چین اور ٹوئٹر: رواں سال چینی سفارت کاری نے سوشل میڈیا کا رخ کیا

چین اور ٹوئٹر

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بیجنگ کی سفارتی تقریر اپنی حاضر جوابی کے لیے نہیں جانی جاتی ہے۔

چین پر نظر رکھنے والے مذاقاً یہ کہتے ہیں کہ حکومت کی پریس بریفنگ میں آپ بہ آسانی بنگو کھیل سکتے ہیں اور آپ پہلے سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کون سا فقرہ آنے والا ہے۔

  • چین کے داخلی امور میں مداخلت کے خلاف شدید احتجاج
  • 'ناقابل بیان شرارت آمیز عزائم' اور ’برتری کی خواہش‘ پر تنقید
  • کسی پر 'ایک ارب 30 کروڑ چینی عوام کے جذبات کو مجروح کرنے' کا الزم لگانا

لیکن سنہ 2019 میں کچھ نئی چیزیں واقع ہونا شروع ہو گئیں اور چینی وزارتیں اور سینيئر سفارتکاروں نے باضابطہ طور پر ٹوئٹر پر آنا شروع کیا اور کچھ حد تک غیر سفارتی انداز میں ٹویٹ کرنا بھی شروع کیا۔

بی بی سی نے 55 ایسے ٹوئٹر اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے جنھیں چینی سفارتکار، سفارتخانے اور قونصل خانے چلاتے ہیں جن میں سے 32 کو سنہ 2019 میں بنایا گیا ہے۔

رواں سال انھیں عام بول چال کے انداز میں اور برجستہ ٹویٹس کرتے دیکھا گيا۔ بعض اوقات ان میں ایموجیز اور انٹرنیٹ کے ایل او ایل جیسے مخفف کے ساتھ شیئر کی جانے والی تصاویر اور چھوٹے ویڈیو کلپس بھی شامل تھے۔

سینیئر صحافی اور ہانگ کانگ کی بیپٹسٹ یونیورسٹی میں کمونیکیشن کی اسسٹنٹ پروفیسر روز لوویئی لوکیو کا کہنا ہے کہ 'ٹیوپلومیسی' یعنی ٹوئٹر کے ذریعے سفارتکاری سے پتہ چلتا ہے کہ چین کی سفارتکاری 'مزید سرگرم' ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ چین کا عالمی سامعین سے براہ راست رابطہ کرنا ہے اور چین کے بارے میں عالمی بیانیے پر اثر انداز ہونا ہے۔

خیال رہے کہ چین میں ٹوئٹر پر پابندی ہے اور عوام کو اس تک رسائی نہیں ہے۔ لیکن یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ غیر ملکوں میں رہنے والے سفارتکاروں کی بالکل ہی نئے انداز میں ٹوئٹر کے استعمال کے لیے حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

بے باک سفارتکار

ژاؤ لیجیان چین کے ناقدین کے ساتھ گرما گرم بحث کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔ پاکستان میں چین کے دوسرے نمبر کے سفارتکار مسٹر ژاؤ اب وزارت خارجہ کے انفارمیشن شعبے میں نائب ڈائریکٹر جنرل ہیں وہ سفارتی بیان بازی کی سمت و رفتار تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اپنی ٹوئٹر پروفائل پر وہ لکھتے ہیں کہ وہ 'چین کی کہانی سنانے اور چین کی آواز پہنچانے' کی کوشش کر رہے ہیں۔

ژاؤ شستہ انگریزی میں ٹویٹ کرتے ہیں اور ملک کی تیز رفتار ٹرین سے لے کر چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے نئے فون کیمرے کے آپٹیکل زوم کے بارے میں چین کے مثبت پیغام شیئر کرتے ہیں۔

ان کے مطابق وہ چین کے خلاف پھیلائی جانے والی 'فیک نیوز' اور جھوٹ کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کے پوسٹ کو پروپگینڈا کہتے ہیں لیکن بعض 'مغربی پروپگینڈے' کی قلعی کھولنے کے لیے ان کی تعریف کرتے ہیں۔

مسٹر ژاؤ دراصل ٹوئٹر پر سنہ 2010 سے ہیں اور وہ پہلے چند چینی سفارتکاروں میں شامل ہیں جنھوں نے ٹوئٹر پر اپنا اکاؤنٹ بنایا لیکن انھیں جولائی سنہ 2019 میں وسیع سامعین اس وقت ملے جب انھوں نے امریکہ کی سابق سکیورٹی کی مشیر سوزین رائس سے تلخ مباحثہ کیا تھا۔

سنکیانگ صوبے میں چین کی 'ری ایجوکیشن' کیمپ کی پالیسی کے دفاع میں مسٹر ژاؤ نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں نسلی علیحدگی کا الزام لگاتے ہوئے یہ دعوی کیا کہ نئے سیاہ فام رہائشی سفید فام رہائیشیوں کو بعض علاقوں سے بھگا رہے ہیں جس کی وجہ سے گھروں کی قیمت گر رہی ہے۔

مز رائس نے جواب میں انھیں 'نسل پرست باعث شرم' کہا جس کے جواب میں مسٹر ژاؤ نے انھیں 'افسوسناک حد تک لاعلم' اور 'قابل شرمندگی اور لائق نفرت' قرار دیا۔ بعد میں انھوں نے اپنے ٹویٹس ڈلیٹ کر دیے۔

ٹوئٹر پر مسٹر ژاؤ کے 223000 سے زائد فالوورز ہیں۔ بزفیڈ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ یہ نئے 'پراعتماد لیکن غیر جارح' چین کو پیش کرنے کا وقت ہے۔

وزارت کی جانب سے کوئی روک ٹوک نہیں

'دیوقامت پانڈا گنجے باز سے زیادہ خطرناک ہے؟ کنگفو پانڈا سے سب پیار کرتے ہیں۔'

پہلی نظر میں یہ بےتکی اور اوٹ پٹانگ سے بات لگتی ہے لیکن در حقیقت یہ پوری دنیا کے لیے چین کی وزارت خارجہ کا آفیشیئل ٹویٹ ہے۔ یہ ٹویٹ ان مضامین کے جواب میں آیا تھا جس میں چین کے بارے میں بین الاقوامی خدشات سے متنبہ کیا گیا تھا۔

وزارت خارجہ نے دسمبر 2019 میں انگریزی زبان میں ٹویٹ کرنا شروع کیا اب تک اس کے تقریباً 16000 فالوورز ہو چکے ہیں۔

اس میں 'چین کی سفارتکاری کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے کے لیے فالو کرنے' کی دعوت دی جاتی ہے اور اس میں زیادہ تر وزارت کی پریس بریفنگ کا انگریزی ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔

بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات اس کے ٹویٹ کا لہجہ بہت حد تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ہائی پروفائل ٹوئٹر اکاؤنٹ جیسا ہوتا ہے۔

اس اکاؤنٹ سے امریکہ کو چینی ٹکینالوجی کو دبانے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس پر ہانگ کانگ، تائیوان اور سنکیانگ کے متعلق چینی موقف پر دھبہ لگانے کا الزم بھی لگایا ہے۔

اس نے امریکی پارلیمان کی سپیکر نینسی پلوسی پر بھی طنز کیا ہے اور انھیں اپنے ملکی امریکیوں کے 'آنسو اور خون' کی یاد دہانی کرائی اور تمام بولڈ حروف میں لکھا کہ امریکہ 'مسلمان سے متعلق مسائل کے بارے میں سب سے بڑا جھوٹا ہے۔'

'فیک نیوز' حملے

ٹویٹر پر چینی سفارتکاروں کی موجودگی میں اچانک اضافہ اس وقت دیکھا جا رہا ہے جب ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہرے، سنکیانگ میں اویغیور کیمپس اور چین امریکہ تجارتی جنگ جیسے مسائل پر چین عالمی دباؤ سے نمٹ رہا ہے۔

واشنگٹن میں ایک اہم چینی سفیر سوئے ٹیانکائے نے مذکورہ مسائل سے متعلق عالمی میڈیا کی رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے۔

حال ہی میں پانچ ٹویٹس کے اپنے ایک سلسلے میں مسٹر سوئے نے لکھا 'افواہ بازوں' نے 'فیک نیوز' گھڑ لی ہے جو کہ ہانگ کانگ اور سنکیانگ کے حالات کو 'سنجیدہ طور پر توڑ مروڑ کر' پیش کرتے ہیں۔

ہر چند کہ مسٹر سوئے نے کسی 'افواہ باز' کا نام نہیں لیا لیکن ان کا ٹویٹ اس وقت آیا جب بی بی سی سمیت بہت سے بین الاقوامی میڈیا نے سنکیانگ کے حراستی کیمپ کے لیک ہوجانے والے حکومتی دستاویزات کی بنیاد پر رپورٹس پیش کیں۔

چین کا دعوی ہے کہ یہ انتہائی سکیورٹی والے کیمپ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے رضاکارانہ طور پر ری ایجوکیشن کے مقاصد کے لیے ہیں۔

اسی طرح لندن میں چینی سفیر لیو شیومنگ مہینوں سے جاری ہانگ کے مظاہرے کے متعلق ٹوئٹر پر کھل کر بولتے رہے ہیں۔

جب ہانگ کانگ کے مظاہرین نے ایک شہری کو آگ لگا دی تو مسٹر لیو نے برطانوی میڈیا کوریج کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ اسی طرح کے حالات میں برطانیہ کی پولیس کس طرح پیش آتی۔

ٹ اباؤٹ ازم' یعنی کیا خیال ہے؟

چینی حکام کی ٹوئٹر پر خاص حکمت عملی یہ پوچھنے کی رہی ہے کہ 'آپ کا کیا خیال ہے' جبکہ دوسرے ممالک میں زیادہ خراب مسائل ہیں اس کے ساتھ وہ ان پر منافقت کا الزام لگاتے ہیں۔

'وٹ اباؤٹ ازم' سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کی کلاسیکی حکمت عملی تھی اور سوشل میڈیا کے اس عہد میں اسے عالمی سطح پر مقبولیت ملی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے سنکیانگ میں چین کی پالیسی کے دفاع میں افغانستان، عراق اور شام میں امریکہ کی فوجی کارروائیوں کا ذکر آتا ہے اور چینی خطوں میں امریکہ کی پریشانی پیدا کرنے کی کوششوں کے خلاف متنبہ کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر لندن برج پر ہونے والے حملے پر چینی وزارت خارجہ کے ٹوئٹر ہینڈل سے تعزیتی پیغام بھیجا گيا اور اس موقعے پر یہ بھی کہا گیا کہ جب دہشت گردی سے نمٹنے کی بات آتی ہے تو چین کو 'دوہرے معیار' کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔

اسی طرز پر دوسرے سفارتکار بھی عمل پیرا ہیں۔ بے باک سفارتکار ژاؤ لیجیان کی دلیل ہے کہ چین کے بجائے امریکہ عالمی بد امنی اور افراتفری پیدا کرتا ہے۔

اسے کس طرح دیکھا جاتا ہے؟

کانٹربری یونیورسٹی میں چینی سیاست کی ماہر پروفیسر اینی میری بریڈی کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر ایک اہم جنگ کا میدان ہے کیونکہ یہ 'بہت سے معاشرے میں سیاسی ایلیٹ کے خیالات کو بنانے کا براہ راست راستہ ہے۔'

ٹوئٹر صارف یہ کہہ کر دباؤ بناتے ہیں کہ وہ چین کے 'جھوٹ' پر یقین نہیں کرتے اور سفارتکاروں سے کہتے ہیں کہ وہ چین سے لوگوں کی توجہ دوسری جانب مبذول کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

جبکہ بعض چینی سفارتکاروں کی پہلے نہ بولے جانے والے 'سچ' کے لیے تعریف کرتے ہیں۔

مثبت بیان کے خلاف کوئی شواہد نہیں ہیں اس لیے انھیں حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

لیکن چینی حکومت انٹرنیٹ کے مبصرین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے جانی جاتی ہے جو کہ ملکی رائے عامہ کو حق میں موڑنے کا کام کرتے ہیں۔ اور ایسی علامات ہیں کہ بیجنگ بین الاقوامی سطح پر اس کی کوشش کرتی ہوگی۔

اگست میں ٹوئٹر اور فیس بک نے اپنے پلیٹ فارمز سے سینکڑوں اکاؤنٹ ہٹائے جو ان کے مطابق ہانگ کانگ کے مظاہرے کے متعلق سرکاری حمایت میں غلط معلومات فراہم کرنے کی مہم چلا رہے تھے۔

سمت میں تبدیلی

سفارتکاروں کا یقیناً یہ کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے مفادات کا فروغ اور اس کا تحفظ کریں۔ لیکن چینی سفارتکاروں کی ٹوئٹر پر اچانک آمد سے چین کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی پر روشنی پڑتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نومبر میں وزیر خارجہ وانگ یی نے سفارتکاروں کو 'فائٹنگ سپرٹ' کے مظاہرے کے احکام دیے جو کہ ان کے پہلے احکام 'اپنی طاقت کو چھپاؤ اور وقت کا انتظار کرو' کے بالکل مخالف ہے۔

'طاقت کو چھپاؤ' والی حکمت عملی جسے سابق چینی رہنما ڈینگ شیاؤپنگ نے سنہ 1990 میں متعارف کرایا تھا اب اسے بعض لوگ پرانا کہنے لگے ہیں کیونکہ چین اب اتنا طاقتور ہو چکا ہے۔

چین اب اپنے سرکاری میڈیا کوریج کو مغربی دنیا تک پہنچانے کا آرزو مند ہے اور ہانگ کانگ جیسے مسئلے پر پروموٹ کیے جانے والے ٹویٹ کے لیے پیسے ادا کر رہا ہے جو کہ عام طور پر عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مخالف نظر آتا ہے۔

بی بی سی چینی سروس نے جو سرکاری ریکارڈز دیکھے ہیں ان کے مطابق سرکاری میڈیا نے گذشتہ دو برسوں میں نجی کمپنیوں کو یوٹیوب، فیس بک، لنکڈ ان اور ٹوئٹر پر اپنی خبروں کو پروموٹ کرنے کے لیے لاکھوں یوان ادا کیے۔

ٹوئٹر نے حال ہی میں عالمی سطح پر سرکاری میڈیا سورسز کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چینی میڈیا کے لیے یہ 'مناسب' ہے کہ وہ چین کی کہانی ٹوئٹر پر پیش کرے۔

لیکن چین کے بارے میں عالمی بیانیہ بدلنے کی کوشش کرنے والے ان سفارتکاروں کے ذہن میں دوسرا ہدف یہ بھی ہوگا کہ وہ ملک میں پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی وفاداری کا عہد کریں۔

جب چین کی خارجہ پالیسی کی بات آتی ہے تو وزارت خارجہ کے بجائے کمیونسٹ پارٹی کی بات حتمی ہوتی ہے۔

ملک کے سفیروں کو پارٹی کے گائڈ لائنز کی مکمل طور پر پیروی کرنی ہے اور وہ اس معاملے میں کمزور نافرمان نظر نہیں آ سکتے ہیں۔ چین کی سینیئر صحافی روز لوویے لیکوے کا کہنا ہے کہ مغرب کے خلاف ’جھگڑالو‘ ہونا حکام کے لیے سفارتکاری کا 'سب سے درست سیاسی' طریقہ ہے۔

اس لیے جب تک صدر شی جن پنگ کے پاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ’خارش دار ٹوئٹر انگلی‘ نہیں ہے دسیوں چينی سفارتکار ان کے خیالات یا ان کے خیال میں جو ان کے خیالات ہیں، کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں