#ValentinesDay2020: برطانیہ میں ڈسکاؤنٹ سٹور پاؤنڈ لینڈ پر منگنی کی 40 ہزار انگوٹھیاں فروخت

پاؤنڈ لینڈ، ویلنٹائن ڈے، پاؤنڈ، برطانیہ، انگوٹھی تصویر کے کاپی رائٹ Poundland
Image caption پاؤنڈ لینڈ سٹور کی ’بلنگ رنگز‘ کی قیمت ایک پاؤنڈ ہے

کچھ لوگ اس کا اظہار پھولوں سے کرتے ہیں تو کچھ چاکلیٹوں سے، مگر لگتا ہے کہ اب زیادہ تر لوگ پاؤنڈ لینڈ سے خریدی گئی انگوٹھیاں اپنی محبت کے اظہار کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

پاؤنڈ لینڈ ایسا برطانوی سٹور ہے جہاں زیادہ تر اشیا صرف ایک پاؤنڈ کی قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک پاؤنڈ قیمت کی ’بلنگ رنگز‘ اور ’مین بینڈز‘ کا مقصد یہ ہے کہ انھیں باقاعدہ انگوٹھیوں کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے۔

اس ڈسکاؤنٹ سٹور نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے رواں سال ویلنٹائنز ڈے سے قبل منگنی کی تقریباً 40 ہزار انگوٹھیاں فروخت کی ہیں جو کہ گذشتہ سال کی تعداد سے دو گنا زیادہ ہے۔

تحقیقی فرم سیوی کے مطابق گذشتہ سال ویلنٹائنز ڈے پر لوگوں نے 85 کروڑ 30 لاکھ پاؤنڈ تک صرف کیے جو کہ سال 2018 کے مقابلے میں 7.8 فیصد زیادہ ہے، چنانچہ حیرانگی کی بات نہیں کہ رواں سال بھی دکانیں اس موقع سے بھرپور نفع اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’پیار کے شہر سے، تمہارے نام‘

’اللہ پاک نے لاکھوں میں ایک دی ہے میری بیوی‘

ویلنٹائن ڈے: دہلی کے کالج میں ‘کنوارپن ٹری‘ پر تنازع

پاؤنڈ لینڈ کا کہنا ہے کہ اس کی ویلنٹائنز ڈے پروڈکٹس کی رینج اب تک کی سب سے بڑی رینج ہے جس میں خوشبوؤں سے لے کر ’بالغان کے‘ گفٹ کارڈ تک 80 سے زائد اشیا شامل ہیں۔

اور مارکس اینڈ سپینسر نے بھی دل کی شکل کی ’لوو ساسیج‘ کی ترکیب دوبارہ متعارف کروائی ہے جب کہ ایسا کھیرا بھی متعارف کروایا ہے جسے دل کی شکل کے ٹکڑوں میں کاٹا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ M&S
Image caption ریٹیل سٹور مارکس اینڈ سپینسر نے ویلنٹائنز ڈے کے موقع پر دل کی شکل کا کھیرا متعارف کروایا ہے

ریٹیل تجزیہ کار کیٹ ہارڈکیسل نے کہا کہ ریٹیلرز کے لیے ویلنٹائنز ڈے جیسے مواقع نہایت اہم ہوتے ہیں کیونکہ اس دوران گاہک دکانوں کی طرف راغب ہوتے ہیں جہاں وہ اکثر بلا سوچے سمجھے چیزیں خرید لیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال کے ویلنٹائنز ڈے سے وہ معاشی سست روی بھی ختم ہوگی جس سے نکلنے کے لیے کئی کاروبار جدوجہد کر رہے ہیں۔

ریستوران، پھول فروش اور گفٹ کارڈ بنانے والی کمپنیوں کو اس سے خاص طور پر فائدہ ہوگا کیونکہ 14 فروری ان کے لیے سال کا مصروف ترین دن ہوسکتا ہے۔

آن لائن پھول فروش کمپنی انٹرفلورا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عام دنوں کے مقابلے میں ویلنٹائنز ڈے پر 15 گنا زیادہ گلدستے ڈیلیور کریں گے۔ ان کے لیے یہ فی سیکنڈ تین گلدستوں کے برابر ہے۔

اس کے علاوہ آن لائن ٹیبل بکنگ پلیٹ فارم کوانڈو ہے جس پر کسی عام جمعے کے مقابلے میں ویلنٹائنز ڈے کے لیے بکنگز میں رواں سال 160 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

مگر اسے عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ منسوخیوں کی بھی امید ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پھول فروش کمپنی انٹرفلورا کو امید ہے کہ ویلنٹائنز ڈے پر ان کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوگا

تجزیہ کار رچرڈ ہیمن کہتے ہیں کہ ریٹیلرز نے ایک طویل عرصے تک ویلنٹائنز ڈے کے لیے خصوصی کوششیں کی ہیں لیکن اب اس دن کی اہمیت بلیک فرائیڈے کے قریب تر بھی نہیں ہے۔

انھیں یہ بھی لگتا ہے کہ اب کمپنیاں ویلنٹائنز ڈے پر گاہکوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ ’بے تاب اقدامات‘ کر رہی ہیں۔

’مجھے لگتا ہے کہ جب بھی فروخت میں سست روی آتی ہے تو بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور ایسے وقتوں میں صنعت کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایونٹس تلاش کیے جائیں جن کو بنیاد بنا کر پروموشن کی جا سکے۔‘

مگر تمام تحفظات کے باوجود ریٹیلرز کی کوشش ہے کہ اس دن سے زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کے لیے نت نئے طریقے ڈھونڈے جائیں۔

مثال کے طور پر کارڈ کمپنی مون پِگ نے بی بی سی کو بتایا کہ اپنے پسندیدہ پالتو جانوروں کے لیے بنائے گئے اس کے کارڈز کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔

جبکہ اس کی حریف کمپنی کارڈ فیکٹری نے بتایا کہ پہلے سے کہیں زیادہ لوگ صرف اپنے شریکِ حیات کے بجائے اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ ویلنٹائنز ڈے منا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MOonpig Cards
Image caption کئی لوگ اپنے پالتو جانوروں کے لیے بھی ویلنٹائنز ڈے کے کارڈ خرید رہے ہیں

اس دوران پاؤنڈ لینڈ کی کوشش ہے کہ گھر سے باہر نکلنے میں لوگوں کی ہچکچاہٹ سے فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ ہچکچاہٹ گذشتہ چند سالوں میں ریسٹورینٹس اور شراب خانوں میں فروخت میں کمی سے عیاں ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ وہ اس سال بھی رومانوی ڈیکوریشن فروخت کریں گے تاکہ جوڑے اپنے گھر کا ماحول بھی دل فریب بنا سکیں۔

کمپنی کی ایک ترجمان نے بتایا کہ ’کئی برطانوی شہری ویلنٹائنز ڈے پر پرہجوم اور مہنگے ریسٹورینٹس میں اپنی کمائی ضائع کرنے کے بجائے گھر پر آرامدہ اور رومانوی راتیں گزارنا پسند کرتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں