امریکہ میں ملالہ کے نام پر سکول

ملالہ کے نام پر امریکہ میں سکول تصویر کے کاپی رائٹ FBISD

امریکی ریاست ٹیکساس کی فورٹ بینڈ کاؤنٹی میں چھوٹے بچون کے ایک نئے ایلیمینٹری سکول کا نام امن کے نوبیل ایوارڈ یافتہ ملالہ یوسفزئی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ سکول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مقامی افراد سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

سات جنوری کو سکول کا پہلا دن تھا۔ فورٹ بینڈ انڈیپینڈینٹ سکول ڈسٹرکٹ کی مواصلات کی ڈائریکٹر ایمانڈا بوبیلا نے بی بی سی کو بتایا کہ انتظامیہ کو اس بات پر فخر ہے کہ سکول کا نام ملالہ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 'ملالہ میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو ہم اپنے طالب علموں کو سکھانا چاہتے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

ملالہ کا آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ

میں ہوں ملالہ کا باپ!

تصویر کے کاپی رائٹ FBISD

انہوں نے کہا کہ سکول کی پرنسیپل اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ طلبہ کو معلوم ہو کہ بچوں کی تعلیم کے شعبے میں ملالہ یوسفزئی کا کتنا غیر معمولی تعاون رہا ہے۔

سکول کے منتظمین کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سکول کا نام ایک باضابطہ طریقہ کار کے ذریعہ رکھا گیا جس میں مقامی افراد سے نام کے لیے مشورے مانگے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ @USCGLahore

ان میں سے ایک نام کا انتخاب کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں مقامی اساتذہ، والدین اور سکول کے بچے، عام مقامی افراد اور بورڈ کے ممبران بھی شامل تھے۔ کمیٹی کو سو سے زیادہ نام فراہم ہوئے جن میں سے بہت سوچ سمجھ کر ملالہ کے نام کا انتخاب کیا گیا۔

اس انتخاب کے دوران ملالہ کے کم عمری میں بچوں کی تعلیم کے لیے اٹھائے گئے غیر معمولی اقدامات کو خاص اہمیت دی گئی۔ جاری کردہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ محض پندرہ برس کی عمر میں سکول سے گھر جاتے وقت ملالہ پر طالبان نے حملہ کیا تھا۔ لیکن اس حملے نے ان کے حوصلے کو پست نہیں ہونے دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حملے کے اگلے ہی برس انہوں نے اقوام متحدہ میں ایک تقریر کے دوران بین الاقوامی رہنماؤں سے بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے کی اپیل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’آپ کا سکول‘

جاپان میں بچے سکول کیوں نہیں جانا چاہتے

تصویر کے کاپی رائٹ FBISD

نام رکھنے کے عمل میں مشورے دینے والوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ایسے شخص کا نام بتائیں جس کا سماجی فلاح کے لیے اہم تعاون رہا ہو۔

سکول کے سپرانٹینڈینٹ ڈاکٹر چارلز ڈوپرے کے بقول 'دوسروں کے لیے رحم دلی اور رہنمائی ملالہ کی اہم خوبیاں ہیں، یہ خوبیاں ہم اپنے یہاں پڑنے والے بچوں میں بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں ہم سکول اور اس میں پڑھنے والے طلبہ کی کامیابیوں کے بارے میں سنیں گے۔'

اسی بارے میں