ایران کا جوہری معاہدہ: یورپی طاقتوں نے ایران کی خلاف ورزیوں کی شکایت کردی

ایران یورپ جوہری منصوبہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گزشتہ برس ایرانی صدر ایک جوہری مرکزی کا دورہ کر رہے ہیں (فوٹو فائل)۔ ایران کا موقف ہے کہ اس نے معاہدے میں طے پانے والی پابندیوں کو اس لیے معطل کردیا ہے کیونکہ امریکہ نے ہٹائی جانے والی پابندیاں دوبارہ سے عائد کردی ہیں۔

ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کے تحت عائد پابندیوں کی مزید خلاف ورزیوں کے اعلان کے بعد یورپی طاقتوں نے اس کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی باقاعدہ شکایت کردی ہے۔

یورپی طاقتوں نے ایران اور پانچ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کی ایک شق کے مطابق اس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کی شکایات طے کرانے کے میکنزم میں ایران کے خلاف شکایات جمع کرائی ہیں۔

ایران نے یورینیم کی افزودگی کرنے پر عائد پابندیوں کو معطل کردیا ہے، اب خدشہ یہ ہے کہ ایران یورینیم کی زیادہ درجے کی افزودگی سے نہ صرف ری ایکٹر ایندھن بنا سکتا ہے بلکہ جوہری ہتھیار بنانے کی طرف ایک قدم اور آگے بڑھ سکتا ہے۔

تاہم ایران کا موقف ہے کہ اس نے معاہدے میں طے پانے والی پابندیوں کو اس لیے معطل کیا ہے کیونکہ امریکہ نے اسی معاہدے کے تحت ہٹائی جانے والی پابندیاں دوبارہ سے عائد کردی ہیں۔

مگر فرانس، جرمنی اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی اس منطق کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

اپنے ایک مشترکہ بیان میں یورپی طاقتوں نے کہا ہے کہ ایران نے اس معاہدے میں طے پانے والی شرائط کو پورا نہیں کر رہا ہے۔ اس لیے اس معاملے کو جے سی پی او اے معاہدے میں موجود تنازعات کو طے کرنے اور اس معاہدے کو نافذ کرنے والے ادارے کی طرف بھیجا جا رہا ہے تاکہ ایران موجودہ معاہدے کی شرائط پر ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ حد تک عملدرآمد کرنے کا پابند رہے۔

’ہم یہ اقدام نیک نیتی سے کر رہے ہیں جس کا مقصد جے سی پی او اے کو بچانا ہے اور اس پرخلوص امید کے ساتھ کہ تعمیری سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے موجودہ تعطل سے نکل کر آگے بڑھا جا سکے اور اس معاہدے کو اور اس کے فریم ورک کو محفوظ رکھا جاسکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یورپین یونین اور ایران جے سی پی او اے کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ (فوٹو فائل)

ایران کے ساتھ سنہ 2015 میں طے پانے والے معاہدے میں ایران نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ حساس نوعیت کی سرگرمیوں کو محدود کردے گا اور جوہری معائنہ کاروں کو ایران میں داخلے کی اجازت دے گا جس کے جواب میں اُس پر عائد اقتصادی پابندیاں ہٹا لی جائیں گی۔

یہ معاہدہ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے دور میں ایران اور پانچ عالمی طاقتوں اور جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔ تاہم جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تو انھوں نے اس معاہدے کو نقائص سے بھر پور کہہ کر ایران پر دوبارہ سے اقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف تھا کہ وہ دوبارہ پابندیاں عائد کرکے ایران پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ نئے سرے سے جوہری معاہدہ کرے جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر مستقل طور پر پابندیاں عائد کی جائیں اور وہ بیلسٹک میزائل بنانے کے کام کو روک دے۔

لیکن فی الحال ایران نے امریکی مطالبات ماننے سے انکار کیا ہے۔

اس معاہدے کے دیگر فریق، تین یورپی طاقتیں، چین اور روس، کوشش کر رہے ہیں کہ ایران سے طے پانے والے اس معاہدے کو کسی بھی طرح برقرار رکھا جائے۔ مگر ایران پر دوبارہ سے عائد ہونے والی پابندیوں سے ایران کی تیل کی برآمدات بہت کم ہو چکی ہیں اور اس کی کرنسی کی قدر بہت زیادہ گر چکی ہے جس کے نتیجے میں افراطِ زر آسمان کو چھو رہی ہے۔

Image caption رطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ایران کے جوہری منصوبے کو روکنے کے لیے ’ٹرمپ ڈیل‘ کے حامی ہیں۔

ٹرمپ ڈیل

اسی دوران برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہاہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو صدر ٹرمپ کی پیش کردہ ڈیل سے بدلنا چاہئیے۔

انھوں نے کہا کہ وہ امریکہ کی اس تشویش کو درست سمجھتے ہیں کہ سنہ 2015 میں جے سی پی او اے کہلانے والے معاہدے میں نقائص ہیں، لیکن ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے والے کسی نہ کسی رستے کی ضرورت ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے بورس جانسن نے کہا کہ ’اگر ہم اس معاہدے کو ختم کرنے جارہے ہیں تو ہمیں اس کے ایک نعم البدل کی ضرورت ہے۔ آئیے اسے ٹرمپ ڈیل سے بدلتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں