تحقیق: سنہ 2019 میں امریکہ میں ’قتلِ عام‘ کے ریکارڈ 41 واقعات میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں

ایل پاسو، ٹیکساس، امریکہ، قتل عام تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈیٹابیس کے مطابق امریکہ میں سنہ 2019 میں ایسے 41 واقعات میں 211 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں

اتوار کی صبح امریکی ریاست نیو یارک میں ایک یہودی عبادت گاہ کہ قریب واقع مذہبی پیشوا کے گھر چاقو بردار شخص کے حملے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

آرتھوڈاکس جوئیش پبلک آفیئرز کونسل کے مطابق یہ گھر ایک یہودی مذہبی پیشوا (ربی) کی ملکیت ہے۔

فی الحال حملے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حملے کے بعد چاقو بردار شخص جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا تاہم کچھ ہی دیر بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔

کونسل کے مطابق حملے میں زخمی ہونے پانچ افراد میں سے ایک شخص کو چاقو کے کم از کم چھ گھاؤ آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں مساجد کے نئے محافظ

'رائفل ایسوسی ایشن نے سیاستدانوں کو خریدا ہوا ہے‘

ملزم نے بعض ’طلبہ کو چھوڑ دیا کہ وہ کہانی سنا سکیں‘

سی بی ایس نیو یارک کی رپورٹ کے مطابق مونسی کے علاقے میں واقع ربی کے گھر ’حنوکہ‘ کے سلسلے میں تقریب جاری تھی جب ایک آدمی خنجر لہراتا ہوا حملہ آور ہوا۔ یہ واقع امریکہ کے مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی رات 10 بجے پیش آیا ہے۔

آرتھوڈاکس جوئیش پبلک آفیئرز کونسل کے یوسی گیسٹیٹنر نے بتایا کہ ’گھر میں درجنوں افراد موجود تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

نیویارک پولیس کا کہنا ہے کہ وہ واقعے پر ’کڑی نظر‘ رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ میں ’قتل عام‘ کے واقعات

محققین کے مطابق دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو امریکہ کی تاریخ میں رواں برس قتلِ عام کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے جن کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

خبر رسان ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس، یو ایس اے ٹو ڈے اور نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے مرتب کردہ ڈیٹابیس کے مطابق امریکہ میں سنہ 2019 میں ایسے 41 واقعات میں 211 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ قتلِ عام اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں قاتل کے علاوہ چار یا اس سے زائد افراد ہلاک ہو جائیں۔

سال 2019 میں پیش آئے سب سے ہلاکت خیز واقعے میں ایل پاسو میں اگست کے مہینے میں 22 افراد کو ہلاک کیا گیا جبکہ اس سے قبل مئی میں ورجینیا بیچ پر 12 افراد قتل ہوئے۔

محققین کے مطابق سنہ 2019 کے کُل 41 کیسز میں سے 33 میں آتشیں اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ اعداد و شمار میں ریاست کیلیفورنیا سرِفہرست رہی جس میں قتلِ عام کے آٹھ واقعات پیش آئے۔

اے پی کے مطابق یہ ڈیٹابیس یوں تو سنہ 2006 سے امریکہ میں قتلِ عام کے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہے مگر 1970 کی دہائی تک کی جانے والی اس تحقیق میں کوئی دوسرا سال ایسا نہیں جس میں اس سے زیادہ واقعات پیش آئے ہوں۔ سنہ 2019 کے علاوہ سنہ 2006 وہ سال تھا جس میں قتلِ عام کے 38 واقعات رونما ہوئے تھے۔

ویسے تو سنہ 2019 میں سب سے زیادہ قتلِ عام کے واقعات ہوئے لیکن ہلاکتوں کی تعداد سنہ 2017 میں ایسے واقعات میں ہوئی ہلاکتوں کی تعداد سے کم رہی۔ سنہ 2017 میں 224 افراد ہلاک ہویے تھے۔ وہ سال ہلاکتوں کے اعتبار سے امریکی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز سال تھا جب لاس ویگس میں ایک فیسٹیول کے دوران 59 افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاس ویگس میں ہونے والے قتلِ عام کے بعد ایک دعائیہ تقریب

محققین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کئی قتلِ عام شہ سرخیوں میں اس لیے جگہ نہیں بنا پاتے کیونکہ وہ خاندانی جھگڑوں، منشیات فروشی یا جرائم پیشہ افراد کے گینگز کے درمیان تشدد کی وجہ سے ہوتے ہیں اور یہ عوامی مقامات تک نہیں پھیلتے۔

ریاست منی سوٹا کی میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں ماہرِ جُرمیات پروفیسر جیمز ڈینسلے کا کہنا ہے امریکہ میں یوں تو قتل کے انفرادی واقعات میں کمی آئی ہے لیکن قتلِ عام کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

پروفیسر ڈینسلے نے کہا کہ ان کے مطابق یہ اضافہ جُزوی طور پر امریکی معاشرے میں ایک ’اشتعال اور مایوسی‘ سے بھرے وقت کی وجہ سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ قتلِ عام کا دور ہے۔‘

امریکی آئین میں کی جانے والی دوسری ترمیم میں شہریوں کے اسلحہ رکھنے کے حقوق کا تحفظ کیا گیا اور قتلِ عام کے واقعات میں اضافے کے باوجود امریکی قانون ساز اسلحے پر کنٹرول کے لیے اصلاحات لانے کے لیے کچھ زیادہ نہیں کر رہے۔

ریاست اوہائیو کے شہر ڈیٹن اور ریاست ٹیکساس کے شہر ایل پاسو میں ہلاکت خیز واقعات کے بعد اگست میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ کانگریس کے رہنماؤں کے درمیان بندوق مالکان کا پس منظر ’معنی خیز‘ طور پر جانچنے کے لیے ’سنجیدہ بحث‘ ہو گی۔

مگر اطلاعات یہ ہیں کہ بندوقوں کی ملکیت کے حوالے سے اصلاحات کے مخالف طاقتور لابی گروہ نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو وین لاپیئر کے ساتھ ایک طویل فون کال کے بعد صدر ٹرمپ خاموشی سے اس وعدے سے دستبردار ہو گئے۔

اس کال کے بعد صدر نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں پس منظر کی جانچ کے لیے ’پہلے ہی بہت سخت معیار‘ موجود ہیں اور کہا کہ قتلِ عام کے واقعات ’ذہنی [صحت کا] مسئلہ ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2019 میں ریاست ٹیکساس کے شہر ایل پاسو کے وال مارٹ سٹور میں فائرنگ کے بعد خواتین علاقے سے نکل رہی ہیں

صفِ اول کے ڈیموکریٹ رہنماؤں نے آتشیں اسلحے پر کنٹرول کے لیے سخت تر اقدامات کی حمایت کی ہے۔

رواں ماہ کی ابتدا میں صدارتی امیدوار اور سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے سینڈی ہُک سکول قتلِ عام کے سات سال مکمل ہونے پر سخت تر کنٹرول کی بات کی۔ ان کے منصوبوں میں خودکار اور نیم خودکار اسلحے کی تیاری اور فروخت پر پابندی اور اسلحے کی ہر طرح کی فروخت پر خریدنے والے کے پس منظر کی لازمی جانچ شامل ہے۔

ایک ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار الزبیتھ وارن نے رواں سال منصوبہ پیش کیا تاکہ قانون سازی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے اسلحے کے ذریعے ہلاکتوں کو 80 فیصد تک کم کیا جا سکے۔

الزبیتھ وارن نے بھی پس منظر کی کڑی جانچ پڑتال کی بات کی ہے جبکہ انھوں نے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اسلحہ ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کرنے کا بھی منصوبہ پیش کیا ہے۔

اسی بارے میں