کیا ایران میں یوکرین کے طیارے کی تباہی واقعی ایک اہم موڑ ہے؟

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اندرونِ ملک اس المناک حادثے کے گہرے اور شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

کئی دن کے انکار کے بعد آخر کار ایرانی حکام نے اعتراف کر لیا کہ یوکرین کا مسافر بردار طیارہ ’غیر ارادی طور پر‘ اور ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے گرا تھا۔

اس طیارے کے گرنے کی اطلاعات اس وقت ہی موصول ہونا شروع ہو گئی تھیں جب ایران، جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے جوابی کارروائی میں عراق میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کر رہا تھا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اسی کشیدگی کے دوران ایرانی فضائی دفاع کے ایک اہلکار نے پرواز نمبر پی ایس 752 کو ایک کروز میزائل سمجھا اور اسے نشانہ بنا کر گرا دیا اور اس طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

یوکرینی طیارے کی تباہی: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

’یوکرین کے طیارے پر غلطی سے میزائل داغے گئے‘

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے، گرفتار برطانوی سفیر رہا

ابتدائی طور پر ایران نے اس حادثے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا تھا لیکن امریکی اور کینیڈا کی خفیہ ایجنسیوں نے ایسے شواہد کا انکشاف کیا کہ یہ طیارہ ایران کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایک میزائل کا نشانہ بنا تھا۔ جس کے بعد سے ایران پر اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کھلے عام عالمی دباؤ میں اضافہ ہو گیا۔

تہران کے اپنے ابتدائی بیانات کو بالکل بدل دینے اور اس حادثے کی پوری ذمہ داری قبول کرنے کے فیصلے پر کینیڈا، برطانیہ، جرمنی اور سویڈن سمیت متعدد ممالک کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا، حتیٰ کے ایسے افراد کی جانب سے بھی جن کے رشتہ دار اس طیارے میں سوار تھے۔

غلطی کے اعتراف کو بالآخر ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا گیا۔

لیکن ان حکومتوں کے عہدیداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس اعتراف کے بعد ایران کی طرف سے تعمیری طرز عمل کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے۔ اس کا مطلب اس حادثے کی شفاف تفتیش، لاشوں کی وطن واپسی اور متاثرین کو معاوضے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اس طرح کے حادثات کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات کرنا ہے۔

عالمی سطح پراس پرواز کے حادثے کے نتیجے میں کشیدگی بڑھنے کا امکان نہیں ہے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے پچھلے چند مہینوں سے جاری کشیدگی کو دور کرنے کا موقع مل سکے۔

تاہم اندرونِ ملک اس المناک حادثے کے گہرے اور شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس پرواز کے گرنے سے چند دن قبل ایران نے ایک بے مثال اتحاد اور عوامی حمایت کا مظاہرہ کیا تھا جب لاکھوں افراد قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر سوگ منانے کے لیے ملک بھر میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب بیرونی سطح پر فوجی محاذ آرائی کے خطرے کا سامنا ہو تو مختلف سیاسی اور معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والے ایرانی اپنے اختلافات بھلا کر اکٹھے ہوسکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طیارے کے گرنے سے چند دن قبل ایران نے ایک بے مثال اتحاد اور عوامی حمایت کا مظاہرہ کیا تھا

لیکن فلائٹ پی ایس 752 کو گرائے جانے اور اس کے بعد حکام کے انکار سے یہ اختلافات دوبارہ ابھر کر سامنے آ سکتے ہیں اور ان میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

اگرچہ غلطی کا اعتراف اس تنقید کو کم کر سکتا ہے کہ سنگین صورتحال سے صحیح طرح سے نہیں نمٹا گیا، لیکن کچھ لوگ شاید پھر بھی یہیں سمجھیں کہ عالمی دباؤ سے پہلے ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے ثبوت چھپائے اور ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی۔

اس سے نومبر جیسے حالات دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے گذشتہ برس نومبر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں ملک بھر میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے تھے جن میں کم از کم 300 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اگرچہ سچائی کا اعتراف ایک اہم پہلا قدم ہے ، لیکن ایرانی عوام ممکنہ طور پر جوابدہی اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کریں گے اور ساتھ ہی ایسے اقدامات کیے جانے کا بھی مطالبہ کریں گے جو یہ یقینی بنائیں کہ آئندہ ایسا کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔

لوگ اس طرف بھی توجہ دیں گے کہ ایرانی اشرافیہ اس حادثے کے شکار افراد کے ساتھ کیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہاں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ آیا حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے بھی سلیمانی جیسا سوگ منایا جائے گا یا نہیں، یا انھیں بڑے پیمانے پر نظرانداز کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکومت اور اسٹیبلشمنٹ جس طرح سے اس طیارہ حادثہ کے نتیجےمیں پیدا ہونے والی صورتحال کو سنبھال رہی ہے، یہ ایران کے لیے ایک تاریخی لمحہ بھی ثابت ہوسکتا ہے

ان تمام مطالبات کو ملک کی معاشی حالت اور معاشرتی آزادیوں پر پابندیوں سے متعلق گذشتہ عرصے سے جاری شکایات میں شامل کیا جائے گا۔

ایران میں پارلیمانی انتخابات صرف ایک ماہ میں ہونے والے ہیں اور اس حادثے سے متعلق داخلی تنازعات مزید بدامنی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مغرب کے ساتھ تناؤ کم ضرور ہوا ہے لیکن ابھی یہ ختم ہونے سے بہت دور ہے۔

حکومت اور باقی اسٹیبلشمنٹ جس طرح سے اس حادثے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو سنبھال رہی ہے، یہ ایران کے لیے ایک تاریخی لمحہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

امکان ہے کہ آنے والے چند دنوں میں کیے جانے والے اقدامات کے اثرات، مہینوں بلکہ برسوں تک ہمیں ایرانی سیاست اور معاشرے پر دکھائی دیتے رہیں۔

اسی بارے میں