جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت: وہ پانچ وجوہات جن کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور امریکہ میں جاری کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی

ایران تصویر کے کاپی رائٹ EPA

شکر ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کے بعد پیدا ہونے کشیدگی نے مکمل جنگ کی صورت اختیار نہیں کی۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کشیدگی میں کمی ہوئی ہے۔

لیکن ان دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر لے جانے والے بنیادی عوامل میں سے کوئی بھی تبدیل نہیں ہوا۔ یہ بحران ختم ہونے سے بہت دور کیوں ہے، اس کی پانچ بنیادی وجوہات ہیں۔

1) کشیدگی میں کمی صرف عارضی ہے

چند تجزیہ کار جو اس کو کشیدگی میں کمی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، ایسا نہیں ہے۔

ایران کے رہنما، جو قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر بہت پریشان ہیں، وہ سب کچھ کر چکے ہیں جو وہ اس ہلاکت کے ردعمل کے طور پر کر سکتے تھے۔

ایران ردعمل کے طور پر امریکی ٹارگٹس کو نشانہ بنانا چاہتا تھا اور اس کی یہ خواہش بھی تھی کہ پیغام واضح ہو۔ اسی لیے انھوں نے اپنے ملک کی حدود سے امریکی ٹارگٹس پر میزائل داغے۔

یہ بھی پڑھیے

یوکرینی طیارہ: ایران پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

مشرق وسطیٰ کے بحران میں کون جیتا، کون ہارا؟

’یوکرین کے طیارے پر غلطی سے میزائل داغے گئے‘

ایران کے ان اقدامات کے حوالے سے عملی اور سیاسی رکاوٹیں تھیں۔ ایران بہت جلد جواب یا ردعمل دینا چاہتا تھا۔ مگر ایرانی اقدامات غیر متوازن تھے اور ان کا مقصد مکمل جنگ کی شروعات کرنا نہیں تھا۔

جیسا کہ ایران کی حکومت کے بہت سے ترجمان کہہ چکے ہیں یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

یہ بھی تجزیہ دیا گیا کہ ایران کی جانب سے یوکرینی مسافر طیارے کو نشانہ بننے کا اعتراف درحقیقت کشیدگی کم کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ یہ کہنا غلط ہے۔

ایران کا فطری ردعمل یہ تھا کہ وہ اس معاملے میں ملوث نہیں ہے۔ مگر جب امریکہ نے دعوی کیا کہ ان کی انٹیلیجینس ایران کے دعوؤں کی تردید کرتی ہے، جب یوکرینی تفتیش کاروں نے جہاز پر میزائل حملے کے ثبوت کھوج نکالے اور جب غیر جانبدار تفتیش کاروں نے ثابت کر دیا کہ جہاز کو میزائل کا نشانہ بنانے والی ویڈیو درست ہے، تو ایران کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اپنے پہلے مؤقف سے پیچھے ہٹے۔

درحقیقت جیسے ہی بلڈوزرز نے جہاز گرنے کے مقام سے ملبہ اٹھانے کا کام شروع کیا تو یہ واضح ہو چکا تھا ایران کو معلوم ہے کہ طیارے کے ساتھ کیا ہوا تھا۔

اگر کوئی تیکنیکی حادثہ ہوا ہوتا تو ایرانی حکام اس بات کو یقینی بنانے کے حادثے کے مقام پر موجود جہاز کے ملبے کو کوئی ہاتھ بھی نہ لگائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایران کے اعتراف کا اس کے اندرونی مسائل سے بھی تعلق ہے۔ چند ماہ قبل ایرانی عوام نے ملک میں بدعنوانی اور گراوٹ کی شکار معیشت کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔

اب دیکھیے مظاہرے کہاں ہیں۔ اس کا مقصد ملک میں نقصان کو محدود کرنے کے لیے تھا نہ کہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنا۔

2) امریکہ کی پالیسی تبدیل نہیں ہو رہی

امریکہ نے قاسم سلیمانی کو کیوں ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے واقعے میں یمن میں ایران کے ایک اور سینیئر افسر کو مارنے کی کوشش کیوں کی؟

امریکہ کا دعوی ہے کہ ایسا انھوں نے اس لیے کیا کیونکہ وہ امریکی مفادات کو لاحق شدید خطرات کو کم کرنا چاہتے تھے۔ اور یہ دعوی شاید قانونی وجوہات کی بنا پر کیا گیا۔

امریکہ کے اس دلیل سے بہت سے تجزیہ کار اور صدر ٹرمپ کے واشنگٹن میں موجود سیاسی مخالفین متفق نہیں ہیں۔

امکان ہے کہ ان حملوں کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ قوت مزاحمت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے واضح لائن لگا دی جائے۔ قلیل مدتی اقدام کے طور پر شاید یہ کام کرے۔ ایران مستقبل میں اپنے اقدامات کو بہت سوچ سمجھ کر ترتیب دے گا۔

لیکن اسی اثنا میں صدر ٹرمپ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ یہ اشارے بھی دے رہے ہیں کہ امریکہ مشرق وسطی سے نکلنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ مشرق وسطی کے مسائل کو اپنا نہیں بلکہ دوسروں کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔

امریکہ ایرانی معیشت کو مزید بدتر کرنے کے اقدامات جاری رکھے گا۔ مگر امریکہ تہران کو ہتھیار ڈالنے کے لیے بات چیت کی میز پر نہیں لایا بلکہ اس نے ایران کو مجبور کیا کہ وہ ردعمل میں کوئی اقدام کرے جس کی مدد سے ایران پر دباؤ کو مزید بڑھایا جا سکے۔

امریکہ ایران پر دباؤ بڑھانا بھی چاہتا ہے مگر اس خطے میں جھونکے گئے اپنے وسائل میں کمی بھی کرنا چاہتا ہے۔ شاید وہ یہ دونوں کام اکھٹے نہ کر سکے۔

3) ایران کے سٹریٹیجک اہداف پہلے جیسے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران کی معیشت تنزلی کا شکار ہے اور اس کے بہت سے شہری اس پر بہت زیادہ ناخوش بھی ہو سکتے ہیں مگر ایران میں 'انقلابی راج' ہے۔

یہ طاقت کو استعمال کو اچانک سے ختم نہیں کر دے گا۔ مختلف گروہ جیسا کہ پاسدارانِ انقلاب بہت زیادہ طاقتور ہیں۔

ایران کا ردعمل ملک میں لوگوں کو خاموش کروانے اور امریکی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہے۔ اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

ایران کا سٹریٹیجک ہدف یہ ہے کہ وہ اس خطے سے امریکہ کو نکال باہر کرے، کم از کم عراق سے۔ اور قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے ایران اپنے اس ہدف کے مزید قریب آ گیا ہے۔

ایرانی حکام کے تناظر سے دیکھا جائے تو تہران کی پالیسی کو کافی کامیابیاں ملی ہیں۔ ایران شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کو بچانے اور اس کے ذریعے اسرائیل کے خلاف ایک اور محاذ کھولنے میں کامیاب رہا ہے۔ جبکہ عراق پر ایران کا خاطر خواہ اثرورسوخ ہے۔

صدر ٹرمپ کی پالیسیوں میں موجود تضادات کی وجہ سے اس خطے میں موجود امریکی اتحادیوں میں اب یہ رائے تیزی سے پنپ رہی ہے کہ اب انھیں اپنے آپ پر انحصار کرنا پڑے گا۔

سعودی عرب ایران سے بات چیت کا آغاز کرنے کے لیے نچلی سطح پر کوششیں جاری رکھے ہوئے۔ ترکی اپنی پالیسی پر رواں دواں ہے اور روس کے ساتھ نئے تعلقات استوار کر رہا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ صرف اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ سلیمانی کی ہلاکت امریکہ کی خطے میں ایک نئی انگیجمنٹ ہے۔

اسرائیل کو شاید مایوسی ہو۔

اندرونی خلفشار اور گرتی ہوئی معیشت شاید پاسدارانِ انقلاب کو مجبور کرے کہ امریکہ پر وقت کے ساتھ اضافہ کرے۔ اسے دو بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ انتقام لینے کے لیے تیار ہو رہا ہو گا۔

4) عراق کی پوزیشن میں تضادات ہیں

امریکی افواج کے اب عراق سے نکل جانے کے اشارے اب کافی واضح ہیں۔

عراق میں ہونے والے مشہور مظاہروں کے باعث عراقی حکومت مسائل سے دوچار ہے۔ بہت سے عراقی ان کے ملک میں امریکی افواج کی موجودگی اور ملک پر ایران کے اثرورسوخ سے ناخوش ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

عراقی پارلیمان نے امریکی افواج کے عراق سے نکل جانے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ فی الفور عراق سے نکل جائے گا مگر افواج کو وہاں مزید رکھنے کے لیے امریکہ کو قابل سفارت کاری کی ضرورت ہو گی۔

عراقی پارلیمان میں ہونے والی ووٹنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے امریکہ میں عراقی فنڈز کو منجمد کرنے کی دھمکی دی ہے۔

امریکہ کی عراق کے معاملات میں مداخلت، اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں پر قابو پانے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ عراق میں امریکی افواج کی تعیناتی طویل مدت کے لیے ہے۔

شدت پسند دولت اسلامیہ کی خلافت کو تباہ کرنے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ امریکہ عراق میں بہت سے سال موجود رہے گا۔

اگر امریکی افواج کو وہاں سے نکالا جاتا ہے تو دولت اسلامیہ کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکے رکھنا کافی مشکل ہو جائے گا۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکہ افواج مشرقی شام میں بھی نہیں رہ پائیں گی کیونکہ وہاں ان کو بنیادی سپورٹ عراق میں موجود امریکی اڈوں سے ملتی ہے۔

امریکی افواج کی موجودگی پر بحث صرف ایک آغاز ہے، اور وہ بحث یہ ہے کہ امریکہ کی ہار شاید ایران کی جیت ہو گی۔

5) جوہری معاہدہ سخت مشکل میں

تازہ بحران کی جڑیں ہمیں مئی 2018 میں ملتی ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبردار ہوئی تھی۔

اُس وقت سے امریکہ ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے جبکہ تہران نے ایک ایک کر کے معاہدے کی شرائط توڑ کر خطے میں دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔

اگر یہ معاہدہ اب تک مردہ تصور نہیں کیا جاتا تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے علاوہ کوئی بھی اس معاہدے کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔

یہ ڈیل خاصی اہم ہے۔ اس سے قبل ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کا یا اسرائیل اور امریکہ کی جاب سے ایران کے جوہری اثاثوں پر حملے کا خطرہ رہتا تھا۔

تہران معاہدے کے دیگر فریقین کو اپنے ساتھ ہی رکھنا چاہے گا لیکن یہ تنازع ابھی طول پکڑ رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یوروپی ممالک کی کاوشوں کے باوجود اران پر معاشی دباؤ بڑھتا جائے گا۔ یہ معاہدہ کبھی نہ کبھی تو ختم ہوگا لیکن تب تک ایران شاید ایٹمی بم بنانے کے قریب آتا جائے گا۔

لیکن معاہدے کا انجام جو بھی ہو، صدر ٹرمپ کی پالیسی بہرحال امریکہ کو ایک ایسے وقت میں مشرقِ وسطی واپس گھسیٹ لائی ہے جب امریکی قومی سلامتی کے ماہرین اسے وہاں سے باہر نکالنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں