عالمی سطح پر پانچ میں سے ایک موت کا سبب سیپسِس یا خون میں زہر پھیلنا ہے

خون میں جراثیم کی موجودگی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سیپسِس کسی انفیکشن کے مقابلے میں جسم کے شدید ردعمل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے

سیپسِس پر اب تک کیے گئے سب سے زیادہ جامع تجزیہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک شخص کی موت کا سبب سیپسِس ہے۔ اس کیفیت کو خون میں زہر کا پھیلنا بھی کہتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس کی وجہ سے ہر سال 11 مِلین افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یہ تعداد کینسر سے ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن سے وابستہ محققین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار پہلے کے مقابلے میں خطرناک حد تک زیادہ ہیں۔

سیپسِس کے زیادہ تر واقعات غریب اور متوسط آمدنی والے ملکوں میں ہوتے ہیں، مگر امیر ممالک کے لیے بھی یہ ایک مسئلہ ہے۔

سیپسِس کیا ہے؟

سیپسِس کو 'پوشیدہ قاتل' بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا پتا لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

یہ مرض ہمارے اِمیون سسٹم یا دفاعی نظام کے حد سے زیادہ حرکت میں آ جانے سے لاحق ہوتا ہے۔ اس کیفیت میں یہ نظام انفیکشن یا بیماری کے جراثیم سے لڑنے کے ساتھ جسم کے دوسرے حصوں پر بھی حملہ آور ہو جاتا ہے۔

نتیجتاً جسم کے مختلف اعضا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر مریض موت کے منہ میں جانے سے بچ بھی جائے تو وہ مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہو پاتا اور بعض حالات میں معذور بھی ہو جاتا ہے۔

سیپسِس کا سب سے بڑا سبب اسہال اور پھیپھڑوں کے امراض والے بیکٹیریا اور وائرس ہیں۔

اعداد و شمار میں اضافہ کیوں ہوا؟

گزشتہ عالمی اندازے، جن کے مطابق سیپسِس کے 19 ملین کیسوں میں پانچ ملین اموات واقع ہوئی تھیں، چند مغربی ملکوں سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے تھے۔

حالیہ تحقیق، جو جریدے لینسٹ میں شائع ہوئی ہے، 195 ملکوں سے اکھٹی گئی معلومات پر مبنی ہے، جس کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں سیپسِس کے 49 ملین واقعات رونما ہوتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق سیپسِس سے 11 ملین اموات ہوتی ہیں۔ یعنی دنیا بھر میں ہر پانچ اموات میں سے ایک کا سبب سیپسِس ہے۔

اسِسٹینٹ پروفیسر کرِسٹینا رُڈ کہتی ہیں کہ 'میں نے یوگینڈا کے دیہی علاقوں میں کام کیا ہے اور سیپسِس کا مرض ہمیں ہر روز نظر آتا تھا۔

'میرے ہم کاروں کا بھی، جو غریب ملکوں میں مریضوں کا علاج کرتے رہے ہیں، یہ ہی کہنا تھا۔ اس لیے اس رپورٹ پر مجھے حیرت نہیں ہوئی۔ مگر مجھے یہ توقع بالکل نہیں تھی پچھلے اندازوں کے مقابلے میں تعداد دُگنی ہوگی۔'

اچھی خبر یہ ہے کہ 1990 کے بعد سے اس مرض کے واقعات اور اموات میں کمی آئی ہے۔

توقع ہے کہ حالات کی سنگینی کا اندازہ ہونے سے آگہی میں اضافہ ہوگا اور زیادہ لوگوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔

اس کیفیت سے کون متاثر ہوتا ہے؟

پچیاسی فیصد واقعات کم اور متوسط آمدنی والے ملکوں میں پیش آتے ہیں۔

اس سے زیادہ تر بچے متاثر ہوتے ہیں اور ہر 10 میں سے چار کیس پانچ سال سے کم عمر بچوں میں رونما ہوتے ہیں۔

مگر سیپسِس برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی ایک چیلنج ہے جہاں اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد سپین، فرانس اور کینیڈا سے زیادہ ہے۔

برطانیہ ہر سال 48,000 افراد اس مرض کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

اس بارے میں کیا کیا جا سکتا ہے؟

انفیکشن میں کمی لاکر سپیسِس کے واقعات کو بھی قابو کیا جا سکتا ہے۔

اس مقصد کے لیے کئی ملکوں کو نکاسی آب، صاف پانی کی فراہمی اور حفاظتی ٹیکوں تک رسائی کو یقینی بنانا ہوگا۔

دوسرا چیلنج سیسِس میں مبتلا مریضوں کا جلد پتا لگانا ہے تاکہ ان کا بروقت علاج شروع کیا جا سکے۔

اینٹی بایوٹِک اور اینٹی وائرل ادویات سے جلدی علاج بھی اس کی روک تھام میں مفید ہو سکتا ہے۔

سیپسِس کی علامات کیا ہیں؟

بڑوں میں:

گفتگو میں الفاط کی مبہم یا غیرواضح ادائیگی

بدن کا شدت سا کانپنا اور پٹھوں میں درد

دن بھر پیشاب کا نہ آنا

سانس کا شدت سے اکھڑنا

دل کی تیز دھڑکن اور جسم کا درجۂ حرارت میں زیادہ اضافہ اور کمی

جلد کی رنگت بدلنا

بچوں میں:

جلد میں نیلاہٹ یا پیلاہٹ

بہت زیادہ غنودگی اور جاگنے میں مشکلات

بدن کا ڈھنڈا ہونا

سانس کی رفتار تیز

جلد پر نشان جو دبانے سے غائب نہ ہو

تشنج یا جسم کا اکڑنا

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں