#coronavirus: کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، چار پاکستانی طلبا بھی متاثر

چین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برطانیہ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ چین اس وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول نہیں کر سکے گا

چینی حکام کے مطابق کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 132 تک پہنچ چکی ہے جبکہ منگل کے روز اس وائرس سے متاثر ہونے والے 1459 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں چار پاکستانی طلبا بھی شامل ہیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بدھ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بتایا کہ چین میں چار پاکستانی طلبا میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ وہ طلبا بہتر حالت میں ہیں، ان کی بہترین نگہداشت کی جارہی ہے اور ان کے خاندانوں کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس: پاکستانیوں کو احتیاط کی ہدایت

کورونا وائرس: چین میں مزید سفری پابندیاں عائد

کورونا وائرس: پاکستانی اور انڈین طلبا مشکلات کا شکار

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کورونا وائرس: چین میں وائرس پھیلنے کے بعد انفیکشن زون کے مناظر

کورونا وائرس: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

بدھ تک چین میں اس وائرس سے تصدیق شدہ متاثرہ افراد کی کل تعداد 5974 تک پہنچ چکی ہے جبکہ مشتبہ کیسز کی تعداد نو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کو مرکزی شہر ووہان سے نکال لیا گیا ہے۔

ووہان سے شروع ہونے والا یہ وائرس چین کے دوسرے شہروں کے علاوہ فضائی سفر کرنے والوں کی بدولت دنیا کے 16 ممالک میں پھیل چکا ہے۔

تھائی لینڈ ، فرانس ، امریکہ اور آسٹریلیا سمیت 16 دیگر ممالک میں کم از کم 47 کیسوں کی تصدیق ہوچکی ہے مگر چین سے باہر کسی اور ملک سے ہلاکت کی اطلاع نہیں موصول ہوئی ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے سانس کا شدید انفیکشن ہوتا ہے اور تا حال اس سے مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے۔

اب تک ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد میں ادھیڑ عمر یا ایسے افراد جنھیں پہلے سے سانس کی بیماریاں تھیں، شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیشِ نظر برٹش ایئر ویز نے چین سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دیں ہیں

دیگر ممالک کیا کر رہے ہیں؟

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارت میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ تصدیق ووہان سے تعلق رکھنے والے خاندان میں کی گئی ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس خاندان کے کتنے افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔

ادھر آسٹریلیائی وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن کے مطابق، آسٹریلیا چین سے واپس آنے والے اپنے 600 شہریوں کو دو ہفتے تک ایک الگ جزیرے پر رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ جزیرہ مرکز سے تقریباً 2000 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

حال ہی میں کھولا گیا یہ جزیرہ ایک ایسے حراستی مرکز طور پر مشہور ہے جہاں رہنے کی سہولیات کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔

جاپان، امریکہ اور کئی یورپی ممالک بھی اپنے شہریوں کو چین سے نکال رہے ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیشِ نظر برٹش ایئر ویز نے چین سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دیں ہیں۔ اس بات کا اعلان برطانوی دفترِ خارجہ کے اس بیان کے بعد کیا گیا جس میں انھوں نے شہریوں کو چین کے غیرضروری سفر سے اجتناب کا مشورہ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چینی نیشنل ہیلتھ کمیشن (این ایچ سی) کے ایک ماہر نے بتایا کہ اگلے دس دن میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے

چین کیا اقدامات لے رہا ہے؟

چینی صدر شی جن پنگ نے کورونا وائرس کو ’شیطان‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین اسے شکست دے گا۔

چین میں وائرس کا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لاکھوں افراد نئے قمری سال پر ہونے والی تقریبات کے سلسلے میں پورے ملک میں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے پاس آتے جاتے ہیں۔

چینی نیشنل ہیلتھ کمیشن (این ایچ سی) کے ایک ماہر نے بتایا کہ اگلے دس دن میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ کے سدباب کے لیے نئے سال کی تقریبات کو مؤخر کر دیا گیا ہے اور چھٹیاں بڑھا کر اتوار تک کر دیا گیا ہے۔

بیجنگ اور شنگھائی نے ہوبائی سے آنے والے افراد کو 14 دن تک زیرِ معائنہ رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

حکام نے ملک بھر میں سکولوں اور یونیورسٹیوں کے سیمیسٹر مؤخر کر دیے ہیں اور ان کی دوبارہ کھلنے کی تاریخ اب تک نہیں دی گئی۔

چین میں وائرس سے متاثرہ بہت سے شہروں میں سفری پابندیاں عائد ہیں جبکہ اتوار سے نجی گاڑیوں کو بھی سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہوبائی کے مرکزی اضلاع میں نقل و حرکت نہیں کرنے دی جائے گی کیونکہ یہی علاقہ اس وائرس کا مرکز ہے۔

چین کے سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک اور ہسپتال صرف سات دن کی قلیل مدت میں تعمیر کیا جائے گا تاکہ وائرس سے متاثرہ نئے کیسز کا وہاں علاج کیا جا سکے۔

کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں سے نمٹنے کے لیے تعمیر کیا جانے والا یہ دوسرا ہسپتال ہو گا۔ اس سے پہلے ایک ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال بنایا جا چکا ہے۔

فوج کی خصوصی طبی ٹیمیں صوبہ ہوبائی میں پہنچ گئی ہیں۔ ووہان ہوبائی کا دارالحکومت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس نئے وائرس سے بچاؤ کے لیے نہ تو کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج ہے

کورونا وائرس کیا ہے؟

کورونا وائرس کا تعلق وائرسز کے اس خاندان سے ہے جس کے نتیجے میں مریض بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ وائرس اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا۔

نئے وائرس کا مختلف جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونا عام ہو سکتا ہے۔

سنہ 2003 میں چمگادڑوں سے شروع ہونے والا وائرس بلیوں سے مماثلت رکھنے والے جانوروں میں منتقل ہوا اور پھر انسانوں تک پہنچا اس سے ان سب کا سے نظام تنفس شدید متاثر ہوا۔

کورونا وائرس کی علامات

سنہ 2003 والے وائرس کی طرح کورونا وائرس بھی سانس کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔

اس وائرس کی علامات بخار سے شروع ہوتی ہیں جس کے بعد خشک کھانسی ہوتی ہے اور پھر ایک ہفتے کے بعد مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور کچھ مریضوں کو ہسپتال منتقل ہونا پڑتا ہے۔

اس سے بچاؤ کے لیے نہ تو کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج ہے۔

ابتدائی اطلاعات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرین میں سے صرف ایک چوتھائی ایسے تھے جو شدید متاثر ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں خصوصی طور پر تو نہیں لیکن زیادہ تر ایسے تھے جو بوڑھے مریض تھے جو پہلے سے کسی دوسری بیماری کا شکار تھے۔

اسی بارے میں