چاگوس جزائر تنازع: موریشس کا برطانیہ پر ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کا الزام

چاگوسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

موریشس کی جانب سے برطانیہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے رواں برس اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کے باوجود چاگوس جزیروں کے افراد کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت نہ دے کر ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کا ارتکاب کیا ہے۔

برطانیہ کے رویے کو ہٹ دھرم اور شرمناک قرار دیتے ہوئے موریشس کے وزیرِ اعظم پرویند جگناتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ برطانوی سرکاری عہدیداروں کے خلاف انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ برطانیہ، یہ حکومت اس قدر ہٹ دھرم کیوں ہے؟‘

موریشس میں رہنے والے عمر رسیدہ چاگوسی افراد نے بھی اس تنقید میں آواز ملاتے ہوئے برطانیہ کو اس معاملے پر جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی تاخیر کا مقصد یہ ہے کہ یہ برادری بس اپنی موت آپ مر جائے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا بوگن وِل دنیا کا نیا ملک بننے جا رہا ہے؟

چین اور جاپان کے متنازع جزائر پر مذاکرات

مصنوعی جزائر کی تعمیر پر امریکہ کی چین کو تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رواں برس کے آغاز میں موریشس نے برطانیہ کے خلاف ہیگ میں عالمی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کے خلاف بڑی فتح حاصل کی تھی جب عدالت نے ایک مشاورتی رائے دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ چاگوس جزیرے موریشس کے حوالے کر دیے جائیں تاکہ ان سے نوآبادیات کے خاتمے کو مکمل کیا جا سکے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس وقت برطانیہ کو یہ مرحلہ شروع کرنے کے لیے چھ ماہ کی ڈیڈ لائن دی تھی مگر برطانیہ نے اس پر عملدرآمد سے مسلسل انکار کیا ہے۔

اب برطانیہ کو اپنی سابق کالونی موریشس سے جزائر چاگوس کا کنٹرول حاصل کیے اور یہاں ایک امریکی فوجی اڈہ بنانے کے لیے 1000 سے زائد لوگوں کو نکالے 50 برس ہو چکے ہیں۔

یہ فوجی اڈا موریشس کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے خفیہ طور پر بنایا گیا تھا جب وہ برطانیہ سے آزادی کے حصول کی کوشش کر رہا تھا۔

وزیرِ اعظم جگناتھ کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ سالہا سال سے قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کی بات کرتا رہا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ برطانیہ جزائر چاگوس کے معاملے پر منصفانہ اور معقول انداز میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق عمل نہیں کرتا۔‘

موریشس حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل فلیپے سینڈز نے کہا کہ ’برطانیہ خود کو عالمی طور پر تنہا پانے کے قریب ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اب ہمارے پاس صورتحال کچھ یوں ہے کہ چاگوسی افراد جو اپنے گھر سے بے گھر ہوچکے ہیں، واپس جانا چاہتے ہیں۔ اور برطانیہ انھیں واپس جانے سے روکنا چاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے؟ میرا جواب ہے کہ ایسا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

برطانیہ کا اصرار ہے کہ آئی سی جے کا حکم غلط ہے مگر اس نے ماضی میں چاگوسی افراد سے اپنے سلوک پر معافی مانگی ہے اور وعدہ کر رکھا ہے کہ جب ان جزائر کی دفاعی پہلو سے ضرورت نہیں رہے گی تو انھیں موریشس کو لوٹا دیا جائے گا۔

اپنے ایک بیان میں فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بحرِ ہند میں برطانوی علاقوں پر موجود دفاعی تنصیبات برطانیہ اور دنیا بھر کے لوگوں کو دہشتگرد حملوں اور قزاقوں سے بچانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم اب بھی اپنے اس عزم پر قائم ہیں کہ جب اس علاقے کی دفاعی مقاصد کے لیے ضرورت نہیں رہے گی تو انھیں موریشس کو واپس کر دیا جائے گا۔‘

دفترِ خارجہ نے کہا کہ برطانیہ نے موریشس، سیشیلز اور برطانیہ میں رہنے والے چاگوسیوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے چار کروڑ پاؤنڈز سے زیادہ رقم مختص کی ہے۔

برطانیہ نے چاگوسیوں کے چھوٹے چھوٹے گروہوں کو ’ثقافتی ورثوں‘ کے مختصر دوروں پر لے جانا بھی شروع کیا ہے۔ مگر موریشس میں ان دوروں کو چاگوس برادری کو ’تقسیم کر کے حکمرانی کرنے‘ کا طریقہ قرار دے کر مذمت کی گئی ہے۔

چاگوس ریفیوجیز گروپ کے سربراہ اولیویئر بینکولٹ نے کہا کہ ’میں ان دوروں کا بائیکاٹ کرتا ہوں۔ برطانیہ ہماری خاموشی کو خریدنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا احترام قابلِ فروخت نہیں ہے۔‘

موریشس کے دارالحکومت پورٹ لوئس کے ایک قبرستان میں کئی چاگوسیوں کی قبروں پر ان کے جزائر تک لوٹنے میں ناکامی کے نوحے لکھے ہیں۔

اولیویئر کی والدہ ماری ریٹا ایلیز بینکولٹ کی قبر کے ساتھ ہی ان الفاظ میں ایک تحریر لکھی ہے: ’مجھے خوف ہے کہ مرنے سے قبل اپنے وطن کو دوبارہ دیکھنے کی خواہش شاید پوری نہ ہو۔‘

66 سالہ لزیبی ایلیز ان جزائر کو چھوڑنے کے وقت 20 سال کی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ: 'ہر روز ہم لوگ ایک ایک کر کے مر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ برطانوی ہمارے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ان جزائر پر دعویٰ کرنے والا کوئی نہ رہے۔'

81 سالہ سامینادن روزمنڈ نے کہا: 'ہم لوگ سمندر پر اڑتے پرندوں کی طرح ہیں جو کہیں اتر نہیں سکتے۔ ہمیں تب تک اڑنا ہو گا جب تک ہم مر نہیں جاتے۔'

اسی بارے میں