اسرائیلی فوجی خواتین کی جعلی تصویروں سے حماس کے ہیکرز کے دھوکے میں آ گئے

مبینہ طور پر حماس نے یہ تصویر بھی استعمال کی تھی تصویر کے کاپی رائٹ IDF
Image caption مبینہ طور پر حماس کے ہیکرز نے جو جعلی تصاویر استعمال کیں ان میں یہ تصویر بھی شامل تھی

اسرائیل کے فوجی حکام کے مطابق عسکریت پسند گروہ حماس نے درجنوں اسرائیلی فوجیوں کے موبائل فونز پر خواتین کی تصویریں بھیج کر انہیں ہیک کر لیا تھا۔

فوج کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان فوجیوں کو جوان لڑکیوں کی تصویریں بھیج کر ورغلایا گیا اور جب فوجیوں نے وہ تصویریں اپنے موبائل فونز پر ڈاؤن لوڈ کیں تو ان کے فون ہیک ہو گئے اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ حماس کو ان کے فونز تک رسائی حاصل ہو چکی ہے۔

تاہم اسرائیلی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بڑا نقصان‘ ہونے سے پہلے ہی فوج کو معلوم ہوگیا کہ مذکورہ فوجی دھوکے میں آ گئے تھے۔

لیفٹینینٹ کرنل جوناتھن کونریکس کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران حماس کی طرف سے اسرائیلی فوجیوں کے فون ہیک کرنے کی یہ تیسری کوشش تھی، ’لیکن حالیہ کوشش میں حماس نے بہت مہارت سے کام لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

گوگل اور ایپل کا اماراتی ایپ پر جاسوسی کا الزام

اسرائیلی ٹیکنالوجی سے پاکستانی حکام کی فون ہیکنگ ہوئی؟

ہم سب کی جیب میں ایک جاسوس ہے؟

’ہمیں معلوم ہے کہ وہ (حماس کے کارکن) یہ کام سیکھ رہے اور اس میں زیادہ مہارت حاصل کرتے جا رہے ہیں۔‘

کرنل جوناتھن کونریکس کا کہنا تھا کہ ہیکنگ میں جوان لڑکیوں کی جو تصویریں استعمال کی گئیں ان میں ان لڑکیوں کو ایسی تارکین وطن خواتین کے طور پر دکھایا گیا تھا جن کی بینائی کمزور ہو یا انہیں انہیں سننے میں دقتت ہوتی ہو۔ چنانچہ ان تصویروں کو اصل اور قابلِ اعتبار ثابت کرنے کے لیے ان کے ساتھ عبرانی میں جو تحریر تھی اس میں زبان کی غلطیاں رکھی گئی تھیں۔

یوں جب کوئی فوجی ان لڑکیوں سے دوستی پر رضامند ہو جاتا تو یہ ’خواتین‘ اسے فون پر ایک لِنک بھیجتیں اور کہتیں کہ اس پر لِنک کرو گے تو پھر ہم آپس میں تصویروں کا تبادلہ کر سکیں گے، لیکن جب کوئی فوجی اس لِنک کو ڈاؤن لوڈ کرتا تو ایک وائرس اس کے فون میں آ جاتا اور یوں اس کا فون حماس کے ہتھے چڑھ جاتا۔ اس طرح حماس والے اس فوجی کے فون پر موجود تصاویر، اس فوجی کی لوکیشن اور فون میں موجود دوسرے نمبروں تک رسائی حاصل کر لیتے۔

نہ صرف یہ بلکہ اس وائرس کے ڈاؤن لوڈ ہونے کے بعد ہیکر آپ کے جانے بغیر آپ کے فون سے تصویریں بھی اتار سکتا اور ویڈیو وغیرہ بھی ریکارڈ کر سکتا۔

کرنل جوناتھن کونریکس کا کہنا تھا کہ اسرائیل افواج کو حماس کے اس منصوبے کے بارے میں کئی ماہ پہلے معلوم ہو گیا تھا تاہم انہوں نے اسے بند کرنے سے پہلے اس پر مسلسل نظر رکھی۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی اسرائیلی فوجی حکام نے اپنے عملے کو خبردار کیا تھا کہ وہ سمارٹ فون استعمال کرتے ہوئے محتاط رہیں اور فوجیوں کو ہیکنگ سے محفوظ رہنے کے لیے ہدایات بھی فراہم کی گئی تھیں۔

اسی بارے میں