ایران کے صدر روحانی: فوج وضاحت کرے کہ طیارہ کیسے گرایا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایرانی صدر حسن روحانی نے فوج سے وضاحت طلب کی ہے

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ملک کی فوج اس بات کی مزید تفصیلات فراہم کرے کہ گزشتہ ہفتے اس نے غلطی سے کس طرح ایک مسافر بردار طیارے کو مار گرایا تھا۔

ملک کے وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے علیحدہ سے یہ تسلیم کیا کہ اس واقعہ کے کئی روز بعد تک ایرانی جھوٹ بولتے رہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہیں اور ملک کے صدر کو بھی اس بارے میں اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔

یوکرینی طیارہ: ایران پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

’طیارہ ایرانی میزائل سے تباہ ہوا، انٹیلیجنس رپورٹس میں اشارہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس حادثے کے بعد ایران میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے دوران غلطی سے یوکرین کے مسافربردار طیارے پر میزائل داغ دیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے پر سوار 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے کئی گھنٹے قبل ایرانی میزائلوں نے عراق میں دو اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔

انڈیا کے اپنے دورے کے دوران ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے جواد ظریف کا کہنا تھا کہ 'مجھے اور صدر کو نہیں معلوم تھا کہ جہاز کس طرح حادثے کا شکار ہوا اور جیسے ہی ہمیں معلوم ہوا ہم نے اس بارے میں بات کی۔

انہوں نے فوج کی تعریف کی کہ اس نے اپنی غلطی قبول کر لی۔ تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ فوج نے اپنی غلطی قبول کرنے میں تین روز کی تاخیر کی اور مغربی رہنماؤں کی جانب سے شہادتوں کے دعوؤں کے بعد ہی تسلیم کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طیارے پر سوار تمام لوگ ہلاک ہو گئے تھے

نیویارک ٹائمز کی جانب سے تصدیق شدہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو میزائل فائر کیے گئے تھے جس کے سبب طیارہ تباہ ہوا ابتدا میں خیال کی جا رہا تھا کہ ایک ہی میزائل داغا گیا تھا۔

فلائٹ پی ایس 752 بدھ کے روز تہران سے پرواز کے بعد ایرانی میزائل کی زد میں آگیا تھا طیارے پر سوار تمام لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

شروع میں ایران نے اپنی غلطی تسلیم نہ کرتے ہوئے حادثے کے جگہ کو بلڈوز کر دیا تھاجس کے بعد ایران کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔تہران میں پولیس پر مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے الزامات لگائے گئے تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای برسوں بعد سے پہلی مرتبہ جمعہ کا خطبہ دیں گے جو اندرونی کشیدگی کو ختم کرنے کی بظاہر ایک کوشش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی اڈوں پر یہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عراق میں ایرانی جنرل قاصم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا تھا

ایران کا یہ بحران پیدا کیسے ہوا

گزشتہ ہفتے ایران نے عراق میں امریکی ٹھکانوں کو نشانے بنایا یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عراق میں ایرانی جنرل قاصم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا تھا۔

ایرانی حملے کے چند گھنٹے بعد یوکرین کا طیارہ تباہ ہو گیا۔ ابتدا میں ایران نے اس حادثے کا سبب تکنیکی خرابی بتایا تھا۔

جمعرات کو کینڈا سمیت ، طیارے پر جس کے 57 شہری سوار تھے' کئی مغربی ممالک نے کہا کہ انکے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایرانی فوج نے اس طیارہ کو مار گرایا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے ایرو سپیس کمانڈر بریگیڈئیر جنرل عامر علی حاجی زید کا کہنا ہے کہ میزائل چلانے والوں خود ہی یہ کارروائی کی تھی انہوں نے اس مسافر طیارے کو غلطی سے کروز میزائل سمجھ لیا تھا کیونکہ اس طرح کح خبریں تھیں کہ ایران پر کروز میزائل سے حملہ کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طیارے پر طیارے پر کینڈا کے 57 شہری سوار تھے

اس سلسلے میں کیا کارروائی کی گئی

منگل کے روز ایران کی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماغیلی نے اس طیارے کی تباہی کے لیے متعدد لوگوں کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔

اسی روز صدر حسن روحانی نے کا کہ اس معاملے کی تحقیقات خصوصی عدالت کی نگرانی میں کی جائے گی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ تحقیقات میزائل چلانے والے شخص کے ساتھ ساتھ دیگر اسباب کا بھی پتہ چلایا جائے گا۔

دریں اثنا پاسدارانِ انقلاب نے اس شخص کو بھی گرفتار کر لیا ہے جس نے اس طیارے کی تباہی کی ویڈیو بنائی تھی۔حادثے کے فوراً بعد ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تھی۔

تاہم لندن میں مقیم ایرانی صحافی جس نے یہ ویڈیو پوسٹ کی تھا انکا کہنا ہے کہ وہ شخص جس نے یے ویڈیو انہیں دی تھی محفوظ ہے اور کسی غلط شحص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں