بلو منڈے' کو سال کا سب سے ڈپریسنگ یا اداس دن کیوں کہا جاتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ کرسمس کے بعد جنوری میں ذہنی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔

کرسمس ختم ہوگئی ہے، موسم ٹھنڈا اور باہر اندھیرا ہے۔ اور تو اور گرمیوں کی چھٹیاں کوسوں دور محسوس ہوتی ہیں۔

آج ٹوئٹر پر سارا دن 'بلو منڈے' یعنی نیلا پیر ٹرینڈ کررہا ہے۔ 'بلو منڈے' کو سال کا سب سے ڈپریسنگ یا اداس دن کہا جاتا ہے۔

اس اصطلاح کی بنیاد 2004 میں دماغی امراض کے ماہر کلف آرنل نے رکھی۔ یہ دن ہر سال جنوری کے تیسرے ہفتے میں آنے والے پیر کو کہتے ہیں۔

کلف آرنل نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ ان سے ایک کمپنی نے جنوری میں اداسی کا 'سائنسی فارمولا' پوچھا۔ یہ کمپنی ٹور آپریٹر کا کام کرتی تھی۔

لیکن حسبِ توقع مایوسی کا 'سائنسی فارمولا' کسے ملتا۔

’میں نے بیٹے کی موت کے بارے میں سچ بولنا شروع کیا‘

’ویڈیو گیمز ذہنی امراض کے علاج میں مددگار‘

’میں نے بیٹے کی موت کے بارے میں سچ بولنا شروع کیا‘

سوفی ایڈورڈ کا تعلق برطانوی علاقے کینٹ سے ہے۔ انھیں سات برس کی عمر سے گھبراہٹ اور پریشانی کے دورے پڑتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر کلارک کے مطابق بہت سے لوگ اپنے نئے سال کے ارادوں کو دو یا تین ہفتے میں ترک کردیتے ہیں۔

سوفی کا کہنا ہے کہ سال میں صرف ایک دن کو سب سے پریشان دن قرار دینا ان لوگوں کے لیے مایوس کن ہے جو کہ سارا سال ذہنی امراض کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا : 'میرے خیال میں 'بلو منڈے'بلکل فضول اصطلاح ہے۔ ویسے تو آپ ایک عام دن پر لیبل لگا رہے ہیں لیکن اس سے ان لوگوں پر دباؤ بڑھے گا جو کہ پہلے ہی کسی ذہنی مرض میں مبتلا ہیں اور اس سے مقابلہ کر رہے ہیں'۔

وہ کہتی ہیں کہ لوگ اس دن کا انتظار کرتے کرتے مزید پریشان ہو جاتے ہیں۔ لیکن سوفی کا یہ بھی موقف ہے کہ اس دن کی وجہ سے لوگوں کو ذہنی امراض کے موضوع پر کھل کر بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔

’میں نے آن لائن بہت سے لوگوں کو یہ کہتے دیکھا ہے کہ 'آج کا دن بھی ایک معمول کا دن ہے لیکن اگر کسی کو کوئی بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو میں یہاں موجود ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس سے بات کی آگاہی پیدا ہو رہی ہے کہ آن لائن اور اصل زندگی میں ایک بڑا 'سپورٹ نیٹ ورک' موجود ہے'۔

برطانیہ کی ڈربی یونیورسٹی میں سائکولوجی کے لیکچرار ڈاکٹر فلپ کلارک بھی سوفی کی اس بات سے متفق ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'میں نے بلو منڈے کے خلاف تب بولنا شروع کیا جب میں نے دیکھا کہ کمپنیاں لوگوں کو اس کے نام پر چیزیں فروخت کر رہی ہیں۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ جنوری میں لوگوں کو مایوسی کیوں ہوتی ہے۔ آپ نے کرسمس کے دوران اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارا ہے اور اسی دوران باہر بہت اندھیرا بھی ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھنے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ 'بلو منڈے' کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ جنوری میں ذہنی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ شاید ایسا لگتا ضرور ہو لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

ڈاکٹر کلارک کہتے ہیں کہ کسی کا موڈ خراب ہونے سے ہم یہ مطلب نہ لیں کہ اسے ڈپریشن ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس ذہنی صحت کو بہتر کرنے کے لیے کچھ تجاویز ہیں۔

ورزش

ڈاکٹر کلارک کہتے ہیں کہ ورزش ایک بہترین چیز ہے۔ اسے کرنے سے آپ کے جسم سے ایسے کیمیکل نکلتے ہیں جس سے آپ خوش ہوتے ہیں۔ 'آپ کو جم میں جا کر ورزش کرنے کی ضرورت نہیں، کچھ لوگوں کو یہ اچھا نہیں لگتا۔ آپ کو صرف اپنے آپ کو زیادہ متحرک بنانا ہے'۔

نئے سال کے ارادے

ڈاکٹر کلارک کے مطابق بہت سے لوگ اپنے نئے سال کے ارادوں کو دو یا تین ہفتے میں ترک کردیتے ہیں۔’لیکن اگر آپ اس میں ناکام ہوگئے ہیں تو آپ اس سے تجربہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے لوگوں کو امید ملتی ہے کہ ان کے پاس ابھی بھی پورے سال کا وقت باقی ہے اور وہ خود کو موردِ الزام نہیں ٹھرا سکتے۔‘

دوسروں کی مدد

’کچھ لوگوں کا کرسمس سے محبت کا ایک مقصد تحائف دینا نہیں بلکہ لوگوں کی مدد کرنا ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر کلارک کہتے ہیں کہ اس سے خوشی ملتی ہے اور وہ بھی بغیر کچھ خرچ کیے۔

اسی بارے میں