیونکہ مذہب اسلام میں لڑکی کے لیے اپنے ہم مذہب سے شادی کرنا ضروری ہوتا ہے۔

تاہم برکینابو میں مسلمان اور مسیح اپنی عبادت گاہوں میں ایک دوسرے کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

افوساتو کے بہت سے مسیحی دوست ہیں اگرچہ وہ کرسمس کے دن چرچ نہیں جاتیں لیکن اپنے سسرال والوں کے ساتھ کرسمس مناتی ہیں اور اپنا مذہبی تہوار عید بھی مناتی ہیں۔

اب افوساتو اور ڈینس نے یہ ایرس پر چھوڑا ہے کہ وہ بڑی ہو کر کس مذہب کو اپناتی ہیں۔ مگر ابھی وہ چرچ بھی جاتی ہیں اور مسجد بھی۔

ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ القاعدہ اور دولت اسلامیہ سے منسلک گروپ اس حملے کے پیچھے ہیں جو اس علاقے میں متحرک ہیں۔

حکام نے کہا ہے کہ ملک کے شمالی صوبے صوم کے اربندا علاقے میں جنگجوؤں کے حملے میں سات فوجیوں سمیت 80 جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔

صدر روچ مارک کرسچیئن کبورے نے ملک میں دو روز کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

حالیہ برسوں میں جہادی گروہ برکینا فاسو اور شمالی افریقہ کے کئی دوسرے کئی ممالک میں اپنے حملوں میں تیزی لائے ہیں۔

گذشتہ ہفتے فرانس کےصدر ایمینوئیل میخواں نے افریقہ کے ساحل علاقے میں جنگجوؤں کے مزید حملوں کی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگلے کچھ ہفتے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

منگل کے روز ہونے والے حملے کئی گھنٹوں تک جاری رہے جن میں درجنوں موٹر سائیکل سوارجنگجوؤں نے حصہ لیا۔

رواں ماہ کے اوائل میں برکینا فاسو کے شمالی علاقوں میں ایک گرجا گھر پر ہونے والے حملےمیں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

برکینا فاسو میں جو ایک وقت بہت پرامن ملک تھا، 2015 سے یہاں بدامنی پھیل رہی ہے۔ پچھلے چار برسوں میں دہشتگردوں کے حملوں میں کم از کم 700 افراد ہلاک اور پانچ لاکھ ساٹھ ہزار لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں