آیت اللہ خامنہ ای کا خطاب: ایران کے میزائل حملوں نے امریکہ کے سپر پاور ہونے کے زعم کو ٹھیس پہنچائی ہے

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران کے رہبرِ اعلیٰ اور روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے میزائل حملے امریکہ کے ایک عالمی طاقت ہونے کے زعم کے لیے دھچکا ثابت ہوئے ہیں۔

آٹھ جنوری کو ہونے والے ان حملوں میں جہاں امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا وہیں اب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے ان میں متعدد امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے تھے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے یہ بیان تہران میں نمازِ جمعہ کی امامت کے موقع پر اپنے خطبے میں دیا۔ وہ آٹھ برس بعد نماز جمعہ کے کسی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔

آخری مرتبہ آیت اللہ خامنہ ای نے ملک میں نماز جمعہ کی امامت 2012 میں ایران میں اسلامی انقلاب کے 33 برس کی تکمیل کے موقع پر کی تھی۔

جمعے کو تہران کی مصلیٰ مسجد میں دیے گئے خطبے میں ان کا کہنا تھا کہ 'یہ نہ صرف ایک کامیاب عسکری حملہ تھا، بلکہ یہ حملہ امریکہ کے سپر پاور ہونے کے گھمنڈ کو ٹھیس پہنچانے میں کامیاب رہا۔'

یہ بھی پڑھیے

ایران مظاہرے: ملک میں حزبِ اختلاف کتنی مضبوط ہے؟

پانچ وجوہات کہ کیوں ایران، امریکہ کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی

فوج وضاحت کرے کہ طیارہ کیسے گرایا گیا: صدر روحانی

انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کو شام، عراق، لبنان اور افغانستان میں جاری مزاحمت سے مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے مگر ایرانی حملے سب سے کارآمد تھے۔'

دو ہفتے قبل ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں ایران کے روحانی پیشوا نے کہا کہ 'گذشتہ دو ہفتے ہمارے لیے نہایت غیرمعمولی تھے، جن میں ایسے واقعات بھرے ہوئے تھے جن میں سے کچھ ہمارے لیے تلخ تھے جبکہ کچھ اچھے۔'

جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے امریکی اڈوں پر 16 میزائل داغے تھے اور اسی دن ایران کی جانب سے یوکرین کا ایک مسافر طیارہ بھی مار گرایا گیا تھا جسے ایرانی حکام کی جانب سے انسانی غلطی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آٹھ جنوری کو ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں میں متعدد امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے

واشنگٹن انسٹیٹیوٹ کے مہدی خلجی کہتے ہیں کہ جمعے کی نماز کی امامت علامتی طور پر ان مواقع کے لیے مخصوص کی گئی ہے جب ملک کی اعلیٰ ترین قیادت نے کوئی اہم پیغام دینا ہو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تاریخی طور پر ایرانی رہنما یہ کام اپنے وفادار مذہبی رہنماؤں کو سونپتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایرانی فوج کی جانب سے یوکرینی طیارے کو غلطی سے مار گرائے جانے کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں۔

ایرانی حکام نے جب سے یوکرینی ایئرلائن کے طیارہ کو 'نادانستہ طور پر' مار گرانے کا اعتراف کیا ہے، تب سے ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔

ان مظاہروں میں چند مظاہرین ایران کی اعلیٰ قیادت کے خلاف نعرے لگاتے بھی دکھائی دیے۔

فی الحال یہ مظاہرے تہران اور اصفہان کی سڑکوں تک ہی محدود ہیں اور ان میں یونیورسٹی کے طلبا کی بڑی تعداد شامل ہے اور ساتھ ہی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد بھی جنھیں طیارے کے حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر غصہ ہے۔

اس طیارے میں 100 سے زائد ایرانی شہری بھی موجود تھے اور ایرانی حکومت لگاتار تین روز تک اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتی رہی۔ ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات کے سوشل میڈیا پر مناظر کی وجہ سے ملک میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ مظاہرین حکام کی جانب سے آغاز میں سچ نہ بتانے کی مذمت کر رہے ہیں لیکن ان مظاہروں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای مخالف نعرے بھی سننے میں آئے ہیں۔

بدھ کے روز صدر روحانی نے قومی اتحاد کے لیے اپیل کی تھی تاہم ایرانی قیادت میں ایک انتہائی غیر عمومی شگاف کی علامت اس وقت دیکھنے کو ملی جب صدر روحانی نے فوج سے کہا کہ وہ طیارہ گرائے جانے کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کریں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایرانی میزائل حملے کا نشانہ بننے والی ایئربیس کے مناظر

’بظاہر خامنہ ای ایرانی فوج کا دفاع کرنا چاہتے ہیں‘

بی بی سی فارسی کے کسرا ناجی کا تجزیہ

آخری مرتبہ جب ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے تہران میں جمعے کی نماز پڑھائی تھی تو عرب سپرنگ اپنے عروج پر تھا۔

اس موقعے پر انھوں نے عربی میں خطبہ دیا یعنی ایک ایسا خطبہ جسے عرب دنیا بھی بھی سمجھا جا سکے۔ وہ عرب دنیا کی اس وقت کی صورتحال کو اسلامی دنیا میں شعور کی آمد کے طور پر بیان کرنا چاہتے تھے۔ ان کا تجزیہ غلط تھا۔

اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا دفاع کرنا چاہتے ہیں جن پر یوکرینی طیارے کو گرائے جانے اور پھر کئی روز تک اس کا انکار کرنے کے حوالے سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے وہ طلبہ اور مظاہرین پر مزید کریک ڈاؤن کا حکم نہ دے دیں۔

حکام نے جمعے کے روز پاسدارانِ انقلاب کی حمایت میں ریاستی طور پر ملک گیر مارچوں کی کال دے رکھی ہے۔ تہران میں اس سلسلے میں تیاریاں جاری ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ حامیوں کو سڑکوں پر لا کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جا سکے۔

ایرانی میزائل حملوں میں امریکہ فوجی زخمی: امریکی فوجی حکام کی تصدیق

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق عراق میں امریکہ کی سربراہی میں تعینات فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ آٹھ جنوری کو ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں میں متعدد امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔

اس سے قبل امریکی صدر اور وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ اس واقعے میں کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا تھا اور صرف تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔

سی این این نے امریکی عسکری ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد 11 تھی۔

فوجی اتحاد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زخمی فوجی اہلکاروں میں سے کئی کو احتیاطً جرمنی منتقل کیا گیا ہے تاہم طبعی معائنے اور مکمل صحت یابی کے بعد یہ فوجی عراق میں اپنی ڈیوٹی پر لوٹ آئیں گے۔

یاد رہے کہ تین جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آٹھ جنوری کو رات گئے عراق میں دو ایسے فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی مقیم تھے اور اس کارروائی کے دوران ایران نے 16 میزائل داغے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کی جانب سے بھی امریکی فوجیوں کے حملوں میں زخمی ہونے کا اعتراف کیا گیا، تاہم ان کا کہنا تھا 'اس حملے میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔'

سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن بل اربن کے مطابق 'عین الاسد کے اڈے پر کیے گئے حملے میں کئی فوجیوں کو سر پر چوٹ آئی۔ ان کا علاج کیا گیا اور فی الحال ان کا مزید معائنہ کیا جا رہا ہے۔ ‘

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'اعلیٰ حکام کی جانب سے تنبیہ کے بعد حملے کے وقت عین الاسد اڈے پر موجود ڈیڑھ ہزار فوجی حفاظتی بنکروں میں چلے گئے تھے۔'

خیال رہے کہ جنرل سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت اور جواب میں ایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے تاہم اب اس میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔

اسی بارے میں