شام کے شہر ادلب پر اس وقت کس کا راج ہے؟

Graphic image of Syria war

شام کا شمالی صوبہ ادلب وہ واحد علاقہ ہے جہاں صدر بشار الاسد کی مخالف قوتوں کا کنٹرول ہے۔

ایرانی ملیشیا اور روسی فضائی حملوں کی مدد سے شامی حکومت متواتر ادلب میں داخل ہونے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

درجنوں قصبے اور دیہات شامی حکومت کی فوج نے کنٹرول میں لے لیے ہیں۔ ایک اہم ہائی وے بھی شامی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ یہ ملک کی معاشی شہ رگ ہے، شام کے شمال کو جنوب سے ملاتی ہے اور حمص کو حلب اور دمشق سے ملاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق دسمبر کے بعد سے اس معرکے میں تیزی آنے کے بعد سے تقریباً نو لاکھ لوگ، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شامی فوج کی فائرنگ سے چھ ترک فوجی ہلاک

ادلب: دو لاکھ سے زائد شہریوں کی نقل مکانی

’صدر ٹرمپ نے شام پر فوج کشی کا فیصلہ ابھی نہیں کیا‘

یہاں لڑائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ 2018 میں ترکی، ایران، اور روس کی مدد سے کیا گیا امن معاہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔ ترکی شامی باغیوں کی حمایت کر رہا ہے جبکہ روس شامی حکومت کو تعاون فراہم کر رہا ہے۔

ترک صدر طیب اردوغان نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فروری تک وہ شامی فوجی جو ادلب میں موجود ہیں، واپس نہ گئے تو انھیں نکال دیا جائے گا۔

برطانیہ میں قائم شامی جنگ کی نگرانی کرنے والی تنظیم سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ 1240 ترک جنگی گاڑیاں ادلب میں داخل ہو چکی ہیں اور ان میں تقریباً 5000 فوجی بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ادلب کا کنٹرول کس کے پاس ہے؟

2015 میں حکومتی کنٹرول ختم ہونے کے بعد سے ادلب کا کنٹرول متعدد حریف گروہوں کے پاس رہا ہے۔ اس علاقے میں مرکزی سرگرم گروہوں میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

  • حیات تحریر الشام
  • نیشنل لبریشن فرنٹ
  • حراس الدین
  • ترکستان اسلامک پارٹی

جنوری 2019 میں حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس، جو کہ خود متعدد عسکریت پسند گروہوں کی تنظیم ہے) نے علاقے میں دیگر گروہوں کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا۔ اس وقت شمالی شام میں یہ گروہ شاید طاقتور ترین ملیشیا ہے۔ یہ ادلب کے بیشتر علاقوں کو کنٹرول کرتا ہے جن میں صوبائی دارالحکومت اور باب الاہوا کے نام سے ترکی کے ساتھ بارڈر کراسنگ ہے۔

ایچ ٹی ایس النصرہ فرنٹ کی تازہ ترین شکل ہے جو کہ شام میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم ہے۔

2016 میں النصرہ فرنٹ نے اعلان کیا تھا کہ اس کے القاعدہ نیٹ ورک کے ساتھ رسمی روابط ہیں اور اس نے اپنا نام تبدیل کر کے جبہت فتح الشام رکھ لیا تھا۔ اگلے سال اس نے متعدد جہادی گروپوں کے ساتھ اتحاد کر کے ایچ ٹی ایس بنا لی تھی۔

اگرچہ ایچ ٹی ایس کا اصرار ہے کہ وہ ایک آزاد گروپ ہے تاہم اقوام متحدہ، ترکی، اور امریکہ اسے القاعدہ کی ایک شاخ تصور کرتے ہیں۔

ماہرین عموماً اس حوالے سے اعداد و شمار دینے سے کتراتے ہیں تاہم ایک آزاد تجزیہ کار ایمن جواد التمیمی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ایچ ٹی ایس سب سے بڑا گروپ ہے جو ابھی بھی صوبہ ادلب کے بڑے علاقوں کو کنٹرول کرتا ہے، حکومت کے خلاف زیادہ تر لڑائیاں یہی گروپ لڑتا ہے اور اس کے جنگجوؤں کی تعداد 15 ہزار سے 20 ہزار ہے۔

التمیمی کے مطابق ایچ ٹی ایس اس علاقے میں ایک ایسا سول نظام نافذ کیا اور اس کی حمایت کر رہی ہے جہاں قائم اپوزیشن کی حکومت کو ہزاروں ملازمین بھی دستیاب ہیں۔

جنوری میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے ان جنگجوؤں کی تعداد کچھ کم کر کے بتائی ہے جس کے مطابق یہ 12 ہزار سے 15 ہزار کے درمیان ہے۔ رپورٹ کے مطابق ادلب میں ایچ ٹی ایس سے جڑے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد غیر ملکی جنجگوؤں کی بھی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ہرس الدین نامی گروپ کے ساتھ وابستہ اضافی جنگجوؤں کی تعداد 3500 سے 5000 تک بنتی ہے۔

شامی حکومت کے حمایتیوں کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ بنتی ہے۔

حکومت نواز سیاستدان شہابی نے بی بی سی کو بتایا کہ ادلب میں ایچ ٹی ایس جنجگوؤں کی تعداد ایک لاکھ تک بنتی ہے۔

ان کے مطابق اس کے باوجود کہ گروپ اس بات کی تردید کرتا ہے لیکن ایچ ٹی ایس کی وابستگی القاعدہ کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ (ایچ ٹی ایس) القاعدہ کے جھنڈے تلے جمع ہیں اور وہ القاعدہ جیسے حربے استعمال کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ادلب میں دیگر گروپس

ایچ ٹی ایس کے توڑ کے لیے باغیوں کے ایک اور اہم گروہ نے سنہ 2018 میں نیشنل لبریشن فرنٹ (این ایل ایف) بنائی۔

یہ ترکی کا حمایت یافتہ اتحاد ہے جسں میں احرارالاسلام، فیلاق الاشام سخت گیر اسلامی گروہ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فری سریئن آرمی کے جھنڈے تلے بھی بہت سے ایسے گروہ کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی آرمی ہے جسے مغربی ممالک بھی جدت پسند قرار دیتے ہیں۔

اکتوبر میں این ایل ایف نے شمالی شام میں اپنا الحاق دیگر گروپس کے ساتھ بھی کیا اور سریئن نیشل آرمی (ایس این آئی) کا حصہ بننے کے لیے اس گروہ نے اپنی تشکیل نو بھی کی۔ ایس این آئی شام کی عارضی حکومت کی وزارت دفاع کے تحت اپنے تمام امور کی انجام کر رہی ہے۔

امریکہ کے ایک تحقیقاتی ادارے دی سینچری فاؤنڈیشن کے آرون لنڈ کے مطابق این ایل ایف ابھی بھی وہی گروہ ہے جو وہ اپنی ایس این اے کی صورت تشکیل نو سے پہلے تھا۔ ان کے خیال میں اس اتحاد میں اب بھی وہی (سخت گیر) گروپس شامل ہیں۔ ان کے خیال میں اس اتحاد کو ترکی کی طرف سے ہر طرح کی افرادی، مالی اور دفاعی مدد حاصل ہے۔

آرون لنڈ کے مطابق یہ اتحاد ایچ ٹی ایس کے مقابلے میں واضح طور پر ایک کمزور طاقت ہے۔ ان کے خیال میں ان میں نظم و ضبط، آپریشن اور تنظیمی ڈھانچے جیسے اجزا کی کمی ہے اور اس اتحاد کو اس قدر اسلحہ بھی دستیاب نہیں ہے۔ ’تاہم اس گروہ کے پاس کچھ مزید انفرادی طاقت حاصل ہے اور یہ ترکی کے بھی زیادہ قریب ہے جس کا ادلب کے مستقبل میں اہم کردار ہے۔‘

امریکی وزارت دفاع کی جانب سے فروری میں جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق ترکی کے حمایت یافتہ 30 سے زائد گروہوں کی کل تعداد تقریباً 22 ہزار سے لے کر 50 ہزار تک بنتی ہے۔

اس کے علاوہ کچھ مزید گروہ بھی ہیں۔

ان میں ایچ ٹی ایس سے الگ ہونے والا ایک گروپ حرس الدین یعنی مذہب کے نگہبان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شام میں القاعدہ کا نئے اتحادی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

حرس الدین میں زیادہ افراد ایچ ٹی ایس چھوڑنے والوں میں سے شامل ہیں۔ اس وقت اختلافات کی وجہ سے کبھی کبھار محدود اتحاد کے علاوہ دونوں گروہوں کے لیے ایک ساتھ کام کرنا انتہائی مشکل بن چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی وزارت دفاع کے مطابق ترکی کے حمایت یافتہ 30 سے زائد گروہوں کی کل تعداد تقریباً 22 ہزار سے لے کر 50 ہزار تک بنتی ہے

غیر ملکی عسکریت پسند

ادلب میں غیر ملکی جہادیوں کی بھی بڑی تعداد ہے جو القاعدہ سے وابستہ گروہوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔

ترکستان اسلامک پارٹی (ٹی آئی پی) اویغور جنگجوؤں پر مشتمل ایک گروپ ہے جو زیادہ تر ایچ ٹی ایس کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لیتے ہیں۔ اویغور سنکیانگ میں بسنے والی اقلیتی چینی مسلم نسل ہے۔ ان چینی مسلم افراد پر مشتمل گروپ شمالی شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے ابتدا میں قائم عمل میں آیا تھا۔

ان علاقوں میں ازبک توحید اور جہاد بریگیڈ بھی کام کررہی ہیں جو کہ ایچ ٹی ایس اور امام البخاری بریگیڈ کی اتحادی ہیں۔

شام کی رکن پارلیمنٹ فارس شہابی کا کہنا ہے کہ ’ہمارے خیال میں دنیا بھر کے 103 ممالک سے آئے ہوئے جنگجو جن میں نمایاں اویغور، تاجک، ازبک، ترک ہیں کی تعداد 30 ہزار سے 40 ہزار تک بنتی ہے۔ ان جنگجوؤں میں سے بہت سے اپنے خاندانوں سمیت ہجرت کر کے یہاں شام میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

لیکن برطانیہ کی سکیورٹی سے متعلق تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے رافیلو پینٹوچی کے مطابق جنگجوؤں کی یہ تعداد کہیں زیادہ بنتی ہے۔

ان کے خیال میں ان جنگجوؤں اور ان کے خاندان والوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ادلب میں اور بھی غیر ملکی جہادی ہیں جن میں چیچن اور ازبک بھی ہیں جن کی تعداد شاید زیادہ نہ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ادلب میں پھنسے عام افراد

ادلب میں رہنے والے عام افراد کے لیے یہ سب سے تشویشناک ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ادلب میں تین ملین لوگ بستے ہیں جن بچوں کی تعداد ایک ملین تک بنتی ہے۔

ان میں 40 فیصد سے زیادہ تعداد دوسرے علاقوں سے آئے لوگوں کی بنتی ہے جہاں پہلے اپوزیشن کے گروہوں کی حکومت تھی۔ یو این کے مطابق ادلب پر ہونے والے فضائی اور زمینی حملوں میں عام افراد کا جانی نقصان زیادہ ہوتا ہے اور ان حملوں کی وجہ سے بڑی تعداد یہاں سے کوچ کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

اپریل 2019 سے لے کر اب تک شمال مغربی شام میں لڑائی میں تیزی آنے سے شام میں 1710 عام افراد مارے گئے جن میں 337 خواتین اور 503 بچے بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں