قاسم سلیمانی کا جنازہ پڑھانے والے پاکستانی آیت اللہ بشیر حسین نجفی کون ہیں؟

آیت اللہ بشیر نجفی تصویر کے کاپی رائٹ www.alnajafy.com

عراق میں امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے جنازے کے جلوسوں میں لاکھوں افراد شریک ہو رہے ہیں۔

ان کی میت کی ایران آمد کے بعد پیر کو تہران میں ان کی نمازِ جنازہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے پڑھائی لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جب سنیچر کو عراق میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی تو اس کی امامت کرنے والا شخص ایک پاکستانی تھا۔

نجف میں جنرل سلیمانی کی نمازِ جنازہ 78 سالہ آیت اللہ حافظ بشیر حسین نجفی نے پڑھائی جن کا شمار عراق کی اہم ترین مذہبی شخصیات میں ہوتا ہے اور وہ نجف میں اثنا عشری شیعوں کے اہم مراجع میں سے ایک ہیں۔

مرجع یا مرجع تقلید کا مقام ایسے شیعہ علما کو دیا جاتا ہے جنھیں دیگر علما اور عام شیعوں کی رہنمائی کے لیے اسلامی قوانین کے تحت قانونی فیصلے کرنے کا حق ہو۔

یہ بھی پڑھیے

قاسم سلیمانی: ایرانیوں کا ہیرو، امریکہ میں ولن

ایرانی جنرل کو مارنے کا فیصلہ ’جنگ روکنے‘ کے لیے کیا

قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور ذہن میں گردش کرتے سوالات

آیت اللہ حافظ بشیر حسین النجفی کا جنم تقسیمِ برصغیر سے قبل ہوا تھا اور قیام پاکستان کے وقت ان کے والد جالندھر سے لاہور کے قریب واقع باٹا پور منتقل ہو گئے تھے۔

انھوں نے عربی گرائمر اور فقہ کی ابتدائی تعلیم اپنے دادا محمد ابراہیم اور چچا خادم حسین سے حاصل کی اور پھر لاہور میں جامعہ منتظر میں آیت اللہ اختر عباس قدس کی سرپرستی میں زیر تعلیم رہے اور بعدازاں خود بھی درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔

ان کے بھائی علامہ عابد حسین بھی عالم تھے جبکہ دو بھائی شاعری بھی کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ www.alnajafy.com
Image caption آیت اللہ حافظ بشیر حسین النجفی عراق کی اہم مذہبی اور سیاسی شخصیت ہیں

1960 کی دہائی میں حافظ بشیر نجفی عراق پہنچے جہاں نجف میں انھوں نے آیت اللہ محمد کاظم تبریزی، آیت اللہ سید محمد روحانی، آیت اللہ سید ابو القاسم خوئی جیسے نامور علما کے پاس اصول اور فقہ کا درس حاصل کیا۔

نجف میں اسلام کے چوتھے خلیفہ اور پیغمبرِ اسلام کے داماد حضرت علی کا مزار ہے اور اس کا شمار شیعوں کے مقدس مقامات میں ہوتا ہے۔

شیعت کی دینی تعلیم کے لیے عراق میں نجف اور ایران میں قُم کو مرکزی مقام حاصل ہے جہاں مستقبل کے شیعہ علما کو تعلیم دی جاتی ہے۔

بشیر نجفی کی ذاتی ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے سنہ 1966 میں نجف میں حوزۂ علمیہ میں تدریس کا باقاعدہ آغاز کیا اور مختلف ادبی، منطقی، فلسفی، اصولی اور فقہی علوم کی تعلیم دیتے رہے۔

نجف میں حوزۂ علمیہ نامی ابو جعفر محمد بن حسن طوسی نے دسویں صدی عیسوی میں قائم کی تھی۔ آیت اللہ بشیر نجفی اسی درسگاہ سے وابستہ ہیں، انھوں نے اپنی زندگی یہاں کے لیے وقف کر دی ہے۔

عراقی صدر صدام حسین کے دور حکومت میں اس درس گاہ پر حملے میں بشیر نجفی زخمی بھی ہوئے تھے۔

آیت اللہ بشیر نجفی کے ایک بھائی، بڑا بیٹا اور خاندان کے دیگر اراکین پاکستان میں مقیم ہیں لیکن پاکستان میں ان کے نمائندے علامہ سبطین سبزواری کے مطابق آیت اللہ نجفی جب سے عراق گئے ہیں انھوں نے واپس پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’حسرت ہے کہ وہ ایک بار پاکستان ضرور آئیں۔ جب سے گئے ہیں انھوں نے یہاں کا رخ نہیں کیا، اس عرصے میں ان کے والد، چچا اور بڑے بھائی اور بہنیں فوت ہو گئے لیکن وہ نہیں آئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ www.alnajafy.com
Image caption بشیر نجفی کی ذاتی ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے سنہ 1966ء میں نجف میں تدریس کا باقاعدہ آغاز کیا اور مختلف ادبی منطقی، فلسفی، اصولی اور فقہی علوم کے ذریعے طلبہ کے شعور و عقل کو منور کرتے رہے

سبطین سبزواری کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ وہ یہاں آتے تو اس مقام پر نہ پہنچتے۔ اس کے لیے کئی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ مراجع کا جو کردار وہاں بیٹھ کر ہو سکتا ہے وہ وہاں سے نکل کر ادا نہیں کیا جاسکتا۔ افغانستان اور پاکستان میں کچھ آیت اللہ آئے لیکن ملکی سطح پر تو ان کا فتویٰ چل جاتا ہے لیکن پوری دنیا میں وہ اعزاز حاصل نہیں ہوتا۔ نجف میں بیٹھ کر تو مذہبی اور سیاسی حوالے سے اس کا کردار بہت بڑا ہو گا۔‘

علامہ سبطین سبزواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بڑے بیٹے انجنیئر ہیں جبکہ چھوٹا بیٹا دبئی میں تجارت سے وابستہ ہے جبکہ دو بیٹے عالم دین ہیں جن میں سے شیخ علی النجفی اپنے والد کے ترجمان بھی ہیں۔

مذہبی اہمیت کے علاوہ خطے کی سیاست پر مشاورت کے معاملے میں بھی آیت اللہ بشیر نجفی کو اہم مقام حاصل رہا ہے۔

گذشتہ برس ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی ان سے ملاقات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ www.alnajafy.com

اس سے قبل سنہ 2016 میں آیت اللہ بشیر اور جمعے کو امریکی حملے میں قاسم سلیمانی کے ہمراہ مارے جانے والے عراقی کمانڈر ابو مہدی مہندس کی ملاقات کی ایک تصویر بھی سامنے آئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں آیت اللہ بشیر نجفی نے انھیں ہدایت کی تھی کہ عراق کو داعش سے صاف کیا جائے۔

آیت اللہ بشیر نے قاسم سلیمانی اور ابو مہدی مہندس کی ہلاکت کی بعد اپنے بیان میں ان دونوں شخصیات کو ہیرو قرار دیتے ہوئے عراق کی حدود کی خلاف ورزی، خود مختاری اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کی مذمت کی اور کہا کہ یہ امر قابل افسوس ہے کہ عراق کو جنگ کا میدان بنایا گیا۔

آیت اللہ بشیر نجفی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

وہ یتیم خانوں، تعلیمی اداراوں سمیت مختلف فلاحی اداروں کی سرپرستی بھی کرتے ہیں اور خصوصاً صدام حسین کے دورِ حکومت کے بعد انھوں نے ان مدارس اور امام بارگاہوں کی تعمیر نو پر خصوصی توجہ دی جو اس دور میں متاثر ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں