امریکہ کے شام اور عراق میں شیعہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کے اڈوں پر حملے، ایران کی مذمت

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران نے عراق میں اپنی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے خلاف امریکی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’کھلم کھلا دہشت گردی‘ اور عراقی سرزمین پر ’عسکری جارحیت‘ قرار دیا ہے۔

امریکہ نے اتوار کو عراق اور شام میں کتائب حزب اللہ نامی عسکریت پسند گروہ کے اڈوں پر حملے کیے اور ان کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اتحادی افواج پر حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔

خیال رہے کہ 27 دسمبر کو کرکوک میں ایک فوجی اڈے پر حملے میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلاک اور متعدد امریکی فوجی اور عراقی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

عراق میں اتوار کو ہونے والے فضائی حملے شام کی سرحد کے نزدیک واقع مشرقی ضلع القائم کے قریب ہوئے۔

مزید پڑھیے

امریکہ، ایران اور خلیج: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

امریکہ، ایران تعلقات میں کشیدگی کا نیا دور؟

کیا ایران پڑوسی ملک عراق میں میزائل ذخیرہ کر رہا ہے؟

امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں كتائب حزب الله کی اسلحے کے ذخیروں اور کمانڈ سنٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ کتائب حزب اللہ کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

عراق کے عسکری ذرائع کے مطابق ان حملوں میں شیعہ ملیشیا کے 25 ارکان ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ’عراق کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے اور اس کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی بند کرے۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ان حملوں سے امریکہ کے اس دعوے کی بھی نفی ہوتی ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ رہا ہے کیونکہ اس نے ان افواج کو نشانہ بنایا ہے جنھوں نے گذشتہ برسوں میں داعش کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘

عباس موسوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان حملوں سے واضح ہے کہ امریکہ دہشت گردی کا حامی ہے اور اسے دیگر ممالک کی آزادی اور خودمختاری کا کوئی پاس نہیں۔‘

تاہم ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حکومتی ترجمان علی ربائی نے 30 دسمبر کو بیان میں کہا ہے کہ 'ہم امریکی فوج پر ہونے والے حملے میں کسی بھی طرح ملوث ہونے کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔'

انھوں نے ایران کی حمایت یافتہ کتائب حزب اللہ ملیشیا پر امریکی جوابی حملے کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے 'غیر قانونی' اور 'بلاجواز' قرار دیا۔ جبکہ امریکہ کے خیال میں یہ حملہ کتائب حزب اللہ ملیشیا نے کیا تھا۔

فارس کے مطابق حکومتی ترجمان علی ربائی کا کہنا تھا کہ 'بنا ثبوت کے یہ دعویٰ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ببماری اور لوگوں کو ہلاک کرنے کا جواز پیش نہیں کرتا۔'

اس سے قبل ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے بھی عراقی شیعہ ملیشیا پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے 'دہشت گردی کی کھلم کھلا کارروائی' قرار دیا تھا۔

جبکہ عراقی نیم فوجی دستے پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے ایک اہم کمانڈر نے دھمکی دی ہے کہ اس گروہ کے خلاف حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں عراق میں امریکی افواج کو نشانہ بنایا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے لیے قدس فورس دراصل مشرقِ وسطی میں امریکہ کی جانب سے دہشتگرد قرار دی گئی تنظیموں کی 'امداد اور افزائش' کا کام کرتی ہے

بیروت میں قائم عراق پر خبریں دینے والی ویب سائٹ السومریہ نیوز نے ابو مہدی المہندس کے 29 دسمبر کے ایک بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'شہدا اور زخمیوں کا خون رائیگاں نہیں ہو جائے گا اور عراق میں امریکی افواج کے خلاف ردعمل سخت کیا جائے گا۔‘

شام کی سرحد کے قریب مغربی صوبہ الانبار میں پی ایم ایف کے القائم کے ٹھکانوں پر امریکی 'ڈرون حملوں' میں 25 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہو گئے تھے۔

مہندس جو ایرانی شہریت رکھتے ہیں اور اب اس گروہ کے چیف آف سٹاف ہیں، سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کی جانب سے اس گروہ کی تنظیم نو کی منظوری دیے جانے سے قبل پی ایم ایف کی نائب سربراہ اور فیلڈ کمانڈر رہ چکے ہیں۔

اس سے قبل امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان جوناتھن ہوفمین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ ’دفاعی حملے‘ کتائب حزب اللہ کے اتحادی افواج پر حالیہ حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان فضائی حملوں میں کتائب حزب اللہ کی پانچ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں سے تین عراق جبکہ دو شام میں تھیں۔

ہافمین نے کہا کہ ’اگر ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہ کتائب حزب اللہ کو مزید امریکی دفاعی حملوں سے بچنا ہے تو اسے امریکی اور اتحادی افواج پر حملے روکنے ہوں گے۔‘

کتائب حزب اللہ کیا ہے؟

کتائب حزب اللہ ایک شیعہ مسلمان ملیشیا گروہ ہے جس کی بنیاد سنہ 2007 میں ڈالی گئی تھی۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس گروہ کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔

امریکہ کے مطابق کتائب حزب اللہ کے ایران کی قدس فورس کے ساتھ گہرے روابط ہیں اور اسے ایران سے مسلسل امداد ملتی رہی ہے جو اس نے امریکی اتحاد پر حملوں میں استعمال کی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ قدس فورس دراصل مشرقِ وسطی میں ایران کے لیے امریکہ کی جانب سے دہشتگرد قرار دی گئی تنظیموں کی ’امداد اور افزائش‘ کا کام کرتی ہے۔

ان کے مطابق ایران لبنان کی حزب اللہ اور فلسطینی اسلامی جہاد سمیت دیگر تنظیموں کو مالی امداد، تربیت، اسلحہ اور سازوسامان فراہم کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حالیہ مظاہروں کے دوران ان مظاہرین نے ایرانی قونصلیٹ کی متعدد عمارتوں کو نذر آتش بھی کیا ہے

ایران عراق میں کیا کر رہا ہے؟

سنہ 2003 میں امریکہ کی سربراہی میں عراقی صدر صدام حسین کا تختہ الٹا دیا گیا تھا۔ اس وقت سے ایران کا عراق کے داخلی امور میں اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے عراقی حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والے شیعہ سیاست دانوں سے قریبی روابط ہیں۔ اس کے علاوہ ایران نے عراقی پوپولر موبیلائزیشن نامی نیم فوجی دستوں کی بھی حمایت کر رکھی جس میں اکثریت شیعہ ملیشیا کی ہے۔

عراق میں مظاہرین ایران پر الزام عائد کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ عراق میں بحران اور بدعنوانی کا ذمہ دار ہے۔ حالیہ مظاہروں کے دوران ان مظاہرین نے ایرانی قونصلیٹ کی متعدد عمارتوں کو نذر آتش بھی کیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے عراق میں ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری ایران کی حمایت یافتہ فورسز پر عائد کی۔

انھوں نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے کسی بھی ایسے حملے کا ’فیصلہ کن جواب دے گا‘ جس میں امریکہ یا اس کے اتحادی متاثر ہوں۔

اسی بارے میں