چین: تین غیر ملکی صحافیوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین نے وال سٹریٹ جرنل میں چھپنے والے ایک مضمون کو نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے اخبار کے تین صحافیوں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل میں تین فروری کو چھپنے والے اس مضمون میں کورونا وائرس کی وباء سے نمٹنے کے لیے چینی حکومت کے اقدامات پر تنقید کی گئی تھی۔

چینی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اخبار سے کئی مرتبہ کئی کہا گیا کہ وہ معافی مانگے لیکن اس نے رد کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ

چین میں ہسپتال تعمیر کرنے والی مشینیں ’ہیرو‘ بن گئیں

وال سٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو چین سے نکل جانے کے لیے پانچ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ مضمون اِن صحافیوں نے نہیں لکھا تھا۔

مضمون میں چین کے ابتدائی ردِعمل کو 'پردہ پوش اور مفاد پرستانہ' قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ چین کے بارے میں عالمی اعتماد متزلزل ہوا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ کا کہنا ہے کہ یہ مضمون 'نسل پرستانہ‘ ہے اور اِس نے وباء کے خلاف چین کی کوششوں کو ’بدنام‘ کیا ہے۔

چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔

ترجمان نے ملک بدری کا سامنا کرنے والے صحافیوں کا نام لیے بغیر کہا کہ چینی عوام ایسے میڈیا کو خوش آمدید نہیں کہتے جو نسل پرستانہ بیانات چھاپتا ہے اور چین پر کینہ پرور حملے کرتا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے اِن صحافیوں کی شناخت ظاہر کی ہے۔ ان میں جوش چِن اور چاو ڈینگ نامی صحافی امریکی شہری ہیں۔ جبکہ فلپ وین آسٹریلوی شہری ہیں۔

اخبار نے ابھی تک چینی حکومت کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

بیجینگ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایسے صحافیوں کو چین سے نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے جن کے پاس قانونی دستاویزات موجود تھیں۔

غیرملکی صحافیوں کو ملک بدر کرنے کا چینی حکومت کا فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن پہلے ہی امریکی حکومت نے کہا ہے کہ امریکہ میں کام کرنے والے چین کے پانچ سرکاری میڈیا اداروں کو غیر ملکی سفارتخانوں کی طرح سمجھا جائے گا۔ ان پانچ چینی اداروں کے ملازمین اور اثاثوں کو امریکہ میں رجسٹر کروانا ہو گا۔

اسی بارے میں