چین: شرحِ پیدائش 70 سال میں سب سے کم

چینی بچہ تصویر کے کاپی رائٹ VCG
Image caption سنہ 1979 میں چینی حکومت نے ملکی سطح پر ایک بچے کی پالیسی کو نافذ کیا تا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو روکا جا سکے۔

ستر برس قبل عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے چین میں شرحِ پیدائش سب سے کم ہو گئی ہے۔ حالانکہ چین ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی نرم کر چکا ہے۔

چین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2019 میں شرح پیدائش 10 عشاریہ 48 فیصد رہی جو سنہ 1949 کے بعد سے سب سے کم ہے۔

سنہ 2019 میں 5 لاکھ 80 ہزار کم بچے پیدا ہوئے اور پیدائش کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 40 لاکھ 65 ہزار رہ گئی۔

چین میں معمر آبادی میں اضافہ

چین میں بوڑھوں کی آبادی سب سے زیادہ

چین میں ’دلہن کی قیمت‘ پر پریشانی

چین میں شرحِ پیدائش برسوں سے کم ہو رہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی اِس دوسری بڑی معیشت کو مسائل کا سامنا ہے۔

شرحِ پیدائش میں کمی کے باوجود سنہ 2019 میں ملک کی آبادی ایک ارب 39 کروڑ سے بڑھ کر ایک ارب 40 کروڑ ہو گئی ہے۔ اِس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چین میں شرح اموات بھی کم ہے۔

لیکن شرح پیدائش میں مسلسل کمی کی وجہ سے اِن خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ آبادی کا ایک نسبتاً چھوٹا حصہ جو کام کرتا ہے وہ آبادی کے اس بڑے حصے کی کفالت کرے گا جو عمر رسیدہ اور ریٹائرڈ ہے۔ یعنی کام کرنے والوں کی تعداد کم اور ریٹائرڈ لوگوں کی تعداد زیادہ ہو رہی ہے۔

چین کی گرتی ہوئی شرحِ پیدائش

ایک ہزار کی آبادی کے لحاظ سے شرحِ پیدائش

چین کا شرحِ پیدائش امریکہ سے کم ہے۔ سنہ 2017 میں امریکہ میں شرحِ پیدائش ایک ہزار افراد میں 12 تھا۔ چین کا شرحِ پیدائش بہرحال جاپان سے کم ہے جہاں یہ ایک ہزار افراد میں آٹھ ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق سنہ 2017 میں عالمی شرحِ پیدائش 18 اعشاریہ 65 فیصد تھا۔

سنہ 1979 میں چینی حکومت نے ملکی سطح پر ایک بچے کی پالیسی کو نافذ کیا تا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو روکا جا سکے۔

اِس پالیسی کی خلاف ورزی کر نے والے خاندان کو جرمانوں، نوکریوں سے بے دخلی اور کبھی کبھار اسقاطِ حمل جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

لیکن ناقدین کے مطابق اِس پالیسی کی وجہ سے ملک میں صنفی توازن بری طرح متاثر ہوا۔ سنہ 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مردوں کی تعداد عورتوں سے تین کروڑ زیادہ ہے۔

چینی لڑکوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادیوں پر بڑھتی تشویش

چینی حکومت نے سنہ 2015 میں ایک بچے والی پالیسی ختم کر کے دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی۔

لیکن اِس کے باوجود ملک میں شرحِ پیدائش بہتر نہیں ہو سکا۔

ماہرین کے مطابق اِس کی وجہ یہ ہے کہ پالیسی میں تبدیلی کے ساتھ حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات اور سہولیات میں کوئی تبدیلیاں نہیں کی گئیں۔

مثلاً چائلڈ کیئر کے لیے مالی امداد اور بچے کی پیدائش کے لیے والدین کی تنخوا سمیت چھٹیوں میں اضافے جیسے اقدامات نہیں کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ ایک سے زیادہ بچے کی پرورش کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

اسی بارے میں