ذاکر نائیک: متنازع مبلغ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟

ذاکر نائیک
Image caption ذاکر نائیک نے کہا کہ وہ کسی غیر مسلم شخص کو تو انٹرویو دے سکتے ہیں لیکن مجھے نہیں

انڈیا سے تعلق رکھنے والے متنازع اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے تقریباً تین سال قبل انڈیا چھوڑ کر ملائشیا میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا تھا۔

اس وقت سے وہ بعض اوقات مودی سرکار اور کبھی ہندو معاشرے پر تنقید کے باعث زیرِ بحث رہے ہیں۔

ذاکر نائیک آج کل کیا کر رہے ہیں اور ملائشیا میں زندگی کس طرح گزار رہے ہیں اس بارے میں مزید معلومات اکٹھا کرنے کے لیے ہم نے ان کا انٹرویو کرنے کی کوشش کی۔

اس کے لیے ہم نے ممبئی میں ان کی پی آر ایجنسی سے رابطہ کیا لیکن ہماری درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔

اس کے باوجود ہم گذشتہ ہفتے ذاکر نائیک سے ملنے کے لیے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور پہنچے۔

ہمیں بتایا گیا کہ ذاکر نائیک پتراجایا میں رہتے ہیں۔ کوالالمپور سے پتراجایا پہنچنے میں 40 منٹ لگتے ہیں۔ پتراجایا وہ جگہ ہے جہاں ملائشیا کے سرکاری دفاتر اور رہائشی عمارتیں ہیں۔

یہ جگہ کبھی ربڑ کے درختوں کے لیے معروف تھی لیکن آج یہاں پر پرتعیش عمارتیں ہیں۔ یہاں کی پرکشش عمارتیں اور خوبصورت نظارے ملائیشیا کی معاشی ترقی کی غماز ہیں۔

ہم نے جمعے کو ذاکر نائیک سے ملاقات کا فیصلہ کیا کیونکہ ہمیں بتایا گیا کہ ذاکر نائیک جمعے کو شہر کی جامع مسجد میں جاتے ہیں۔

جب ہم پتراجایا مسجد پہنچے تو وہاں نمازیوں سے زیادہ سیاح موجود تھے۔ مسجد کے سکیورٹی اہلکاروں نے ہمیں بتایا کہ ذاکر نائیک ایک بجے تک وہاں پہنچ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

مسلم مبلغ ذاکر نائیک کا پاسپورٹ منسوخ

ذاکر نائیک کی تنظیم پر پانچ سال کی پابندی عائد

ممبئی: مذہبی مبلغ ذاکر نائیک کے دفاتر پر چھاپے

انڈیا: معروف مبلغ ذاکر نائیک پر منی لانڈرنگ کا الزام

لیکن ابھی ہمارے پاس کافی وقت تھا لہذا ہم نے اس رہائشی کمپلیکس جانے کا فیصلہ کیا جہاں ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ قیام پزیر ہیں۔

پانچ منٹ بعد ہم تمارا ریزیڈنس کے سامنے کھڑے تھے۔ اس رہائشی احاطے میں بہت سی فلک بوس عمارتیں تھیں۔ ہم نے اس رہائشی کمپلیکس کے سکیورٹی اہلکاروں کے توسط سے اپنا پیغام ذاکر نائیک تک پہنچایا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ہمارے پاسپورٹ کی تصاویر کھینچیں۔

اس کے بعد ہم ذاکر نائیک سے ملنے کا انتظار کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ایک شخص نے ہمیں فون پر بتایا کہ ذاکر نائیک شام پانچ بجے ہم سے ملاقات کریں گے۔

ہم واپس مسجد چلے گئے۔ ایک بجے کے قریب ذاکر نائیک اپنے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے۔

ذاکر نائیک کو دیکھ کر وہاں موجود نمازیوں نے ان کے سامنے سر جھکا لیا اور مصافحہ کیا۔ یہ دیکھ کر ہمیں احساس ہوا کہ ذاکر نائیک مسجد کے اندر سب سے اہم شخص ہیں اور اس ہنگامے کے دوران ان سے ملنا ممکن نہیں ہے۔

Image caption ہم نے جمعے کو ذاکر نائیک سے ملاقات کا فیصلہ کیا کیونکہ ہمیں بتایا گیا کہ ذاکر نائیک جمعہ کے روز شہر کی جامع مسجد میں جاتے ہیں

میں نے اپنے ساتھی دیپک سے کہا کہ کوئی حرج نہیں ہم شام پانچ بجے ان سے ملنے جا رہے ہیں۔

اس کے بعد ہم ایک بار پھر شام پانچ بجے اس رہائشی کمپلیکس پہنچے جہاں ذاکر نائیک رہ رہے تھے۔ اس بار سکیورٹی اہلکاروں نے ہمیں احاطے کے اندر جانے دیا۔ اس رہائشی کمپلیکس کے اندر پہنچ کر ایک شخص نے اپنا تعارف ذاکر نائیک کے ساتھی کے طور پر کرایا۔

اس شخص نے دو بڑی عمارتوں کے درمیان واقع ایک چھوٹی سی مسجد میں جانے کی درخواست کی۔

ہمیں بتایا گیا کہ دوپہر کے بعد ہونے والی عبادت ذاکر نائیک کروائیں گے۔ جب ہم اس مسجد کے اندر پہنچے تو ذاکر نائیک تقریباً پچاس ساٹھ افراد کے سامنے کھڑے تھے جب کہ انڈیا اور دیگر ممالک میں ہزاروں افراد ان کی تقریر سننے آتے تھے۔

نماز کے بعد ہمارا تعارف ذاکر نائیک سے اس وقت ہوا جب وہ مسجد سے باہر جارہے تھے۔ ہمیں لگا کہ اگر وہ ہمیں مسجد کے اندر مدعو کریں گے تو وہ ہم سے بات کریں گے۔

لیکن ذاکر نائیک نے براہ راست کہا ’کیا عارف (ممبئی میں ذاکر نائیک سے رابطہ کروانے والے شخص) نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ میں نے آپ کو انٹرویو دینے سے کیوں انکار کیا؟ بی بی سی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا اور آپ پر بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آپ لوگ میرے خلاف امتیازی رویہ رکھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

میں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ’بی بی سی کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتا ہے اور میں نے اپنے تیس سالہ طویل کیریئر میں پہلی بار یہ سنا ہے۔‘

یہ سن کر ذاکر نائیک نے کہا ’اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ پہلی بار کسی ایسے شخص سے مل رہے ہیں جو سچ بولتا ہے۔‘

میں نے کہا کہ انٹرویو کی درخواست کو مسترد کرنے کے بعد بھی میری ملنے کی کوشش یہ بتاتی ہے کہ ہم ان پر عائد الزامات کے بارے میں ان کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔

اس پر انھوں نے کہا کہ وہ کسی غیر مسلم شخص کو تو انٹرویو دے سکتے ہیں لیکن مجھے نہیں۔

اپنے سکول پر مبنی سنہ 2016 میں شائع ہونے والی میری ایک کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا ’میں نے آپ کو سکول جانے کی اجازت اس لیے دی تھی کہ میں سمجھتا تھا کہ آپ مسلمان ہیں اور ہمیں بہتر طور پر سمجھیں گے۔‘

میری ملاقات کے دوران ان کے آخری الفاظ یہ تھے کہ ’جب آپ بی بی سی چھوڑیں گے تو میں آپ کو انٹرویو دوں گا۔‘

Image caption ہمیں بتایا گیا کہ ذاکر نائیک پتراجایا نامی جگہ پر رہتے ہیں۔ پتراجیا وہ جگہ ہے جہاں ملائشیا کے سرکاری دفاتر اور رہائشی عمارتیں ہیں

ہماری یہ ملاقات ایک منٹ سے زیادہ طویل نہیں ہوسکی۔ میں سمجھ نہیں پایا کہ وہ مجھ سے ناراض تھے یا بی بی سی سے۔

برطانوی حکومت نے ایک وقت پر برطانیہ میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ میں نے سوچا کہ لیکن اس میں بی بی سی سے ناراض ہونے کی تو کوئی وجہ نہیں۔

میں اس بات پر بھی حیران تھا کہ سنہ 2016 میں دبئی میں رہتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو انٹرویو دینے پر رضامندی ظاہر کیوں کی تھی؟ یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے ہمارے ہوائی اڈے جانے سے قبل انٹرویو منسوخ کردیا تھا۔

مجھے یقین نہیں تھا کہ اگر وہ ہم سے بات کرنا بھی چاہیں تو انھیں ملائیشیا کی حکومت کی جانب سے میڈیا کو انٹرویو دینے کی اجازت تھی یا نہیں۔

پچھلے سال انھوں نے جب ملائیشیا کے ہندوؤں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ملائیشیا کے وزیر اعظم محمد مہاتیر سے زیادہ انڈیا کے وزیر اعظم مودی سے عقیدت رکھتے ہیں تو ایک تنازع کھڑا ہو گیا تھا اور انھیں اس طرح کے بیانات دینے کی بجائے اسلام کی تبلیغ پر توجہ دینے کو کہا گیا تھا۔

ملائیشیا میں ایک ہفتہ قیام کے دوران ہمیں احساس ہوا کہ ذاکر نائیک نے ملائشیا میں ایک متاثر کن حیثیت بنا لی ہے۔ ملائیشیا کی پینانگ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ وائی بی کمارسامی نے ہمیں بتایا کہ ذاکر نائیک نے ملائشیا میں ’اوتار کا درجہ حاصل کر لیا ہے‘۔

مالائی برادری کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ان سے بہت عقیدت رکھتے ہیں۔ ہم نے کوالالمپور میں مسلمان نوجوانوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔

ان لڑکوں سے گفتگو کے دوران ہم نے مشہور ہندوستانی لوگوں کے نام پوچھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایسا لگتا ہے کہ مہاتیر اپنے آپ کو انڈین نسل سے دور رکھتے ہوئے ملائی برادری سے اپنے آپ کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں

ایک لڑکے نے جھجکتے ہوئے کہا ’میں صرف ذاکر نائیک اور گاندھی کو جانتا ہوں۔‘ ایک اور لڑکے نے شاہ رخ خان اور ذاکر نائیک کا نام لیا۔ جبکہ ایک لڑکا مشہور ہندوستانی شخصیات میں سے صرف ذاکر نائیک کو جانتا تھا۔

ذاکر نائیک کا اثر ہر عمر کے لوگوں پر واضح طور پر نظر آتا ہے۔

ہزوان سایفک نامی شخص نے ذاکر نائیک کے بارے میں کہا ’وہ ایک عالم دین ہیں اور ان کے گہرے علم اور منطقی دلائل نے اسلام کے بارے میں میرے ابہام کو دور کر دیا ہے۔‘

سایفک ذاکر نائیک کے مداح ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’وہ نہ صرف اسلام سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں بلکہ بدھ مت، ہندو اور مسیحی مذاہب کے بارے میں بھی معلومات دیتے ہیں۔‘

لیکن ملائشیا میں رہنے والے بہت سارے لوگ خاص کر ہندو اور بدھ مذہب پر یقین رکھنے والے، ذاکر نائیک کی طرف سے ان کے مذہب کا اسلام سے موازنہ اور ان کے مذاہب پر تنقید کو قبول نہیں کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ذاکر نائیک کے کٹر حامیوں سے بحث کرنے والے اے کے ارون کا خیال ہے کہ ذاکر نائیک ’ملائیشین معاشرے کی کثیر الثقافتی اقدار کو تباہ کر رہے ہیں‘۔

وہ کہتے ہیں 'ذاکر جو تعلیمات دیتے ہیں اس میں دوسرے مذاہب کی توہین ہوتی ہے۔ مجھ جیسے لوگ اسے پسند نہیں کرتے کیونکہ ہم انسانیت اور تمام نسلوں کی مساوات کے خیال پر یقین رکھتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اے کے ارون انڈیا سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں میں سے ایک ہیں جن پر ذاکر نائیک یا ان کے حامیوں کی جانب سے ہتک عزت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تین سال تک کیس لڑنے کے بعد ارون تھکے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں 'میں خود کو ذہنی طور پر متاثر محسوس کرتا ہوں اور دوسرے بھی ایسا ہی سوچتے ہیں۔ آسان الفاظ میں اگر آپ مضبوط نہیں ہیں تو آپ کی زندگی خراب ہوجاتی ہے۔'

پینانگ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ وائی بی کمارسامی بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھیں ہتک عزت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ذاکر نائیک کے اسلام کی تبلیغ سے انھیں اعتراض نہیں ہے، لیکن ’انھیں ہندو مذہب پر تنقید کرنے کا کیا حق ہے۔‘

ذاکر نائیک کے بہت سے کٹر حامی ہیں جو ان کے شاگرد کہلاتے ہیں۔

ان میں سے ایک 35 سالہ نوجوان زمری ونوت ہیں جو پانچویں نسل کے تمل انڈین ہیں۔

ونوت نے 16 سال کی عمر میں ہی دین اسلام کو قبول کیا اور وہ اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے ممبئی میں قائم ذاکر نائیک کے سکول میں رہنے گئے تھے۔

ونوت کہتے ہیں 'وہ اور میں یا ان کے کوئی بھی شاگرد ہندو، انڈین یا کسی اور مذہب کے بارے میں غلط باتیں نہیں کرتے ہیں۔ ہم تمام مذاہب کا موازنہ کر کے ایک دوسرے کے قریب جانے کی کوشش کرتے ہیں۔'

زمری ونوت نے سوشل میڈیا پر پوری قوت کے ساتھ ذاکر نائیک کا دفاع کیا۔ ان کا خیال ہے کہ ملائیشیا میں چند لوگوں کے علاوہ زیادہ تر لوگوں نے ذاکر نائیک کا استقبال کیا ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہاں ہندو برادری کے ’کچھ لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں جو آر ایس ایس کے پس منظر سے آتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کا کنبہ ابھی بھی ہندو ہے اور ان کے ہندو دوستوں نے ذاکر نائیک کے مذاہب کے موازنہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے۔

یہ سچ ہے کہ مالائی برادری کے بیشتر افراد ذاکر نائیک کی حمایت کرتے ہیں۔ ملائشیا کی 3.3 کروڑ آبادی میں سے 65 فیصد آبادی مالائی برادری کی ہے۔ اس جماعت کے زیادہ تر لوگ مسلم مذہب کے ماننے والے ہیں۔ ملائیشیا میں 20 فیصد لوگ چینی ہیں جو بدھ مت کی پیروی کرتے ہیں۔ سات فیصد لوگ انڈین نژاد ہیں جن میں زیادہ تر تمل ہندو ہیں۔

یہ اقلیتیں ذاکر نائیک کی موجودگی سے ’خطرہ‘ محسوس کرتی ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت ذاکر نائیک کو انڈیا کے حوالے کر دے تاکہ وہ انڈیا میں اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کا سامنا کرسکیں۔

Image caption کوالالمپور سے پتراجایا پہنچنے میں 40 منٹ لگتے ہیں۔ پتراجیا وہ جگہ ہے جہاں ملائشیا کے سرکاری دفاتر اور رہائشی عمارتیں ہیں

لیکن وزیر اعظم مہاتیر محمد کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ ان کے آباؤ اجداد انڈیا سے وابستہ ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ مہاتیر اپنے آپ کو انڈین نسل سے دور رکھتے ہوئے ملائی برادری سے اپنے آپ کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کمارا سامی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ یہ مالائی برادری کے جذبات کے خلاف ہوگا۔

اس کے ساتھ ملائیشیا کی حکومت کے بعض حلقوں کا یہ موقف بھی ہے کہ انڈین حکومت کی طرف سے نائیک کی حوالگی کے لیے جو ثبوت دیے گئے ہیں وہ کمزور اور 'من گھڑت' ہیں۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم کا خیال ہے کہ ذاکر نائیک کو ہندوستان میں انصاف نہیں ملے گا۔

ذاکر نائیک کے خلاف انڈیا میں وارنٹ جاری ہے۔ ان پر نوجوانوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر اکسانے کا الزام ہے۔

انڈین حکومت نے ملائیشیا کی حکومت سے اس الزام کی بنیاد پر ذاکر نائیک کو حوالے کرنے کی درخواست کی ہے۔

لیکن ذاکر نائیک کے ملائیشیا سے انڈیا حوالے کیے جانے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ملائیشیا کا اگلا وزیر اعظم کون بنتا ہے۔

وزیر اعظم کے عہدے کے سب سے مضبوط امیدوار انور ابراہیم کو انڈیا کے قریبی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ابراہیم کو بھی اتنا بڑا قدم اٹھانے کے لیے سیاسی قوت ارادی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔

سرکاری تھنک ٹینک کے لیے کام کرنے والے ارون ایس کا کہنا ہے کہ ذاکر نائیک پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ وہ کہتے ہیں 'ابھی تک انھوں نے ملائیشیا کے قانون کو نہیں توڑا ہے۔ ان کے خلاف ابھی تک منی لانڈرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ لیکن ان کی ہمیشہ نگرانی کی جارہی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ذاکر نائیک کا متنازع مبلغ بننے کا سفر حیرت انگیز رہا ہے۔ ان کے ایک مشہور ٹی وی چینل پیس ٹی وی پر اب انڈیا اور بنگلہ دیش میں پابندی عائد ہے۔

وہ ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقے ڈونگری میں 1965 میں پیدا ہوئے۔ ذاکر نائیک کے گھر کے بہت سے لوگ ڈاکٹر ہیں۔ ان کے والد اور بھائی دونوں ڈاکٹر ہیں۔

سنہ 1991 میڈیکل پریکٹس چھوڑنے کے بعد انھوں نے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔

ان کی فاؤنڈیشن اور سکول کو حکومت نے سیل کر دیا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے ٹی وی چینل پیس ٹی وی کے دنیا بھر میں دو کروڑ فالوورز ہیں۔ ان کے کٹر حامیوں کا خیال ہے کہ ’انڈین حکومت نے ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ چلایا ہے اور انھوں نے انڈیا میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں