جرمنی میں شیشہ بارز پر فائرنگ، نو افراد ہلاک

جرمنی میں شیشہ بارز پر فائرنگ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جرمن حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال واضح نہیں کہ یہ حملے کیوں کیے گئے

جرمنی کے مغربی شہر ہاناؤ میں پولیس کا کہنا ہے کہ دو شیشہ بارز پر ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے جبکہ حملہ آور کی لاش سمیت دو لاشیں اس کے مکان سے ملی ہیں۔

فائرنگ کے واقعات بدھ کی شب مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے کے بعد پیش آئے اور اطلاعات کے مطابق جن مقامات پر حملہ کیا گیا وہ کرد نسل کے افراد میں مقبول ہیں۔

ان حملوں کے بعد حملہ آور نے جائے وقوعہ سے فرار ہو کر اپنے مکان میں پناہ لی جہاں سے بعدازاں اس کی لاش کے ساتھ ایک اور شخص کی لاش ملی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے خودکشی کی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطبق حملہ آور ایک جرمن شہری تھا جس کے پاس اسلحہ رکھنے کا لائسنس تھا اور اس کی گاڑی سے مزید گولیاں بھی ملی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال واضح نہیں کہ یہ حملے کیوں کیے گئے۔

بلڈ نامی اخبار کے مطابق حملہ آور نے اپنے اعترافی خط اور ویڈیو میں انتہائی دائیں بازو کے خیالات ظاہر کیے ہیں تاہم ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فائرنگ کا پہلا واقعہ فرینکفرٹ سے25 کلومیٹر دور ہناؤ شہر کے مرکزی علاقے میں واقع مڈنائٹ شیشہ بار میں پیش آیا

دہشت گردی کے معاملات کی تحقیقات کرنے والے جرمن فیڈرل پراسکیوٹرز نے اس معاملے کی تحقیقات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ ادارے کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے نسل پرستانہ محرک ہی دکھائی دیتا ہے۔

حملے کا نشانہ بننے والی شیشہ بارز میں سے ایک کے قریب کام کرنے والے شخص کینلوسا فریسنا کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی اور والد حملے کے وقت علاقے میں موجود تھے۔خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’یہ ایک فلم کی طرح تھا۔ کسی برے خواب کی مانند، جیسے ہم کوئی برا خواب دیکھ رہے ہوں۔‘

ہم حملوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

فائرنگ کا پہلا واقعہ فرینکفرٹ سے 25 کلومیٹر دور ہناؤ شہر کے مرکزی علاقے میں واقع مڈنائٹ شیشہ بار میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک درجن کے قریب گولیاں چلنے کی آوازیں سنی اور یہاں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملہ آور کی لاش اس کے مکان سے ملی

اطلاعات کے مطابق حملہ آور اس کارروائی کے بعد ایک گہرے رنگ کی گاڑی میں کیسلتات نامی علاقے کی جانب گیا جہاں اس نے ایرینا بار اور کیفے نامی ریستوران میں فائرنگ کی جس سے پانچ افراد مارے گئے۔

فائرنگ کے ان واقعات کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہا اور سات گھنٹے تک پولیس اس خیال کے ساتھ تلاش میں مصروف رہی کہ ان حملوں میں ایک سے زیادہ حملہ آور ملوث ہو سکتے ہیں۔

پولیس جب حملہ آور کے مکان تک پہنچی تو تلاشی کے دوران اسے دو لاشیں ملیں جن میں سے ایک پولیس کے مطابق حملہ آور کی ہے۔

ہناؤ کے میئر نے اخبار بلڈ کو بتایا کہ یہ ایک ’خوفناک رات‘ تھی اور اس سے بدتر رات کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک افسوناک یاد کی شکل میں ہمارے ساتھ بہت عرصے تک رہے گی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں