کیا ہمیں واقعی فکرمند ہونا چاہیے کہ ’بھائی صاحب‘ سب کچھ دیکھ سن رہے ہیں

جدید معشیت کو بنانے والی پچاس چیزیں تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

پینامُنڈے شمالی جرمنی میں وہ بندرگاہ ہے جہاں دریائے پینا بحیرہ بالٹک سے ملتا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں اکتوبر 1942 میں کچھ جرمن انجینیئر ایک کمرے میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔

سکرین پر اس وقت ڈھائی کلومیٹر دور سے جو منظر براہ راست دکھایا جا رہا تھا اس میں ایک نئے جنگی ہتھیار کو قریب سے دکھایا جا رہا تھا جو بس اڑنے والا تھا۔ اور پھر ایک دوسری سکرین پر اِن انجینیئروں نے دیکھا کہ وہ ہتھیار تیزی سے آسمان کی جانب اڑ رہا ہے۔

نئے ہتھیار کا یہ تجربہ حسبِ توقع کامیابی سے مکمل ہو چکا تھا، لیکن اس وقت یہ لوگ سکرین پر جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ ایک ایسی چیز تھی جس نے ہمارے مستقبل کو ایک نئی شکل دینا تھی۔

اس دن جس ہتھیار کا تجربہ کیا جا رہا تھا وہ دنیا کا پہلا ایسا بم تھا جسے راکٹ کی مدد سے داغا گیا تھا۔ ’وی ٹُو‘ یا ’انتقامی ہتھیار‘ نامی اس بم سے امید تھی کہ اس کی بدولت ہٹلر کی فوجیں جنگ جیت جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

سمارٹ ٹی وی آپ کی جاسوسی کر سکتے ہیں!

سی سی ٹی وی فوٹیج کے غلط استعمال کو روکنے کی استدعا

مستقبل کی پیش گوئی کرنے والے 10 سائنس فکشن ناول

وی ٹُو آواز کی رفتار سے زیادہ تیز اڑ سکتا تھا، اس لیے آپ کو اس وقت تک اس کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا جب تک کہ یہ ایک زور دار دھماکے سے پھٹ نہ جائے۔ لیکن یہ ہتھیار ہر مرتبہ ٹھیک نشانے پر نہیں لگتا تھا۔ اگرچہ وی ٹُو نے ہزاروں لوگوں کو ہلاک کیا لیکن مرنے والوں کی تعداد اتنی نہیں تھی کہ اس سے جنگ کا پانسہ ہٹلر کے حق میں پلٹ جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لندن پر وی ٹُو راکٹوں سے حملے 8 ستمبر 1944 کو شروع ہوئے تھے

وی ٹو جس انتہائی ذہین انجنیئر کی تخلیق تھی، اس کا نام وینر ونبراؤن تھا جس نے نازی پارٹی کی حکومت یا تھرڈ رائیک کے خاتمے کے بعد خود کو امریکیوں کے حوالے کر دیا تھا۔ یہی وہ صاحب ہیں جنہوں نے بعد میں خلاء میں پہنچنے کی دوڑ میں امریکہ کو اپنے حواریوں پر سبقت دلائی۔

اگر آپ اس وقت وینر ونبراؤن سے کہتے کہ ان کا بنایا ہوا راکٹ انسان کے چاند پر اترنے کی جانب پہلا قدم ثابت ہو گا، تو انہیں حیرت نہ ہوتی، کیونکہ راکٹ بنانے کے پیچھے ان کا یہی جذبہ کارفرما تھا۔

ایک مرتبہ وینر ونبراؤن کو مختصر وقت کے لیے اس وقت حراست میں بھی لے لیا گیا تھا جب وہ ریل گاڑی میں بیٹھے کسی کو بتا رہے تھے کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ ہتھیار بنانے کی بجائے خلاء میں جانے والا جہاز یا گاڑی بنائیں۔ ان کی یہ بات سن کر کسی نے نازی خفیہ پولیس گسٹاپو کو خبر کر دی، جس کے بعد انہیں پوچھ گچھ کے لیے پکڑ لیا گیا تھا۔

لیکن وینر ونبراؤن کو وی ٹوُ بناتے وقت شاید یہ توقع نہیں تھی کہ ان کی تخلیق میں مستقبل کی ایک بہت بڑی ٹیکنالوجی پنہاں ہے۔ ایک ایسی ٹیکنالوجی جو اپنی موجودہ شکل میں اگر اس وقت گسٹاپو کے ہاتھ لگ جاتی تو یہ خفیہ ادارہ بہت خوش ہوتا۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں ’کلوزڈ سرکٹ ٹیلیویژن کی جسے عرف عام میں ’سی سی ٹی وی‘ کہا جاتا ہے۔

اُس دن کمرے میں بیٹھے افراد سکرین پر جو تصاویر دیکھ رہے تھے وہ کسی ٹی وی سٹیشن سے نشر نہیں ہو رہی تھیں، بلکہ یہ کسی کی حرکات سکنات پر نظر رکھنے کی دنیا میں پہلی مثال تھی، یعنی یہ لوگ راکٹ کو فضا میں بلند ہوتے ہوئے دنیا کے پہلے سی سی ٹی وی پر دیکھ رہے تھے۔

ہو سکتا ہے کہ کہ پینامُنڈے کے فوجی اڈے پر موجود اعلی افسران غلام مزدوروں کی طرح مرتے دم تک کام کرتے رہے ہوں، لیکن ان کا اگلے محاز پر جا کر مرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اسی لیے انہوں نے ایک ٹی وی انجنیئر والٹر بُروخ کو اپنے ہاں بلا لیا، تاکہ وہ کوئی ایسا طریقہ ایجاد کرے جس کے ذریعے یہ افسران ایک محفوظ فاصلے پر بیٹھ کر دشمن پر کیے جانے والے راکٹ حملوں پر نظر رکھ سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لندن پر وی ٹُو راکٹوں سے حملے 8 ستمبر 1944 کو شروع ہوئے تھے

ویسے یہ عقل مندی کی بات ثابت ہوئی کیونکہ وی ٹُو قسم کا جو پہلا راکٹ چلایا گیا تھا وہ اڑتے ہی پھٹ گیا تھا، اور اس میں والٹر بُروخ کا ایک کیمرا بھی تباہ ہو گیا تھا۔

بُروخ کی یہ تخلیق آج کتنی عام اور مقبول ہو چکی ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ چند برس پہلے کے ایک اندازے کے مطابق دنیا میں سی سی ٹی وی یا نگرانی کرنے والے کیمروں کی کل تعداد 24 کروڑ 50 لاکھ تھی، یعنی ہر 30 افراد پر ایک کیمرا۔ ایک اور اندازے کے مطابق جلد ہی صرف چین میں ان کیمروں کی تعداد 24 کروڑ 50 لاکھ سے دُگنی ہو جائے گی۔

یہ بات یقیناً سچ ہے کہ سی سی ٹی وی کی مارکیٹ تیزی سے پھیل رہی ہے اس شعبے میں دنیا میں جو کمپنی سب سے آگے ہے اس کا نام ’ہِکوژن‘ ( ( Hikvision ہے جس میں چینی حکومت کا حصہ بھی ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ چین سی سی ٹی وی کیمروں سے کر کیا رہا ہے؟

اس کی ایک مثال یہ ہے۔

آپ ایک منظر کا تصور کریں۔ آپ زنگیانگ کے شہر میں ہیں اور آپ ایک سڑک پار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اصولاً تو آپ کو ٹریفک کی بتی بدلنے کا انتظار کرنا چاہیے، لیکن آپ جلدی میں ہیں۔ تو آپ کیا کرتے ہیں کہ گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کرتے کرتے، بچتے بچاتے تیزی سے سڑک کراس کرنے لگتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وی ٹوُ دنیا کا پہلا ایسا بم تھا جسے راکٹ کیں مدد سے داغا گیا تھا

اور پھر چند دن بعد ہو سکتا ہے کہ آپ کا اپنا نام، آپ کی تصویر اور شناختی کارڈ نمبر کسی چوک میں لگے بورڈ پر جگمگاتے نظر آئیں اور اس کے ساتھ یہ پیغام کے کہ یہ ہے وہ شخص جو ٹریفک کا لحاظ کیے بغیر سڑک پار کرتا ہے۔

لیکن یہ بات عوامی سطح پر آپ کی سبکی یا بے عزتی پر ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ آگے ہوتا یہ ہے کہ سی سی ٹی وی کیمرا آپ کی یہ تصویر ملک کے اس ڈیٹا بیس میں ڈال دیتا ہے جس کی بنیاد پر حکومت مستقبل میں سوشل کریڈٹ کی ایک سکیم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مذکورہ سکیم کے تحت حکومت کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ بات ابھی واضح نہیں ہے لیکن فی الحال حکومت کئی سرکاری اور نجی ذرائع سے اعداد شمار جمع کر ہی ہے جس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ آپ ایک اچھے شہری ہیں یا نہیں۔

ہو سکتا ہے کہ بری ڈرائیونگ کی وجہ سے اس سکیم میں آپ کی شمولیت کے لیے درکار نمبر کم ہو جائیں۔ اسی طرح اگر کوئی بِل جمع کرانے میں تاخیر کرتے ہیں یا غلط خبریں پھیلاتے ہیں تو تب بھی آپ کا سکور کم ہو جائے گا۔ اس سکیم میں زیادہ سکورہو سکتا ہے اس شخص کو دیا جائے جو حکومت کی طرف سے مفت فراہم کی جانے والی سائیکل سروس سے فائدہ اٹھاتا ہو، اور اگر آپ کا سکور کم ہوتا ہے تو ہو سکتا ہے آپ پر پابندی لگا دی جائے کہ آپ ریل گاڑی میں سوار نہیں ہو سکتے۔

اس قسم کے اعداد وشمار اور نگرانی کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو انعام دیا جائے جو حکومت کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرتے ہیں یا ایک سرکاری دستاویز کے بقول ’قابل بھروسہ افراد کو آسمان تلے ہر جگہ گھومنے پھرنے کی اجازت دی جائے اور جن کا سکور کم ہو ان کے لیے گھر سے باہر قدم رکھنا بھی مشکل بنا دیا جائے۔‘

شاید یہ باتیں سن کر آپ کو وہ ناول یاد آ جائیں جو والٹر بُروخ کے پہلا سی سی ٹی وی کیمرا بنانے کے سات برس شائع ہوئے تھے۔

مثلاً جارج اوروِل نے اپنے شہرہ آفاق ناول ’1984‘ میں ایک ایسی زندگی کی بات کی تھی جہاں آپ کی ہر حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے، چاہے لوگ عوامی مقام پر ہوں یا آپ اپنے گھر کے اندر بیٹھے ہوں۔ اس کہانی میں ہر شخص کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے پاس ایک ’ٹیلی سکرین‘ موجود ہو جس کے ذریعے ’بِگ بردر‘ یا ’بھائی صاحب‘ اس پر نظر رکھ سکیں۔

جارج اوروِل کی کہانی میں یہ اشارہ بھی تھا کہ لوگ شروع شروع میں اس قسم کے آلات خود اپنی مرضی سے خریدیں گے۔ اسی لیے جب ونسٹن نامی کردار مسٹر چیرنگٹن سے پوچھتا ہے کہ ان کے کمرے میں سکرین کیوں نہیں ہے تو مسٹر چیرنگٹن اسے بتاتے ہیں کہ یہ سکرین ’بہت مہنگی‘ ہے اور ’مجھے کبھی اس کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔‘

مجھے لگتا ہے کہ اسی قسم کی گفتگو اس وقت بھی ہو رہی تھی جب گزشتہ دنوں میں کسی سے آواز سے کنٹرول ہونے والے جدید سپیکروں کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ میں اس سے پوچھ رہا تھا کہ کیا میں ایلکسا سے موسم کا حال پوچھ سکوں گا، یا کہہ سکوں گا ’ایلسکا میرے کمرے کا ہیٹر تیز کر دو؟

Image caption آواز سے چلنے والے سمارٹ سپیکر جتنی زیادہ معلومات جمع کر سکتے ہیں وہ دوسرے عام آلات سے کہیں زیادہ ہیں

مشہور مزاحیہ اداکار زیک وینر سمتھ نے اس کا احاطہ بڑے اچھے انداز میں کیا ہے۔

’کیا تم مجھے اپنے گھر میں ایک ایسا آلہ نصب کرنے کی اجازت دو گے جو تمہاری ایک ایک بات کو سنے، تمہاری ہر حرکت کو ریکارڈ کرے، پھر ان معلومات کو اپنے پاس جمع کر لے اور اس سے منافع کمائے مگر تمہیں اس آلے تک رسائی کبھی نہ دے؟

’یہ سب کروانے کے لیے آپ کو مجھے بہت پیسہ دینا پڑے گا۔‘

’نہیں، نہیں، پیسہ تو آپ ہمیں ادا کریں گے۔‘

’شاباش، رستہ پکڑو۔‘

’سنیں تو۔ جب آپ کے فریج میں پنیر کے پیڑے یا ’چیز بالز‘ ختم ہونے والے ہوں گے تو یہ آلہ آپ کو بتا دے گا اور پھر 30 منٹ کے اندر ایک ڈرون تازہ چیز بالز آپ کے گھر پہنچا دے گا۔‘

’ہاں اب ہوئی ناں بات، پلیز ایک ایسی مشین مجھے بھی دے دو۔‘

’ایمازون ایکو‘ اور ’گوگل ہوم‘ جیسے آلات کی اتنی مقبولیت کی وجہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں ہونے والی حالیہ ترقی ہے۔ اور سی سی ٹی وی کیمروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے۔ ابھی تو ہمارے ارد گرد اتنی سکرینیں ہیں کہ ایک وقت میں کوئی شخص کدھر کدھر دیکھے۔

لیکن اگر آپ کے پاس کوئی ایسا سافٹ وئر ہے جو باتیں سن کر ان کے معنی سمجھ سکتا ہو، تو تصور کریں کہ آپ بیک وقت کتنے کیمروں سے آنے والی معلومات کا ایک کمپیوٹر کے ذریعے فوراً جائزہ لے سکتے ہیں۔

کیا آپ اس خیال کے آتے ہی آپ کا تھوڑا پریشان ہو جانا درست ہے یا ہم ہمیں چاہیے کہ آرام سے کرسی کے ساتھ پشت لگا کر ڈرون کا انتظار کریں کہ وہ ہمارے چیز بالز یا پیزا کب ڈلیور کرے گا۔

اس سوال کے جواب کا انحصار کسی حد تک اس بات پر ہے کہ جو ادارے یا لوگ ہم پر نظر رکھنا چاہتے ہیں، ہمیں ان پر اعتبار کتنا ہے۔

مثلاً ایمازون اور گوگل تو ہمیں بار بار یہی بتاتے ہیں کہ وہ چھپ کر ہماری باتیں نہیں سن رہے۔

ان کمپنیوں کا اصرار ہے کہ ان کے آلات صرف اتنے ہی سمارٹ یا ذہین ہیں کہ جب آپ کہتے ہیں کہ ’جاگ جاؤ ایلکسا‘ یا ’اچھا ٹھیک ہے گوگل‘ تو وہ آپ کی بات سمجھ جاتے ہیں۔ یہ آلات آپ کی بات کلاؤڈ کو اسی وقت بھیجتے ہیں جب آپ ان سے کوئی زیادہ مشکل کام کہتے ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آتی کہ اس کا مطلب کیا ہے۔

اگر ہمیں اس بات پر اعتبار آ جاتا ہے تو پھر یہ بات بھی قبول کرنا پڑے گی کہ مجرموں یا حکومتوں کے لیے ان آلات کو ہیک کرنا مشکل ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب کو پسند نہیں ہے کہ حکومت کو ہماری روز مرہ زندگی کی ہر ایک بات پتہ چل جائے۔

لیکن دوسری طرف دیکھیں تو آسٹریلیا کے ٹی وی چینل اے بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک چینی خاتون کا کہنا تھا کہ اگر ان کی گلیوں اور سڑکوں کی ہر نکڑ پر سی سی ٹی وی کیمرا لگا ہو تو وہ خود کو بہت محفوظ تصور کریں گی۔

تاہم وہ لوگ جن کے خیالات مختلف ہیں، انہیں یہ جان کر شاید خوشی ہو کہ سی سی ٹی وی کیمرے ابھی اتنے سمارٹ نہیں ہوئے جتنا لوگ کہتے ہیں۔ دیکھنے میں زنگیانگ کے چوک میں لگا ہوا بورڈ پوری طرح آٹو میٹک دکھائی دیتا ہے، لیکن چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی ابھی اتنی قابل بھروسہ بھی نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے اب بھی حکومتی اہلکار بیٹھے ہوئے ہیں جو کسی شخص کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیز کا مسلسل جائزہ لیتے رہتے ہیں۔

لیکن شاید اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ کیمرے کتنے ذہین ہیں یا نہیں۔ زنگیانگ میں یہ خوف ہی کافی ہے کہ آپ پر نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ اب وہاں دیکھے بغیر سڑک پار کرنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔

اس کی وجہ وہ خیال ہے جسے ’پین اوپٹیکون‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ پر نطر رکھی جا رہی ہے تو آپ کا عمل اس سوچ کے تابع رہتا ہے۔ یہ وہ خیال ہے جسے جارج اورول خوب سمجھتے تھے۔

قصہ مختصر یہ کہ سی سی ٹی وی کی ٹیکنالوجی ابھی پوری طرح اس قابل نہیں ہوئی کہ یہ وہ تمام کام کر سکے جو ماہرین سمجھتے ہیں کہ اسے کرنے چائیں، لیکن یہ ان لوگوں کے لیے کوئی بڑی رکارٹ نہیں ہے جو چاہتے ہیں کہ ہم سب وہی کریں یا وہی سوچیں جو یہ یہ لوگ چاہتے ہیں۔

یہ مضمون ٹِم ہارفرڈ نے بی بی سی کے سلسلے ’جدید معشیت کو بنانے والی پچاس چیزیں‘ میں لکھا ہے۔ ٹِم ہارفرڈ روزنامہ فائنینشل ٹائمز میں کالم بھی لکھتے ہیں۔

اسی بارے میں