اطالوی مافیا کے سرغنہ کی وہ غلطیاں جن کی وجہ سے وہ پکڑے گئے

  • ڈومینک کیسیانی
  • بی بی سی
پینزوٹو
،تصویر کا کیپشن

گینارو پینزوٹو

برطانیہ کے شمال میں کاروان پارک میں ایک الماری میں اطالوی چمڑے کے ڈانسنگ شوز رکھے ہوئے ہیں۔ تب سے اب تک جب بھی ان کے مالک کو ان جوتوں کی ڈانس فلور پر ضرورت پڑتی ہے تو وہ انھیں الماری سے نکال کر پالش کرتے ہیں۔

محنتی شخض مِک کے لیے یہ قیمتی اثاثہ ہیں۔ جس شخص نے یہ جوتے ان کو دیے تھے وہ اٹلی سے آئے ہوئے ان کے نئے پڑوسی تھے۔

ان کا نام گینارو پینزوٹو تھا۔

لوگوں کو یہ میل جول رکھنے والا دلکش اطالوی شخص، جو دیہی لنکا شائر میں شدید سردی میں گملوں میں تلسی اگانے کی کوشش کر رہا تھا، بہت پسند آیا۔

اور گینارو کو بھی کاروان پارک کا علاقہ پسند آیا جہاں وہ آرام سے رہ سکتے تھے۔ یہ اطالوی شہر نیپلس کی گلیوں میں خون سے لکھی گئی تاریخ سے چھپنے کے لیے اچھی جگہ تھی۔

لیکن انھیں معلوم نہیں تھا کہ حقیقت نے جلد ہی انھیں اپنی گرفت میں لے لینا تھا۔

انٹرویو

یہ جون 2019 کی بات ہے۔ تقریباً 12 برس قبل انھوں نے یہ جوتے مِک کو تحفے میں دیے تھے۔ میں ان کا سخت سکیورٹی والی جیل کے اندر انتظار کر رہا تھا۔

میں اطالوی ایلپس کے اتنا زیادہ شمال میں تھا کہ یہاں سے کچھ دور ہی لوگ فرانسیسی پنیر پیش کرنے لگ جاتے ہیں۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ٹوٹی پھوٹی جیل کے اندر بلیچ سے اٹی دیواروں کی بدبو کی وجہ سے سانس گھٹنے لگتا ہے۔ اندر سے صرف آسمان ہی دکھائی دیتا ہے اور اگر کوئی کھڑکی مل جائے تو پھر خوبصورت پہاڑیوں کی چوٹیوں کا نظارہ ہو جاتا ہے۔

جیلر نے جیل کا اندرونی دروازہ کھولا تو گینارو پینزوٹو میری طرف چلتے ہوئے آئے۔

اطالوی مافیا سے تعلق رکھنے والے یہ 45 سالہ شخص تندرست اور توانا تھے۔ انھوں نے قیدیوں کے مخصوص لباس کے بجائے ایک موٹی تہہ والی جینز، ڈیزائنر شرٹ اور جوگرز پہنے ہوئے تھے۔

علیک سلیک کے بعد ہم بات چیت کرنے بیٹھ گئے اور انھوں نے اپنے کیے گئے جرائم کی تفصیلات بتانا شروع کر دیں۔ وہ اپنی زندگی کے بارے میں اہم انکشافات کر رہے تھے اور ایسے سوالات کا جواب بھی دے رہے تھے جن میں ان سے پوچھا گیا کہ وہ اتنے عرصے برطانیہ میں کیا کچھ کرتے رہے۔

ہم جانتے ہیں کہ یہ کہانی اٹلی کے شہر نیپلس میں ہولناک جرائم سے شروع ہوتی ہے اور برطانیہ کے لنکا شائر میں مافیا سمِٹ کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن کیا وہ سچ بول رہے ہوں گے؟

میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ سے کس قسم کے جرائم سرزد ہوئے ہیں؟

جواب تھا کہ ’میرے جرائم کی فہرست میں قتل، اقدامِ قتل، مافیا سے تعلق، بھتہ، منی لانڈرنگ، منشیات اور اسلحہ سمگلنگ شامل ہیں۔‘

آپ خود کتنے قتل کے مقدمات میں ملوث ہیں اور خود آپ نے کتنے لوگوں کو قتل کیا؟

آخر کار یہ جرائم کا اعتراف تھا۔ پینزوٹو ہچکچائے تو میں نے پوچھا کیا 10 سے زائد ہیں؟

ان کا جواب نفی میں تھا۔ میں نے پھر کہا کیا پانچ سے زائد ہیں؟ انھوں نے کہا ’نہیں، رکیں۔‘

پینزوٹو نے کہا کہ وہ تھوڑا کھل کر بتانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس میں ان کی ہچکچاہٹ بھی شامل تھی کیونکہ وہ اپنے آپ کو کسی اور جرم میں ملوث کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے ما سوائے ان کے، جن میں انھیں سزا ہو چکی ہے۔

ان کا یہ اصرار تھا کہ جیل میں ان کا جو وقت گزرا ہے اس نے انھیں سوچنے کا مزید وقت دیا ہے۔ اور وہ اس وجہ سے اپنی کہانی سنانا چاہتے ہیں تاکہ دوسرے لوگ خبردار ہو سکیں اور اس راستے کا انتخاب نہ کریں۔

گلی کا بچہ

گینارو پینزوٹو سنہ 1974 میں اٹلی کے پُرہنگم شہر نیپلس میں پیدا ہوئے۔

لاتوریتا میں ان کے خاندان کا چھوٹا سا اپارٹمنٹ تھا جو کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے والے غریب خاندانوں کا رہائشی علاقہ ہے اور قریب ہی سمندر کے کنارے امیر ترین لوگوں کے گھر بنے ہوئے ہیں۔

ان کا گھر ’باسی‘ یا ’دا لوز‘ نامی علاقے میں تھا جو شہر کی قدیم گلیوں کے نچلے ترین درجے میں نمی سے بھری تاریک گلیوں کا بھول بُھلیاں تھا۔

اگر کوئی باسی کے تنگ و تاریک علاقے کا رہائشی ہوتا تو اس کو دولت مند طبقہ، جن کے گھروں کی چھتوں پر سورج کی کرنیں بسیرا کرتی تھیں، ہر لحاظ سے حقارت کی نظر سے دیکھتے۔

وہ غربت سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ اور وہاں رہنے والے بہت سے نوجوان لڑکوں کی طرح ان کا اس منزل تک پہنچنے کا طریقہ ایک ہی تھا، جرائم کی دنیا میں قدم رکھنا۔

جب وہ 14 سال کی عمر تک پہنچے تو انھیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ صحیح معنوں میں ایک چور تھے۔ انھیں امیر لوگوں کی کلائیوں سے رولیکس جیسی مہنگی گھڑیاں اتارنے میں مہارت حاصل تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سب کا تعلق انتہائی چالاک اور تیز طرار ہونے سے ہے۔ انھوں نے مجھے دکھایا کہ وہ کلائیوں سے گھڑیاں کیسے اتارتے تھے۔

پینزوٹو اس کام میں اتنے اچھے تھے کہ وہ جن لوگوں کے ساتھ کام کر رہے تھے انھوں نے پینزوٹو کو سپین جانے کا مشورہ دیا جہاں اور بھی زیادہ مہنگی اشیا موجود تھیں۔

وہ پیر سے جمعے تک گھڑیاں چوری کرتے تھے۔ پھر سنیچر کو وہ سب کچھ گھر لے آتے اور پارٹی کرتے۔

’میں بہت مشہور تھا۔ یہ میری بہت بدقسمتی تھی۔‘

یہ ان کی بدقسمتی تھی کیونکہ وہ اپنی اس اہلیت کی وجہ سے نیپلس مافیا کی پرانی سرغنہ تنظیم کیمورا کی نظروں میں آ گئے۔

،تصویر کا کیپشن

باتھ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر فیلیا عالم نے اپنا کریئر ایسے گروہوں اور جرائم کی دنیا میں نیپلز کے شہر میں ان کے منفرد اتحادیوں کی تحقیق میں گزارا ہے

کیمورا ہالی ووڈ کی اس تصوراتی دنیا سے یکسر مختلف ہے جس میں صرف ایک خاندان ہی پورے شہر یا ملک پر راج کرتا ہے۔

باتھ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر فیلیا عالم نے اپنا کریئر ایسے گروہوں اور جرائم کی دنیا میں نیپلس کے شہر میں ان کے منفرد اتحادیوں کی تحقیق میں گزارا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر علاقے میں ایک ایسا جرائم زدہ خاندان ہوتا ہے جو اس علاقے کو کنٹرول کرتا ہے تاہم ایک اکیلا خاندان کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس وجہ سے نیپلس میں اتحاد بنتے ٹوٹتے رہتے ہیں۔

یہ اتحادی اپنے آپ کو مزید طاقتور اور مضبوط بنانے کے لیے چھوٹے چھوٹے گروہوں کو بھرتی کرتے تھے۔

’یہی کیمورا کی لچک ہے‘

پینزوٹو اپنی خالہ کی وساطت سے، جنھوں نے گینگ کے ایک شخص سے شادی کر رکھی تھی، کیمورا سے متعارف ہوئے۔

خاتون کے شوہر روساریو پیکیریلو اپنے علاقے میں گروہ کے سربراہ تھے جو ٹیکس فری سگریٹ کی سمگلنگ کو یقینی بنا کر اس سے اپنے اتحاد کے لیے بڑا مالی فائدہ بھی حاصل کر رہے تھے۔

لیکن روساریو کوئی خاص اچھے لیڈر نہیں تھے اور ان کے کچھ ماتحت ان کی طرف سے معاملات طے کرتے تھے۔

روساریو کو احساس ہوا کہ انھیں اپنے گروہ میں ایک ایسے شحض کو شامل کر کے تربیت دینی ہو گی، جس پر وہ اندھا اعتماد کر سکیں اور جو ان کے گروہ کو سنبھال سکے۔

،تصویر کا کیپشن

روساریو پیکیریلو

پینزوٹو کو (اس مقصد کے لیے) سپین سے اٹلی بلایا گیا جو ان کے لیے زندگی بدل دینے والی ملاقات ثابت ہوئی۔

اس گروہ کے زیرِ انتظام علاقے کے ایک کھیل کے میدان، مارگلینا مارینا، میں ان کی ان کے انکل روساریو سے ملاقات ہوئی۔

یہیں پینزوٹو کیمورا کے ایک سینئیر فکسر سے ملے جو اتحاد کو درپیش مسائل حل کرتا تھا۔ فکسر کے پاس چور کے لیے ایک پیشکش تھی۔

علاقے پر حکمرانی کرنے کے لیے حریف روساریو کو گولی مار دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔

پینزوٹو کو بتایا گیا کہ اس شخص کو قتل کر دیں جو روساریو کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ پینزوٹو کو بتایا گیا کہ آپ کو یہ (قتل) کرنا ہے کیونکہ آپ ان کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور یوں پینزوٹو قاتل بننے پر رضامند ہو گئے۔

انھوں نے مجھے اپنے اس فیصلے کے بارے میں اتنے نارمل انداز میں بتایا جیسے یہ تو ہونا ہی تھا۔ میرے لیے یہ کافی عجیب بات تھی۔

کیا انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ سب غلط ہے۔ انھیں قاتل بننے کا کہا جا رہا تھا اور انھوں نے ایک بھی بار رُک کر منع نہیں کیا؟

’جب آپ اس دنیا میں پرورش پاتے ہیں، جس میں، میں پیدا ہوا ہوں تو یہ فیصلہ معمول کی بات ہوتی۔ میں جن اصولوں کے ساتھ بڑا ہوا اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں کسی کا ماتحت ہوں تو میں (ان کے لیے) قتل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہوں۔‘

پینزوٹو نے اپنے خاندان کو دشمنوں سے بچانے کے اپنے وعدے کو پورا کیا۔

انھیں جس مخالف گروہ کے پہلے بندے کو نشانہ بنانے کے لیے کہا گیا تھا وہ بچ نکلنے میں صرف اس وجہ سے کامیاب ہو گیا کیونکہ پولیس نے اسے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

پیٹرو لویا ایک سابق منشیات سمگلر تھے اور انھوں نے اس وقت پینزوٹو سے ملاقات کی جب ان کا راج تھا

لیکن زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ انھوں نے کیمورا گروہ کے ایک اور شخص پر حملہ کیا اور اسے نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کا کام تھا اور وہ اپنے جرائم کی سنگینی کی نوعیت کے بارے میں زیادہ سوچے بغیر جو کرنا ہوتا تھا کر گزرتے تھے۔

آج 12 سال جیل میں رہنے کے بعد پینزوٹو کو ان چیزوں کی وحشت کا احساس ہوا ہے جو کچھ انھوں نے ماضی میں کیا۔

وہ ذہنی تھراپی کے متعدد ادوار سے گزر چکے ہیں، یہ ایک ایسا کورس ہے جس میں متشدد مجرموں کو ان کے کیے کی ذمہ داری قبول کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے انسانیت سوز اعمال کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے دماغ کے اندر دیواریں تک بنا رکھی ہیں لیکن کچھ ایسی یادیں بھی ہیں جن سے وہ کبھی بھی پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔

ان کے مطابق ’مجھے چہرے یاد نہیں ہیں۔ مجھے صرف جسموں کے گرنے کی وہ آوازیں یاد ہیں جب میں کسی کو گولی مارتا تھا۔‘

’مجھے بچوں اور خواتین کی چیخنے کی آوازیں یاد ہیں جو ابھی تک میرے کانوں میں گونجتی ہیں۔‘

ایک دہائی کے عرصے میں پینزوٹو بھتہ خوری اور اپنے آبائی علاقے لا توریتا سے سمندری رستے سے منشیات سمگلنگ میں اہم کردار بن گئے۔

سنہ 2005 میں گروہ کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے انھیں کنٹرول سنبھالنا پڑا کیونکہ پولیس ان کے چچا روساریو کے پیچھے پڑی تھی۔

پیٹرو لویا ایک سابق منشیات سمگلر تھے مگر اب وہ سب کچھ ترک کر چکے ہیں۔ انھوں نے اس وقت پینزوٹو سے ملاقات کی جب ان کا راج تھا۔

پیٹرو کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان اتنا مشتعل اور جلد ردِعمل دینے والا تھا کہ جرائم کی دنیا میں انھیں ’ٹیریموٹو‘ یعنی زلزلے کے نام سے جانا جاتا تھا۔

’پینزوٹو کو دیگر گروہوں میں بہت عزت اور مرتبہ حاصل تھا اور بطور باس ان کی بہت اہمیت تھی۔ کیمورا کے ساتھ ان کا کریئر شدت سے بھرپور مگر مختصر تھا۔‘

جب 2005 سے 2006 کے درمیان گروہوں کے اندر لڑائی شروع ہو گئی تو پینزوٹو کے اتحادیوں نے لاسنیتا کے علاقے پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ان سے مدد طلب کی۔

مائیکل ڈیل پریٹی بینزوٹو کیس پر ایک سینیئر انسداد مافیا سے متعلق پراسیکیوٹر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نوجوان نے موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنا نام پیدا کرنے کی تگ و دو کی۔

ان کا کہنا ہے کہ پینزوٹو کو اپنا مجرمانہ کردار کو فروغ دینا تھا اور اپنے لیے نام پیدا کرنا تھا۔ قاتل کے طور پر وہ اپنے چچا کی جگہ لے کر گروہ کے منیجر بننا چاہتے تھا تاکہ شہر کے دیگر علاقوں تک اپنا رسوخ بڑھا سکے۔

سردیوں کے دوران فائرنگ اور قتل و غارت کا سلسلہ جاری تھا، جب گینگز نے ایک دوسرے کے سرکردہ سربراہوں اور نچلے درجے کے کارکنوں کو مارنے کی کوشش کی۔

اس دوران ایک گینگ کے سرغنہ گریزیانو بوریلی کا قتل ہوا جس کی بعد میں کڑیاں سیدھی جا کر پینزوٹو سے ملیں۔

،تصویر کا کیپشن

گریزیانو بوریلی کی قبائل کی جنگ کے دوران قتل کا ایک منظر

پولیس نے ایک ایسی ہی گفتگو کا ریکارڈ حاصل کیا جس میں پینزوٹو اپنے بندوق برداروں سے کہہ رہے تھے کہ وہ اس قتل کو سر انجام دیں اور اس بارے میں پولیس کے پاس مزید گرفتاریوں کے لیے کافی شواہد موجود تھے۔

تاہم پولیس سرچ کے دوران پینزوٹو کہیں بھی نہیں ملے۔ وہ ملک چھوڑ کر باہر جا چکے تھے۔

پارک کے علاقے میں رہائش

نیپلس میں بہار میں اوسطاً درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔

لنکا شائر میں یہ 16 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ برطانیہ آ کر اطالوی لوگ اگر کھانے پینے کے علاوہ کسی چیز کے بارے میں شکوہ کرتے ہیں تو وہ ہے موسم۔

لیکن لنکا شائر میں پریسٹن وہ جگہ تھی جہاں سنہ 2006 کے ابتدائی مہینوں میں پینزوٹو آ بسے۔ تو آخر انھوں نے برطانیہ کے ایک مختلف سے حصے کا انتخاب کیسے کیا؟ جیل میں ہونے والی ملاقات میں پینزوٹو نے اس کی وضاحت کی تھی۔

کیمورا کے اپنے کاروباری سلسلے کے لیے یورپ سے بہت روابط ہیں۔ نیپلس سے ہونے والے کاروبار کا کچھ منافع غیرقانونی فری ٹیکس نقل و حرکت سے حاصل ہوتا ہے اور گروہ ایسا غیر ملکی پارٹنرز کی مدد سے کرتے ہیں۔

نیپلس میں پینزوٹو کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک نے شمال مغربی برطانیہ میں منظم جرائم والے گروہ سے گہرے روابط استوار کر رکھے تھے۔

’یہ انگریز لڑکے مجھ سے ملنے کے لیے بیتاب تھے۔۔۔ پھر ہم پب چلے گئے۔‘

یہ گینگ مکمل طور پر برطانوی لڑکوں پر مشتمل تھا اور سڑکوں پر پُرتشدد واقعات کیے بغیر ہی یہ اچھا خاصا منافع کما رہے تھے۔

ان کی جانب سے کی جانے والی جعلسازی کی مثال یہ تھی کہ وہ نیپلس جوتے بھیجا کرتے اور کسی قسم کا ٹیکس ادا نہ کرتے۔ کیمورا گینگ کے لوگ قانون کی پیروی کرنے والے تاجروں سے کم قیمت پر جوتے بیچتے۔

برطانوی گینگ کا نظم و نسق اپنی برادری کے ایک بڑے نامی گرامی تاجر کے ہاتھوں میں تھا۔ ان کے پاس ایک وکیل تھا جو ان کے اشاروں پر سب کرتا تھا اور ایک ایسا اکاؤنٹنٹ تھا جو ٹیکس حکام کو دکھائے جانے والی فائلیں تیار رکھتا تھا۔

پینزوٹو برطانوی تاجر سے نیپلس میں ہی ملے تھا۔

،تصویر کا کیپشن

گینارو پینزوٹو سنہ 1974 میں اٹلی کے پُرہنگم شہر نیپلس میں پیدا ہوئے

جب بوریلی قتل کیس میں پولیس نے پینزوٹو کا پیچھا کیا تو ان کے برطانوی دوستوں نے انھیں لنکا شائر میں پناہ دینے کی پیشکش کی۔ اس سے ان کے ہاتھ دو مواقع آئے۔۔۔ ایک تو کچھ دیر کے لیے چھپنے کا موقع مل گیا اور دوسرا انھیں اچھے کاروبار کے بارے میں سیکھنے کا موقع مل گیا۔

جب پینزوٹو لیورپول جون لینن ایئرپورٹ پر اترے تو ان کے برطانوی باس نے ان کا خاص خیر مقدم کیا۔ ان کو وہاں سے لے جانے کے لیے ایک انتہائی مہنگی گاڑی یعنی ’رولس روئس‘ ایئر پورٹ پر موجود تھی۔

پینزوٹو کہنے لگے ’آپ کو معلوم نہیں کہ (یہ سب دیکھ کر) اس وقت میں کتنا مسکرایا تھا۔ وہ انگریز آدمی۔۔۔ وہ مجھ سے ملنے کے لیے بے تاب تھے، انھوں نے میرے لیے ایک خاص ڈرائیور بھیجا اور اس کے بعد ہم ایک پب میں چلے گئے۔‘

وہاں پہنچنے کے بعد پینزوٹو بڑی تعداد میں تاجروں سے ملے اور ان کے کاروباری سلسلوں کے بارے میں اہم معلومات اکٹھی کیں۔۔ یہ سب ایک بیئر کی محفل کے دوران ہوا۔

پینزوٹو نے انھیں بتایا کہ ان کی ترجیح منظر سے تھوڑا دور رہنا ہے اور برطانوی تاجر نے کہا کہ وہ اس کا اہتمام کریں گے۔

کاروان پارک دریائے وائر سے جڑا ہوا ہے اور یہ پریسٹن اور لنکا شائر کا درمیان واقع ہے۔

کبھی کبھار تیز رفتار ٹرین یہاں سے گزرتی ہے باقی یہ ایک پُرامن جگہ ہے۔ یہاں سے بولینڈ کے جنگلات کا کم فاصلہ بنتا ہے اور بلیک پول اور مورکیمبے میں ساحل سمندر کے لذیذ کھانے بھی دستیاب ہیں۔

پینزوٹو نے کاروان پارک میں ایک گھر کرائے پر لیا اور اس کے بعد نیپلس سے ان کی اہلیہ اور بچے برطانیہ آ گئے۔

اگرچہ ان کا پس منظر مشکوک تھا لیکن ایک میل جول رکھنے والے شخص کی حیثیت سے جلد ہی ان کے بہت سے دوست بن گئے۔

پارک سٹاف کا عملہ اپنے نئے مہمان کو نئی گاڑیوں کی وجہ سے جانتا تھا اور پانچ میل فی گھنٹے کی رفتار کی حد توڑنے پر انھیں کافی غصہ آتا۔ یہ مہنگی کاریں جس میں پورشا بھی شامل تھی ان کے میزبان کی طرف سے تحفہ تھیں۔

یہ بہت خوشگوار ماحول والی جگہ تھی اور پڑوسی آسانی سے انھیں گھر والوں کو فون کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ اس وقت یہ بات کسی کو عجیب نہیں لگی کہ وہ فون مانگتے تھے حالانکہ ان کے پاس اتنے پیسے تھے۔

مِک بری کا شمار ان پروسیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے پینزوٹو کو اس علاقے میں آباد ہونے میں مدد کی۔

اطالوی مہمان نے اپنی گاڑی مِک کی گاڑی میں دے ماری تو مِک پینزوٹو کے گھر پہنچ گئے۔ اگر مِک کو یہ سب پہلے سے پتا ہوتا جو اب انھیں معلوم ہے تو پھر شاید وہ پینزوٹو کے گھر جانے سے پہلے دو بار ضرور سوچ لیتے۔

’مجھے اُس بات پر اتنا زیادہ غصہ تھا کہ میں نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ آپ نے میری گاڑی کے ساتھ کیا کیا ہے؟ کیا آپ کو یہ نظر نہیں آیا؟‘

گینارو پینزوٹو سے جب لنکاشائر کے غصیلے رہائشی نے پوچھ گچھ کی تو انھوں نے مِک سے معافی طلب کر لی۔ انھوں نے مِک کو ایک فون نمبر دیا اور فون گمھانے پر فون کی دوسری طرف موجود شخص نے ان سے کہا کہ وہ 20 منٹ میں مسئلہ سلجھانے آ رہا ہے۔

ایک مقامی باشندہ سوٹ پہنے ایک خوبصورت کار میں آیا اور اس نے مِک کی شکایت غور سے سنی۔

اس نے گاڑی کو پہنچنے والے نقصان پر نگاہ دوڑائی اور اسی وقت 200 پاؤنڈ کے نوٹ نکال کر ان کے حوالے کیے اور مِک کو بتایا کہ اگلے ہفتے انھیں مزید اتنی ہی رقم مل جائے گی۔

مِک کہتے ہیں کہ اس نے کوئی سوال نہیں کیا، وہ بس معاملے کو حل کرنا چاہتا تھا۔

اس کے بعد مِک اور پینزوٹو آپس میں دوست بن گئے۔ گرمیوں میں جرمنی میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل میں انھوں نے مل کر بیئر پی اور خوب ہنسی مذاق کیا جب وہ چوتھی بار اٹلی کو یہ ٹورنامنٹ جیتتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔

مِک کہتے ہیں ’سب سے بڑا لطیفہ یہ تھا کہ جب میں اپنے دوستوں کے ساتھ باہر نکلتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ تم محتاط رہو، کہیں یہ کوئی مافیا کا بندہ نہ ہو۔‘

اس وقت تک دونوں کی دوستی اتنی ہو چکی تھی کہ پینزوٹو نے مِک کو، جو ایک ڈانسر تھے، اطالوی رقص کے دوران پہنے جانے والے جوتوں کا ایک جوڑا دیا۔

یہ جوتے نرم کالے چمڑے سے بنے ہوئے تھے اور ان کے انگوٹھوں پر ایک بھوری پٹی لگی ہوئی تھی۔ ان جوتوں کا چمکدار تلا رقص کرنے کے لیے بنا تھا۔ ’میں ابھی بھی انھیں پہنتا ہوں۔ میں وہ جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ وہ ایک سخی آدمی تھے۔‘

اُس جگہ پر پینزوٹو نے دیگر دوست بھی بنائے۔ مینٹیننس منیجر رس کو یاد ہے کہ پینزوٹو کیسے علاقے کے سوشل کلب میں لوگوں کو شراب خرید کر دیتے تھے۔

وہ چمڑے سے بنے جوتے اور کوٹ لے کر پہنچ جاتے اور پھر لوگوں کو دے دیتے۔ لوگ علاقے میں بسنے والے اس نئے فضول خرچ رہائشی کو بے حد پسند کرتے۔

پینزوٹو کو برطانیہ میں اپنی زندگی پسند آنے لگی۔ انھوں نے جیل میں بی بی سی کو بتایا کہ نیپلس کے مقابلے میں اس جگہ پر بہت خاموشی اور سکون تھا۔ لیکن وہ یہاں چھٹی پر نہیں آئے تھے۔

وہ برطانوی تاجر باس جو پینزوٹو کو رہنے میں مدد دے رہے تھے، اب انھیں اپنے اطالوی مہمان سے ایک مدد درکار تھی اور یہ ایسی چیز تھی جو صرف پینزوٹو ہی دے سکتے تھے۔

خاص پیغام

پینزوٹو کے میزبان کو جعلی کمپنیوں اور ٹیکس سکینڈلز کے وسیع نیٹ ورک میں شامل دیگر مافیا کے افراد نے کافی رقم ادا کرنی تھی۔

پینزوٹو ان کمپنیوں کے بارے میں زیادہ جاننا چاہتے تھے اور برطانوی تاجر کا کہنا تھا کہ وہ انھیں ہر وہ چیز سکھا دیں گے جو کہ وہ جانتا چاہتے تھے۔

پینزوٹو کو سب سے پہلے ان مقروض افراد کو سبق سکھانا تھا۔ برطانوی تاجر اپنا کام جلد ختم کر کے پب میں چلے جاتے اور وہاں اپنے نئے دوست کی تعریفیں کرتے۔ لیکن اب انھیں اپنے مسئلے کا حل چاہیے تھا۔

پینزوٹو نے انھیں بتایا کہ وہ اس مشکل کا حل کیمورا جیسے انداز میں ہی نکالیں گے۔ انھوں نے پریسٹن میں ایک غیر ملکی تاجر کو، جو مسئلے کی وجہ تھا، ایک اطالوی ریستوران میں جعلی کاروباری عشائیے پر مدعو کیا۔

،تصویر کا کیپشن

پینزوٹو کے برطانیہ میں آئے چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ برطانوی تاجر نے انھیں سکھا دیا کہ اٹلی کے مقابلے میں کیسے برطانیہ میں جعلی کمپنیوں کا کاروبار شروع کرنا آسان تھا

مطلوبہ ہدف پینزوٹو کے برطانوی میزبان کو اپنا قرض ادا کرنے سے انکار کر رہا تھا۔

پینزوٹو کے مطابق وہ سب سے زیادہ مغرور تھا۔ نہ صرف اس نے پیسے دینے سے انکاری تھا بلکہ ساتھ ساتھ وہ دھمکیاں بھی دے رہا تھا۔

پینزوٹو نے اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ’میں اسے کار پارک میں لے گیا۔ اس نے سوچا کہ شاید ہم کار لینے جا رہے ہیں۔ اس کے بجائے میں نے اسے قابو کیا اور زور سے اس کو اپنا سر مارا۔ میں نے اس زمین پر گرا دیا۔‘

متاثرہ شخص اس اچانک حملے پر حیران تھا۔

’میں نے اسے کہا کہ یاد رکھنا میں نے تمہارے ساتھ جو کیا۔ سب کو بتانا کہ اب سے ایسے ہی ہوا کرے گا۔‘

اس کے بعد پینزوٹو نے تشدد کا غیر معمولی کام کر ڈالا۔ انھوں نے متاثرہ شخص کا کان چبا ڈالا۔ پینزوٹو کا کہنا ہے کہ برطانوی باس یہ سب ہوتا دیکھ رہا تھا۔ یہ کیمورا کے شخص کی طرف سے بھیجا گیا پیغام تھا جس کے بعد تمام مقروض لوگوں نے قرض دینا شروع کر دیا۔

اب وقت تھا کہ وہ برطانوی باس سے وہ سیکھیں جو وہ سیکھ سکتے تھے۔

پینزوٹو کے برطانیہ میں آئے چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ برطانوی تاجر نے انھیں سکھا دیا کہ اٹلی کے مقابلے میں کیسے برطانیہ میں جعلی کمپنیوں کا کاروبار شروع کرنا آسان تھا۔

یہ وائٹ کالر جرائم کا حصہ تھا۔ یہ جرائم کے ذریعے حاصل کیے گئے منافع کو بظاہر قانونی رقم ظاہر کرنے کا بہترین طریقہ تھا۔

کیمورا کے برعکس برطانوی باس کو منشیات جیسے دھندے یا مقامی تاجروں سے رقم بٹورنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔

وہ بس اشیا کو ایک کمپنی سے دوسری کمپنی کے نام منتقل کرتے جس سے وہ 20 فیصد تک ٹیکس سے بچ جاتے جو کہ دیگر تاجروں کو ادا کرنا ہوتا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

پراسیکیوٹر مائیکل ڈیل پریٹی کے ساتھ کئی انٹرویوز کے دوران پینزوٹو نے اپنے مافیا کی دنیا کے بڑے نام، واقعات، قتل اور قتل کرنے والوں کے بارے میں بتایا۔

پینزوٹو نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ انھیں اس سب کی سمجھ نہیں تھی کہ یہ کیسے ہو رہا تھا لیکن اس فراڈ کی وجہ سے حکومت کو سالانہ بلین ڈالرز کا نقصان ہوتا۔

اس فراڈ میں عام طور پر یورپین ممالک کو سامان بھیجنا ہوتا تھا اور اس کیس میں اٹلی کو سامان بھیجا جاتا تھا اور وہاں سے منگوایا جاتا تھا۔ کبھی ٹیکس نہ دیا جاتا اور کمپنی سے کمپنی سامان منتقل کرتے کرتے بظاہر سامان گم ہو جاتا۔

یہ وہ فراڈ تھا جس کے بارے میں اطالوی تفتیش کاروں کو کافی عرصے سے تشویش تھی۔

پینزوٹو کو نیپلس میں کچھ اپنے گینگ کے کارکنوں کی مدد بھی کرنا ہوتی تھی جس میں ایسے ساتھیوں کے خاندان والوں کی بھی مدد شامل تھی جو جیل میں تھے۔

یہ وائٹ کالر فراڈ کافی منافع بخش ثابت ہو رہے تھے۔ برطانوی تاجر باس نے کہا کہ وہ مزید جوتے، باتھ روم کے پرزے اور کاریں منتقل کرنے میں مدد کر سکتے ہیں تاکہ پینزوٹو کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم کو قانونی رنگ دیا جا سکے۔

پینزوٹو کے مطابق اس پلان سے ان کے شہر کے لوگوں کو فائدہ پہنچا اور وہ جانتے تھے کہ اس سے کیمورا میں ان کی اپنی پوزیشن مستحکم ہو گی۔

اس نے نیپلس کو مزید رقم بھیجنے کی غرض سے قریبی شہروں پریسٹن اور مانچسٹر میں دکانوں اور گوداموں کا نیٹ ورک لگانے کے لیے تگ و دو شروع کردی۔

،تصویر کا کیپشن

الیسینڈرا کلیمنٹ سٹی کونسلر ہیں اور اٹلی میں مافیا کے خلاف ایک جانی مانی شخصیت کے طور پر پہچانی جاتی ہیں

لیکن بہت کچھ پانے کی جدوجہد میں یہ نوجوان باس اپنے برطانوی ساتھیوں کے متکبرانہ رویے کی وجہ سے سکیورٹی کے ایک غلط احساس کا شکار ہو گیا اور وہ غلطیاں کرنا شروع ہو گیا۔

نیپلس میں پینزوٹو فلائنگ سکواڈ کی مافیا کے مطلوب مشکوک افراد کی فہرست میں اول نمبر پر تھے۔

00-44-7 پانچ اعداد جن سے پینزوٹو کا سراغ ملا

پھر ایلیٹ پولیس یونٹ کے سگریٹ کے دھویں سے بھرے کمرے میں بیٹھے اہلکاروں کو ایک کامیابی ملی۔ اور یہ کامیابی پانچ اعداد 00-44-7 کی صورت میں ملی۔

یہ وہ ہندسے ہیں جو برطانیہ کے موبائل نمبرز سے پہلے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اٹلی نے ایک مطلوب قاتل تک پہنچنے کے لیے نگرانی کے آلات نصب کیے جس سے یہ معلوم ہوا کہ نیپلس میں ان کے خاندان کے افراد برطانوی فون نمبرز سے رابطے میں ہیں۔ یہ مختلف 12 نمبرز تھے، جن پر وہ رابطہ کرتے تھے۔ ان میں سے شاید ایک نمبر کاروان پارک میں مِک بُری کا تھا جسے پینزوٹو کی اہلیہ نے اپنے گھر والوں سے رابطے کے لیے استعمال کیا کرتی تھیں۔

یہ یقینی طور پر ہمارے لیے باعث حیرت تھا۔ پراسیکیوٹر ڈیل پریٹی کا کہنا ہے کہ برطانوی اعتبار سے یہ ایک منفرد سی بات تھی۔ انھیں سپین کے گرم موسم میں چھپے ہوئے ملزموں کو تلاش کرنے کی عادت تھی۔

اطالوی اہلکار یہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا پینزوٹو برطانیہ میں تھے یا نہیں۔ انھوں نے سکاٹ لینڈ یارڈ اور منظم جرائم کی کھوج لگانے والی ’سیریئس آرگنائزڈ کرائم ایجنسی‘ سے مدد کی درخواست کی۔

اور شاید یہ وہ وقت تھا جب ان سے دو بڑی سنگین غلطیاں سرزد ہوئیں۔

سنہ2007 تک پینزوٹو کاروان پارک سے کاک رابن لین گارسٹینگ کے ایک الگ تھلگ گھر میں منتقل ہو گئے۔ یہ گھر پریسٹن کے شمال میں ایک پرسکون خوبصورت گاؤں میں واقع تھا۔

ان کی پہلی غلطی یہ تھی کہ وہ اپنی اہلیہ کی طرف باقاعدگی سے جاتے تھے، جب ان کی اہلیہ انھیں چھوڑ گئیں تو پھر وہ اپنی گرل فرینڈ سے ملنے جاتے تھے۔

اب پینزوٹو کا خیال ہے کہ ان کے اس طرح آنے جانے سے ان کی لوکیشن کا پتا چل گیا۔

دوسری غلطی یہ تھی کہ اس کے ایک قریبی ساتھی کاروباری معاملات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ہر چند ہفتوں بعد ملنے آ جاتے۔ اس طرح کے رابطوں سے اطالوی پولیس کو ان کا سراغ ملا۔

اب دور سے بیٹھ کر پینزوٹو انتظامی طور پر تمام آپریشن کے نگران تھے۔ ان کا کام یہ یقینی بنانا تھا کہ ان پر کچھ ثابت ہوئے بغیر ان کا غیر قانونی دھندہ چلتا رہے۔

برطانیہ میں ہوتے ہوئے بھی وہ اتنے طاقتور تھے کہ ایک دفعہ انھوں نے اپنے مخالف کا گھر جلانے کا حکم صادر کیا۔

اس کے گینگ کے چھوٹے کارکنوں نے یہ کام ایک نشے کے عادی شخص کے حوالے کیا جس نے غلطی سے مختلف اپارٹمنٹ کو جلا دیا۔

پراسیکیوٹر کے ساتھ دوران تفتیش پینزوٹو نے تسلیم کیا کہ وہ اس پر ناراض تھے۔ ’میں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا تھا کہ وہ اس غلطی پر اس شخص کی پٹائی کریں۔‘ لیکن بعد میں ان کے کارکنوں نے صحیح گھر کو جلا دیا۔

اپنی طاقت دکھانے کے لیے پینزوٹو نے کاک رابن لین میں ایک مافیا سمٹ کا انعقاد کیا جس میں انھوں نے اپنے اتحادیوں کو مدعو کیا۔ کوئی درجن کے قریب رہنماؤں نے ان کی دعوت پر اس سمٹ میں شرکت کی۔ ان میں نیپلس کے تین بڑے گینگ کے سربراہوں نے بھی شرکت کی۔

انھوں نے اس میٹنگ کو فیملی بار بی کیو پارٹی کا رنگ دیا۔ جب گوشت سیخ پر بھونا جا رہا تھا تو دو نکات پر بات ہو رہی تھی۔

پہلا نکتہ دشمنوں کے خلاف مزید کارروائیوں کو تیز کرنے کے بارے میں تھا۔ سنہ 2005 سے 2006 کے دوران گروہوں کی اندورنی لڑائی جس کی وجہ سے پینزوٹو کو ملک بدر ہونا پڑا، جو بہت تکلیف دہ تھا۔ اب ان کے اتحادی تمام خطرات کو مات دینا چاہتے تھے۔

لیکن پینزوٹو کی زیادہ توجہ دوسرے نکتے پر تھی، آسان طریقے سے رقم کمانے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے انھیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ جنگ کئی گرفتاریوں کی وجہ بنی تھی، لہٰذا اب کچھ وقفے کی ضرورت تھی تاکہ گینگ کے معاشی پلان پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔‘

ان کے پاس منصوبوں کی ایک طویل فہرست تھی، اس میں نیپلس میں مرینا کی بحالی سے فائدہ اٹھانے کی ایک مشکل کوشش بھی شامل تھی۔ جہاں انھیں 10 برس قبل بھرتی کیا گیا تھا۔

اب تک وہ اپنے انگریز ساتھیوں کے ساتھ اس پر بات چیت کر رہے تھے کہ اپنی معاشی طاقت کو اپنی دنیا میں (اہداف حاصل کرنے کے لیے) کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت برطانیہ میں جوتوں ایک کاروبار قائم کر کے پیسا کمانا تھا جو واپس نیپلس میں بھیجا جا سکے۔

لیکن یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

16 مئی 2007 کو ان کے دروازے پر دستک ہوئی۔

’مجھے وہ دن کل کی طرح یاد ہے۔ میں باہر دیکھ رہا تھا جہاں گھر کے سامنے اور پیچھے سادہ کپڑوں میں ملبوسں کچھ افراد کھڑے تھے۔‘

نرم مزاج برطانوی پولیس افسران نے پوچھا کہ گھر میں کوئی بندوق تو نہیں ہے۔

پینزوٹو نے بتایا کہ گھر میں کوئی بندوق نہیں ہے اور خاموشی سے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ ان کے کسی پڑوسی کو نہیں پتا چلا کہ کیا ہوا ہے اور ان کی گرفتاری تک نہیں جان سکے وہ کون تھے۔

میڈیا کی غیر معمولی کوریج میں ایک برطانوی عدالت نے یہ مقدمہ بھی سنا کہ وہ بوریلی کے قتل سمیت دیگر کئی مقدمات میں ملوث ہیں۔

گینارو پینزوٹو نے تمام منصوبہ بندی کے باوجود اپنے ملک بدری کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا۔

کاروان پارک میں مِک بُری یہ سن کر ششدر رہ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پینزوٹو بلیک پول میں ان کے گھر منتقل ہونے ہی والے تھے۔

کاروان پارک سے گراسٹینگ کی کوک روبن لین تک گینارو پینزوٹو اپنے برطانوی میزبان تاجر دوست کے ساتھ با آسانی گھومتے پھرتے رہے۔

مگر اگلے 12 سال تک بستر کا انتخاب ان کی مرضی سے نہ ہوا۔

ابھرتے ہوئے مافیا کے سربراہ کو قتل کرنے کا مقدمہ ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی جب تک کہ انھیں جیل سے رہا کر کے نئی زندگی شروع کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔

لیکن اس کا مطلب یہ تھا کہ مافیا کا خفیہ کوڈ بریک ہو جائے گا جسے اومیرتا کہا جاتا ہے جس میں مافیا کے لوگ اپنے دھندے سے متعلق پولیس کو تمام حقائق بتاتے ہیں۔

پینزوٹو کا انتخاب

اطالوی نظام انصاف نے ریاست سے مل کر ایک نظام وضع کیا جسے اب 40 سال سے زائد ہو چکے ہیں۔ مافیا کے ایسے لوگ جو اپنے ساتھیوں سے متعلق ثبوت فراہم کریں گے انھیں کم سزا دی جائے گی۔ ریاست انھیں ان کا علاقہ اور نئی شناخت دینے کی بھی پیشکش کر سکتی ہے۔

اطالوی اس پروگرام کی کامیابی سے متعلق متفق نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے اس سے کچھ مافیا کے لوگوں کو اپنے کیے کی پوری سزا نہیں مل پاتی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ اس سے مافیا کے مختلف گروہوں کو ختم کرنے میں بڑی کامیابیاں بھی ملیں۔

گینارو پینزوٹو کے مطابق ’میری گرل فرینڈ نے مجھے جرم تسلیم کرنے کے بارے میں درخواست کی اور کہا کہ میں ریاست کا ساتھ دوں۔ میں شروع میں اس کی بات کو تسلیم نہیں کر رہا تھا لیکن پھر مجھے اس کی یاد ستانا شروع ہو گئی‘

ایک دن وہ سیدھا پراسیکیوٹر کے دفتر گئیں اور کہا کہ ہمیں گینارو کے پاس جانا چاہیے، میں اسے جرم تسلیم کرنے کے بارے میں راضی کروں گی۔ مائیکل ڈیل پریٹی نے کچھ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔

کیا واقعی وہ اعتراف کرنے جا رہے تھے یا یہ محض طویل سزا سے بچنے کی کوشش تھی۔

انھوں نے کہا کہ ابتدا میں اعتراف جرم سے متعلق میرا موقف بہت سخت تھا۔

ہم ایک ایسے شخص کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس نے بہت سنگین جرائم کیے ہیں۔ لہٰذا بطور پراسیکیوٹر یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم بہت محتاط ہو کر صورتحال کو جانچیں کہ یہ کتنی اہمیت کی حامل ہے۔

گینارو پیزوٹو کو نیپلس سے بہت دور رکھا گیا۔ اتنے فاصلے کی وجہ سے انھیں اپنے عمل پر غوروفکر کرنے کا موقع ملا۔

’جیل میں گزرے مشکل وقت کی صرف ایک اچھی بات یہ ہے کہ آپ دیر تک سوچتے ہیں اور مزید گہری سوچ کے حامل بن جاتے ہیں۔‘

’جب آپ اتنی گہرائی میں سوچتے ہیں تو پھر اپنے آپ سے مجھے یہ پوچھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی کہ کیا مجھے اپنی تمام زندگی جیل میں گزارنی ہے اور اگر ہاں تو پھر یہ سب میں کس کے لیے کر رہا ہوں؟ میں نے اپنے خاندان کا انتخاب کیا۔‘

پینزوٹو نے ریاست سے تعاون کا فیصلہ کیا۔ پراسیکیوٹر مائیکل ڈیل پریٹی کے ساتھ کئی انٹرویوز کے دوران انھوں نے اپنے مافیا کی دنیا کے بڑے نام، واقعات، قتل اور قتل کرنے والوں کے بارے میں بتایا۔ اس نے منشیات سمگل اور بھتہ لینے والے گروہوں، ڈاکوؤں، چوروں، آگ لگانے والوں اور ان کے سربراہوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔

انھوں نے استغاثہ کو برطانیہ میں بھی اپنے ساتھیوں کے بارے میں مکمل معلومات دے دیں۔ انھیں نے تمام فراڈ کی تفصیلات، تاجر کا نام، ان کے وفادار وکیل کی تفصیل اور ان کے جعلی اکاؤنٹنٹ کے بارے میں بھی بتایا۔

مائیکل ڈیل پریٹی نے پینزوٹو کے برطانوی ساتھی کے بارے میں حاصل کی گئیں تمام معلومات برطانوی حکومت کو بھیج دیں۔

مائیکل ڈیل پریٹی کے مطابق برطانوی تفتیش کاروں نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ یقینی طور پر یہ برطانوی تاجر اس جرم میں ملوث ہے کیونکہ وہ اس کے کردار کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں۔

لیکن ان کے نیپلس مافیا کے ساتھ تعلقات ایک بڑی خبر تھی۔ بی بی سی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ پھر پولیس نے ان معلومات کے بعد برطانوی تاجر کے خلاف کیا کارروائی کی۔

بی بی سی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لنکا شائر پولیس نے ایک تفتیش شروع کی تھی لیکن اس کے بعد کیا ہوا حکام اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتا رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق جس علاقے سے یہ منظم جرائم کرنے والے مافیا کا کرتا دھرتا گرفتار ہوا، ابھی وہاں کوئی ایسا نہیں ہے جو پینزوٹو کے معاملات پر کچھ معلومات رکھتا ہو۔

برطانوی تاجر جس نے پینزوٹو کو مدد فراہم کی تھی، وہ ابھی بھی آزاد گھوم پھر رہا ہے اور قانونی وجوہات کی بنا پر ہم اس کا نام تک نہیں لے سکتے۔

چھوٹی عمر کے افراد کے گینگز کی تلاش

نیپلس میں پولیس نے پولیس نے پینزوٹو سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں خوب چھان بین کی تو اس سے مافیا کے نیٹ ورک کو توڑنے میں بہت مدد ملی۔

گینارو پینزوٹو کو ان رازوں کے صلے میں رہائی کی ایک تاریخ بتا دی گئی جب وہ پھر سے اپنی ایک نئی زندگی کا آغاز کر سکتے ہیں۔

نیپلس میں ریاست کا ساتھی بننے والا پروگرام اتنا کامیاب رہا کہ اب کیمورا کے گینگز کے بہت سے تجربہ کار اور سرکردہ افراد جیل میں ہیں۔

لیکن اب ایک نیا خطرہ سر اٹھا رہا ہے۔ پیٹرو لویا نے بتایا کہ اب ایسے علاقوں میں چھوٹے چھوٹے گروہ سر اٹھا رہے ہیں جہاں پہلے کبھی ایسے گینگز نہیں ہوتے تھے۔

’یہ نوجوان افراد پر مشتمل گروہ ہیں اور یہ ہر اس جگہ پر چلے جاتے ہیں جہاں کا نظم و نسق زیادہ مضبوط نہیں ہے۔‘

پیٹرو کہتے ہیں ’یہ ناتجربہ کار گن مین ہیں جو ہر مسئلے کا حل صرف گولی سے ہی نکالتے ہیں۔ یہ نوجوان بات چیت کے بجائے بس گن اٹھا لیتے ہیں۔

نیپلس کے ساحل پر واقع قصبہ

میں نے چیف پراسیکیوٹر گیوانی ملیلو سے پوچھا کہ اس کے شہر میں چھوٹے گروہوں کا خطرہ کس حد تک سنگین ہے۔

ان کا جواب تھا کہ کیمورا کے گینگ ابھی بھی بنیادی خطرہ ہیں۔ وہ صرف اس وجہ سے ختم نہیں ہو گئے کہ ریاست نے اپنا ایک ایسا پروگرام شروع کر دیا جس کے بعد کیمورا کے اہم رہنما جیل میں قید ہو گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ بدعنوانی اور منی لانڈرنگ سڑکوں پر تشدد سے زیادہ کارآمد ہتھیار ہیں۔

ان ’بے بی‘ گروہوں میں بچے سوچتے ہوں گے کہ وہ ہی سب کچھ ہیں لیکن وہ پولیس کی صرف ایک گولی کی مار ہیں۔ اصل طاقت اب بھی گہرے نقوش رکھنے والے گروہوں اور وائٹ کالر جرائم کرنے والوں کے ہاتھ میں ہے جن کا سراغ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

اس سب سے متعلق ناامید ہونا کافی آسان ہے اور الیسینڈرا کلیمنٹ کے پاس اس کی بڑی وجہ بھی ہے۔

سنہ 1997 میں ان کی ماں سلویا روتولو کو سڑک پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جس سے پوری قوم کو صدمہ پہنچا تھا۔

وہ ایک بے قصور خاتون ٹیچر تھیں جو اپنے پانچ سال کے بچے کے ساتھ گھر آ رہی تھیں۔

آج کلیمنٹ سٹی کونسلر ہیں اور اٹلی میں مافیا کے خلاف ایک اہم شخصیت کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔

وہ اپنے دفتر کی بیرونی دیوار کی طرف اشارہ کرنے لگیں جہاں پر گرافیٹی بنی ہوئی تھی۔ دیوار پر لکھا ہوا ہے کہ کیمورا مِیردا یعنی کیمورا شِٹ۔ یہ گرافیٹی چند سال کے لیے ایسے ہی رہی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ گرافیٹی کسی سے زبردستی نہیں بنوائی گئی۔

ان کے مطابق ’اب نیپلس کیمورا مخالف شہر بن چکا ہے۔ ہم دو طرح سے لڑ سکتے ہیں۔ عدالتی نظام اور کلچر کی مدد سے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اِس کا حل لوگوں کو امید اور نوکریاں دینے میں ہے۔

’ہم ہر دن کیمورا سے کچھ اہم کام لے سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو مواقع دے کر یہ سب ہو سکتا ہے۔‘

لویا ابھی بھی بہت مایوسی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کیمورا ہمیشہ ادھر ہی ہے۔ یہ ہمارے شہر کے لیے کینسر کی درجہ رکھتا ہے۔‘

’میں اتنا ہی شرمندہ ہوں جتنا کہ کتا‘

اٹلی کی ریاست کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں گینارو پینزوٹو 2021 تک جیل سے رہا ہو جائیں گے۔

لیکن وہ نیپلس کبھی واپس نہیں جا سکیں گے۔ انھیں کسی اور جگہ بھیج دیا جائے گا اور اگر ممکن ہوا تو انھیں نئی شناخت بھی دی جائے گی۔

ہماری ملاقات کے آغاز میں جب میں نے پینزوٹو سے پوچھا کہ کیا انھوں نے اپنی پہلی زندگی سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے تو ان کا جواب تھا کہ میں نے اپنی جِلد تبدیل کر لی ہے۔

’میں آپ کو سچ بتانے جا رہا ہوں۔ میں اپنی محبت کے لیے پیشمان تھا۔ میری شریک حیات کی محبت۔۔۔ میرے بچوں کے لیے میری محبت۔‘

پینزوٹو نے مجھے بتایا کہ وہ شناختی بحران کا شکار ہیں۔ وہ اپنے بارے میں اب صیحح ادراک نہیں رکھتے۔

انھوں نے اپنے جسم پر مجھے وہ نشان دکھائے جو جیل میں انھوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں دیے تھے۔ انھوں نے گینگ کے خاموشی توڑنے کے کوڈ یعنی راز فاش کرنے کی پاداش میں ذاتی طور پر بڑی قیمت چکائی ہے۔

’آپ کو وہ ایک دن نہیں بھولتا جس دن آپ انتخاب کرتے ہیں کوڈ توڑنے کا۔۔۔ وہ کوڈ جس کی آپ نے خلاف ورزی کی ہوتی ہے اور وہ لوگ جن کو آپ نے دھوکہ دے کر نیچا دکھایا ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’میرا ایک بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ جب سے میں نے ریاست کے ساتھ تعاون کیا ہے اس وقت سے میرا ان سے رابطہ نہیں ہوا۔‘

پینزوٹو کے متاثرین پر کیا گزر رہی ہو گی؟ کیا اپنے بجائے وہ ان کے بارے میں نہیں سوچتے؟

’میں اتنا ہی شرمندہ ہوں جتنا کہ کتا۔ لوگوں کو قتل کرنے کے لیے کچھ نہیں چاہیے ہوتا، اس کے لیے بڑی بزدلی درکار ہوتی ہے۔ بس!‘