ہم دفتر سے ضروری چھٹیاں کیوں نہیں لے پاتے؟

روم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بفر کمپنی نے اپنے ملازمین کے چھٹی لینے کی حوصلہ افزائی کے لیے کمپنی نے ایک نئی پالیسی بنائی

سنہ 2014 میں سوشل میڈیا مینجمینٹ کمپنی ’بفر‘ کے اعلیٰ حکام نے کچھ عجیب محسوس کیا۔ کمپنی نے سنہ 2012 میں لامحدود چھٹیوں کی ایک پالیسی نافذ کی تھی لیکن کمپنی کے ملازمین بمشکل ہی چھٹی لے رہے تھے۔

بفر کے ملازمین دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، خاص کر امریکہ اور یورپ میں۔ ملازمین میں کام سے چھٹی لینے کی حوصلہ افزائی کے لیے کمپنی نے ایک نئی پالیسی بنائی تھی۔

اس پالیسی کے تحت ہر ملازم کو سالانہ چھٹی کے بونس کے طور پر ایک ہزار ڈالر اور ملازمین کے پارٹنر یا اہلخانہ کے ہر فرد کے لیے پانچ، پانچ سو ڈالر بونس دیا گیا۔

کمپنی کی یہ پالیسی اس قدر کامیاب رہی کہ کمپنی کا بہت زیادہ سرمایہ اس پالیسی میں خرچ ہونے لگا جس کے بعد سنہ 2016 میں اس پالیسی کو بند کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’جیسے زچگی کی چھٹیاں لینا کوئی جرم ہو‘

ماں بننے کے لیے ایک برس کی چھٹی

’جیسے زچگی کی چھٹیاں لینا کوئی جرم ہو‘

اسی سال بفر نے ایک نئی پالیسی متعارف کروائی اور لامحدود چھٹیوں کے بدلے اس نے اپنے ملازمین کو سال میں کم از کم پندرہ چھٹیاں لینے کی حوصلہ افزائی کرنے کا فیصلہ کیا۔

آن لائن پلانر کا استعمال کر کے ملازمین اپنی چھٹیوں کی درخواست کر سکتے ہیں اور ایچ آر کے لوگ اس مشترکہ کیلنڈر کو دیکھ کر یہ جان لیتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے چھٹیوں کی درخواست کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کام کے بوجھ کے سبب لوگ چھٹیاں نہیں لیتے

بفر نے محدود چھٹیوں کی پالیسی تکنیکی کمپنیوں میں عام نہیں کی۔

سٹارٹ اپ اور آئی ٹی کمپنیوں میں لامحدود چھٹیوں کی پالیسی چلتی ہے اب یہ چھٹیاں جو بھی ہوں لامحدود نہیں ہوتیں کیونکہ ملازمین اکثر کام، مینیجر اور کمپنی کے کلچر کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں اور چھٹیاں نہیں لے پاتے۔

کتنا کام کرنا صحیح ہے؟

امریکہ ایسا واحد ترقی یافتہ ملک ہے جہاں ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹیوں پر بھیجنے کے بارے میں کوئی قانون نہیں ہے۔

امریکہ میں تقریباً 77 فیصد مالکان ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹیوں پر بھیجنے کی پیشکش کرتے ہیں لیکن اس کے عوض دی جانے والی رقم الگ الگ ہوتی ہے۔

مجموعی طور پر امریکی ملازمین دیگر ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کے مقابلے کم چھٹیاں لیتے ہیں۔

امریکہ کے برعکس یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ ہر سال کم از کم چار ہفتے کی چھٹیاں دینے کا قانون بنائیں۔

آسٹریا اس معاملے میں سب سے آگے ہے جہاں سالانہ 35 دن کی چھٹیاں دینے کا قانون ہے۔

Image caption بفر نے محدود چھٹیوں کی پالیسی تکنیکی کمپنیوں میں عام نہیں کی

بھرم سے بچنا ضروری ہے

بفر میں محدود چھٹیوں کی پالسی نافذ کرنے کے پیچھے ایک بھرم تھا۔ ملازمین کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کتنی چھٹیاں لے سکتے ہیں۔

بفر کی ایچ آر یعنی انسانی وسائل کی سربراہ ہولی گرافس کہتی ہیں ’لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ دوسرے لوگ کتنی چھٹیاں لے رہے ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ لوگ کام کر کر کے تھک جائیں، ہم چاہتے ہیں کہ ملازمین کی زندگی میں توازن برقرار رہے۔‘

اس بھرم سے بچنے کے لیے ان تمام کمپنیوں نے لامحدود چھٹیوں کو چھوڑ کر محدود چھٹیوں کی پالیسی اختیار کی ہے۔

سان فرانسسکو کی کمپنی بیئرمیٹرِکس کے سی ای او پِگ فورڈ نے لامحدود چھٹیوں کی پالیسی ختم کر دی کیونکہ لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کتنی چھٹیاں لے سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی ایک حد ہوتی ہے کیونکہ آپ پورے سال تو چھٹی نہیں لے سکتے۔

پِگ فورڈ کہتے ہیں کہ کہ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ لوگ خود چھٹی نہیں لیتے اور چھٹی لینے والے دوسرے لوگوں سے دشمنی پال لیتے ہیں۔ اب انھوں نے تمام ملازمین کے لیے سال میں چار ہفتوں کی چھٹیاں لینا لازمی کر دیا ہے، جس میں ایک ہفتے یا اس سے لمبے عرصے کی چھٹی لازمی ہو گی۔

مینیجر کی صلاحیت

جتنی چاہے چھٹی لینے کے ماڈل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل عملے کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے اور کام اور زندگی کے درمیان توازن قائم رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

مانچسٹر یونیورسٹی میں آرگنائزیشنل سائیکالوجی کے پروفیسر کیسی کوپر کا کہنا ہے کہ ملازمین چھٹی لینے میں جھجک محسوس نہ کریں ایسا کلچر بنانا انتظامیہ کا کام ہے۔

کئی مینیجرز میں اپنے ملازمین کی تھکان اور بیزاری کا پتا لگانے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور وہ پرجوش ملازمین کو چھٹی کی اہمیت کا احساس دلوانے میں ناکام رہتے ہیں۔

کوپر کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے امریکہ، برطانیہ اور کئی مختلف ممالک میں مینیجر تکنیکی صلاحیتوں کے بنیاد پر منتخب کیے جاتے ہیں، انسانی صلاحیتوں کی بنیاد پر نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں