روسی صدر ولادیمیر پوتن: ’ایونگارڈ میزائل سسٹم موجودہ اور مستقبل کے میزائل شکن سسٹمز کو شکست دے سکتا ہے‘

میزائل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روسی حکام کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیو سے لی گئی تصویر

روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیز ایونگارڈ ہائپر سانک میزائلوں کی پہلی کھیپ کی تنصیب کر دی ہے۔

روسی وزارتِ دفاع نے اس اعلان کے ساتھ ان میزائلوں کی تنصیب کے مقام کا نہیں بتایا تاہم اس سے قبل حکام نے یہ اشارہ دیا تھا کہ ان کی تنصیب یورال کے خطے میں ہو گی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا یہ میزائل آواز کی رفتار سے 20 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے، اور اس کے باعث روس اس ٹیکنالوجی میں دیگر تمام اقوام سے آگے نکل گیا ہے۔

ان میزائلوں میں مخصوص ’گلائیڈ سسٹم‘ ہے جس کی وجہ سے یہ تیزی سے اپنی سمت اور بلندی تبدیل کر سکتے ہیں اور اسی خوبی کی وجہ سے اسے شکست دینا ناممکن ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایران کے ’میزائل تجربے‘ پر اسرائیل ناراض

امریکہ اور روس میں کس کی فوج میں کتنا دم؟

وہ شخص جس نے پوتن کی صدر بننے میں مدد کی

’مکہ شہر پر میزائل حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی‘

وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے تصدیق کی کہ ’ایونگارڈ ہائپر سانگ گلائیڈ وہیکل کی 27 دسمبر کو ماسکو کے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے تنصیب کر دی گئی ہے۔‘

انھوں نے اسے ’تاریخی موقع‘ قرار دیا۔

صدر پوتن نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ ایونگارڈ سسٹم موجودہ اور مستقبل کے میزائل شکن سسٹمز کو شکست دے سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کسی ایک بھی ملک کے پاس ہائپر سانک ہتھیار نہیں ہیں، پورے برِاعظم کی رینج رکھنے والے ہائپر سانک ہتھیار تو دور کی بات ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مغرب اور دیگر اقوام اب ہماری سطح تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔‘ صدر پوتن نے ایونگارڈ اور دیگر ہتھیاروں سے متعلق مارچ 2018 میں قوم سے اپنے سالانہ خطاب کے دوران بتایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر پوتن دسمبر 2018 میں ایونگارڈ کی آزمائشی لانچ کا معائنہ کر رہے ہیں

دسمبر 2018 میں جنوبی یورال کے پہاڑوں میں ایک آزمائشی لانچ کے دوران اس ہتھیار نے 6000 کلومیٹر (3700 میل) کے فاصلے پر ٹارگٹ کو نشانہ بنایا تھا۔

صدر پوتن نے اس ٹیسٹ کے بعد کہا تھا کہ ’کسی بھی ممکنہ دشمن کا کوئی موجودہ یا مستقبل کا دفاعی نظام ایونگارڈ کے لیے خطرہ نہیں ہے۔‘

بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل کے اوپر نصب ہونے والے ایونگارڈ میں دو میگاٹن تک نیوکلیئر ہتھیار لے جانے کی صلاحیت ہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے ایونگارڈ سسٹم کی ویڈیوز جاری کی ہیں مگر اسلحے کے ماہر اس سسٹم کے اثرانگیز ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ایونگارڈ کی صلاحیتوں کے بارے میں ’روس کے دعووں کی تفصیلات میں نہیں جائیں گے۔‘ امریکہ اور چین دونوں کے پاس ہی اپنے اپنے ہائپرسونک میزائل پروگرام ہیں۔ چین سنہ 2014 میں اس کی آزمائش کرنے کا بھی دعویٰ کر چکا ہے۔

گذشتہ ماہ 26 نومبر کو روس نے 2010 کے نیو سٹارٹ معاہدے کے ضوابط کے تحت امریکی ماہرین کو ایونگارڈ سسٹم کے معائنے کی اجازت دی تھی۔ یہ معاہدہ سٹریٹجک نیوکلیئر میزائل لانچرز کی تعداد گھٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔

فروری 2021 میں یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ نیو سٹارٹ معاہدہ امریکہ اور روس کے درمیان نیوکلیئر ہتھیاروں کے کنٹرول کے لیے طے پانے والا آخری بڑا معاہدہ ہے۔

رواں سال اگست میں امریکہ نے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی (آئئ این ایف) سے خود کو علیحدہ کر لیا تھا جو کہ سنہ1987 میں سوویت رہنما میخائل گورباشیف اور امریکہ کے صدر رونلڈ ریگن کے درمیان طے پایا تھا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایک نیا نیوکلیئر معاہدہ چاہتے ہیں جس پر روس اور چین دونوں ہی دستخط کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر پوتن نے اس میزائل کی آزمائش کے بعد کہا تھا کہ ’کسی بھی ممکنہ دشمن کا کوئی موجودہ یا مستقبل کا دفاعی نظام ایونگارڈ کے لیے خطرہ نہیں ہے‘ (فائل فوٹو)

بڑی طاقتوں میں دوبارہ مقابلہ؟

تجزیہ: جوناتھن مارکس، دفاعی نامہ نگار

ابھی بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا روس کے نئے ایونگارڈ ہائپر سونک میزائل سسٹم واقعی روسی دعوؤں کے مطابق دفاعی سروس میں داخل ہو گئے ہیں یا پھر یہ کہ یہ صرف آزمائشوں کا اگلا مرحلہ ہے۔

مگر صدر پوتن کی بے تابی کچھ حد تک جائز ہے کیونکہ ہائپی سونک ہتھیاروں کی دوڑ میں امریکہ اور چین روس سے پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ہائپر سونک میزائل نہایت تیز رفتار ہوتے ہیں اور آواز کی رفتار سے کم از کم پانچ گنا تیزی سے سفر کرتے ہیں۔

لیکن کسی ہائپر سونک ہتھیار کی صرف رفتار سے ہی فرق نہیں پڑتا بلکہ ہدف کی جانب جاتے ہوئے اپنی سمت اور بلندی تبدیل کرنے کی ان کی غیر معمولی صلاحیت بھی ان کی مددگار ہوتی ہے۔ اور یہی موجودہ میزائل شکن دفاعی سسٹمز کے لیے مسائل کھڑے کر دیتی ہے۔

چنانچہ اگر روس کے دعوے درست ہیں، تو اس نے ایک ایسا طویل فاصلے تک مار کرنے والا بین البرِ اعظمی میزائل نظام بنا لیا ہے جس کے خلاف دفاع شاید ناممکن ہو۔ ایونگارڈ کے فعال ہونے کا اعلان نیوکلیئر ہتھیاروں کی دوڑ میں ایک نئے اور خطرناک دور کا آغاز ہے۔

اس سے ایک مرتبہ پھر روس کے نیوکلیئر اسلحے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے صدر پوتن کے عزم کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ بڑی طاقتوں میں مقابلے کی دوبارہ ابتدا کا اشارہ ہے۔

اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب سرد جنگ کے دور کے نیوکلیئر معاہدے ختم ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں