شمالی کوریا: خاتون قیدی جو اپنے محافظ کے ساتھ جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی

شمالی کوریا

اس نے پوری منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ اس نے نگرانی کے لیے لگے کیمروں کی تاریں کاٹ ڈالیں۔ اس نے طویل نائٹ ڈیوٹی کے لیے اپنی خدمات پیش کیں، حتیٰ کہ اس نے اپنے جوتے بیرونی دروازے کے باہر اُس کے لیے رکھ دیے تھے۔

جیان نے کِم کو نصف شب میں جگایا اور انھیں اس راستے پر لے گیا جس کا پلان اس نے پہلے سے بنا رکھا تھا۔

فرار سے ایک رات قبل اس نے دو بیگ تیار کیے تھے جن میں خوراک اور فالتو کپڑوں کے علاوہ زہر اور ایک چاقو بھی تھا۔

وہ کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اور اسی لیے اس نے ایک پستول بھی رکھا ہوا تھا۔ اگرچہ کِم نے اسے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ پستول ساتھ نہ رکھے تاہم جیان اسے ساتھ رکھنے پر بضد تھا۔

ان کے لیے فرار کے دوران زندہ پکڑا جانا کوئی آپشن نہیں تھا کیونکہ ایسی صورتحال میں موت کی سزا یقینی تھی خاص کر اس وقت جب ایک گارڈ ایک قیدی کے ساتھ فرار ہو رہا ہو۔

26 سالہ جیان جِن کہتے ہیں ’مجھے معلوم تھا میرے پاس فقط وہی ایک رات تھی اور اگر میں کامیابی سے فرار نہ ہو پاتا تو مجھے پکڑ لیا جاتا اور ہلاک کر دیا جاتا۔‘

’اگر وہ مجھے روکتے تو میں ان کو گولیاں مارتا اور بھاگ جاتا اور اگر میں بھاگ نہ پاتا تو میں اپنے آپ کو ہی گولی مار لیتا۔‘

جیان وانگ جِن
Image caption جیان وانگ جِن

وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ منصوبہ ناکام ہوتا تو انھوں نے پلان بنا رکھا تھا کہ وہ اپنے آپ کو چاقو کے وار سے ہلاک کر لیں گے اور زہر کھا لیں گے۔

جیان کہتے ہیں کہ جب میں موت کے لیے تیار ہو چکا تھا تو میرا سب ڈر ختم ہو گیا۔

کِم اور جیان نے اکھٹے قید خانے کی کھڑکی سے چھلانگ لگائی اور جیل میں موجود ورزش کرنے والے میدان میں بھاگنے لگے۔

ان کے سامنے اونچی خاردار تاریں تھیں جنھیں ان کو عبور کرنا تھا، انھیں محافظوں کے کتوں سے بھی خطرہ تھا جن کے بھونکنے کی آوازیں انھیں سنائی دے رہی تھیں۔

شمالی کوریا

اور اگر یہ سب کامیابی سے ہو بھی جاتا اور بِنا کسی کے دیکھے اور سُنے خار دار تاریں پھلانگنے میں کامیاب بھی ہو جاتے تب بھی انھیں دریائے تمن پر سرحدی گارڈز کی پٹرولنگ سے بچ کر نکلنا تھا۔ یہ دریا ان کی آزادی کے درمیان حائل تھا۔

لیکن یہ ایک بڑا خطرہ تھا۔

لائن

قید خانے کے محافظ اور قیدی کے درمیان دوستی ہو جانا ایک غیر معمولی رشتہ تھا۔

وہ فقط دو ماہ پہلے مئی 2019 میں ملے تھے۔ جیان شمالی کوریا کے دور دراز علاقے میں قائم ’آن سانگ‘ نامی قید خانے کے بہت سے محافظوں میں سے ایک تھے۔

یہ تمام محافظ کِم سمیت چند درجن قیدیوں کو 24 گھنٹے زیرِ نگرانی رکھتے، یہ قیدی اپنے ٹرائل کے منتظر تھے۔

کِم ان (جیان) کی نظروں میں اپنے بہترین لباس اور انداز و اطوار کی وجہ سے آئی تھیں۔

جیانگ جانتے تھے کہ کِم اس قید خانے میں صرف اس لیے مقید ہیں کیونکہ انھیں نے اپنے ملک کے دیگر افراد کی ملک چھوڑنے میں مدد کی تھی۔ ملک چھوڑنے والے یہ افراد شمالی کوریا میں ایک انتہائی مشکل زندگی گزار رہے تھے۔

کِم ان افراد میں سے ہیں جنھیں ’بروکر‘ کہا جاتا ہے۔ وہ ان لوگوں میں رابطہ قائم کرواتی جو ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں مگر ان کے خاندان کے دیگر افراد اب بھی ملک میں موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو فون کالز پر ایک دوسرے سے بات کرنے اور پیسے بھیجنے میں مدد کرتی تھیں۔

ایک عام شمالی کوریا کے شہری کے لیے یہ ایک اچھا کاروبار تھا۔

کِم کو تقریباً 30 فیصد پیسے کمیشن میں ملتے تھے۔ تحقیق کے مطابق اوسطاً 1798 پاؤنڈ کی رقم کی ٹرانزیکشن ہوتی ہے۔

کِم اور جیان دو انتہائی الگ ذہنیتوں کے لوگ تھے۔

کِم غیر قانونی طریقوں سے پیسے کماتی تھیں اور وہ یہ کام کمیونسٹ ریاست شمالی کوریا میں کر رہی تھیں جبکہ جیان گذشتہ 10 سال سے فوج میں ایک سپاہی کے طور پر کام کر رہے تھے اور انھیں ریاست کی آمر حکومت کے نظریات بہت اچھی طرح معلوم تھے۔

لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان دونوں میں کتنا کچھ قدر مشترک ہے۔ دونوں اپنی زندگیوں سے پریشان تھے اور انھیں معلوم تھا کہ اب سب راستے بند ہو چکے ہیں۔

کِم کے لیے قید کی سزا ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ انھیں قید کی سزا سنائی گئی ہو۔ انھیں معلوم تھا کہ دوسری مرتبہ سزا ملنے کی وجہ سے ان کے ساتھ بہت برا سلوک روا رکھا جائے گا۔

اور اگر وہ دوسری مرتبہ قید خانے سے زندہ نکل بھی آتیں، تو پھر سے بروکر بننا اور اس کی وجہ سے ہونے والی ممکنہ گرفتاری کے نتائج خطرناک ہو سکتے تھے۔

لیکن پھر انھیں محسوس ہوا کہ زندہ رہنے کے لیے یہ ہی واحد راستہ ہے۔

کِم کو پہلی مرتبہ بروکری کی ایک مخصوص اور خطرناک قسم کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ شمالی کوریا کے رہائشیوں کی چین جانے میں مدد کر رہی تھیں۔ یہ وہی راستہ ہے جو کِم اور جیان نے بعد میں خود اختیار کیا۔

وہ کہتی ہیں ’آپ اس طرح کا کام (بروکر) کبھی نہیں کر سکتے اگر آپ کے فوج میں رابطے نہ ہوں۔‘

وہ فوجیوں کو اپنے فرائض سے غفلت برتنے کے عوض رشوت دیتیں اور یہ کام چھ سال تک کامیابی سے جاری رہا۔ اس دوران انھوں نے کافی پیسے بھی بنائے اور چین جانے والے ہر شخص سے 1433 سے 2149 امریکی ڈالر تک وصول کیے۔ ایک شخص کو سرحد پار کروانے کے عوض ملنے والی رقم شمالی کوریا میں سالانہ اوسطاً تنخواہ جتنی ہے۔

تاہم کِم کے فوج میں موجود ان دوستوں نے انھیں بعد میں دھوکہ دیا۔ انھیں پانچ برس قید کی سزائی سنائی گئی۔ جب وہ سزا مکمل کر کے باہر آئیں تو انھوں نے بروکر کا کام چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ کام اب بہت خطرناک ہو چکا تھا۔

پھر انھوں نے ایک ایسی دریافت کی جس نے انھیں دوبارہ اس بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔

جب وہ قید میں تھیں تو ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی اور ان کی دونوں بیٹیوں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اور اب کِم کو زندگی آگے بڑھانے کے لیے کوئی نیا راستہ ڈھونڈنا تھا۔

انھوں نے فیصلہ کیا کہ اگرچہ اب وہ ملک چھوڑنے میں لوگوں کی مدد نہیں کریں گی لیکن وہ ایسی بروکر بن سکتی ہیں جس میں خطرہ کم ہو۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ شمالی کوریا کے ایسے شہری جو اب جنوبی کوریا میں موجود ہیں کو پیسے بھیجنے اور غیر قانونی فون کالز کرنے میں مدد فراہم کریں گی۔

شمالی کوریا کے موبائل فونز پر بین الاقوامی کالز موصول نہیں کی جا سکتیں۔ اب کِم لوگوں سے اپنے چین سے سمگل شدہ موبائل فون پر کالز وصول کرنے کی ایک رقم حاصل کرتی تھیں۔

لیکن پھر جلد ہی وہ دوبارہ پکڑی گئیں۔ جب وہ اپنے گاؤں کے ایک لڑکے کو جنوبی کوریا جانے والی ان کی والدہ سے فون پر بات کروانے کے لیے پہاڑوں پر لے کر گئیں تو ان کا پیچھا خفیہ پولیس نے کیا۔

’میں نے انھیں (پولیس) کہا کہ میں انھیں منھ مانگی رقم دے سکتی ہوں۔ میں نے ان سے (رحم کی) بھیک مانگی۔ مگر انھوں نے کہا کہ کیونکہ یہ لڑکا (خاتون کا بیٹا) سب کچھ جانتا ہے اس لیے وہ میرے جرم سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے اور مجھے نہیں بچا سکتے۔‘

شمالی کوریا میں ’دشمن ریاست‘ (یعنی جنوبی کوریا، جاپان یا امریکہ) سے ساتھ تعلقات قائم کرنا کسی کو قتل کرنے کے مقابلے میں زیادہ سخت سزا دلوا سکتا ہے۔

کِم کو احساس ہوا کہ اب سب ختم ہو گیا ہے۔ وہ پہلی بار جیان سے اس وقت ملیں جب ان پر مقدمہ چل رہا تھا۔ لیکن انھیں معلوم تھا کہ دوسری مرتبہ سزا ملنے پر زیادہ مشکل حالات ہوں گے۔

جیان کی زندگی کو اگرچہ کسی طرح کے خدشات لاحق نہیں تھے لیکن وہ اپنی زندگی سے بہت پریشان تھے۔

انھوں نے فوج میں لازمی سروس کا آغاز کیا۔ ان کے روزمرہ کے کاموں میں شمالی کوریا کے بانی کے مجسمے کی حفاظت کرنا اور مویشیوں کے لیے گھاس اگانا شامل تھا۔ یہ کرتے ہوئے وہ اپنے بچپن کا خواب پورا کر سکتے تھے، یعنی ایک پولیس افسر بننا۔

لیکن پھر ان کے والد نے ان کے مستقبل سے متعلق ایک بڑی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔

ان کے والد نے انھیں بتایا کہ حقیقت پسندانہ طریقے سے سوچا جائے تو ان کے پس منظر سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص کبھی اس پوزیشن (پولیس افسر) تک نہیں پہنچ سکتا۔

شمالی کوریا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شمالی کوریا میں جیان کے والدین جیسے کئی کسانوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوتا ہے

جیان نے بتایا ’ایک روز میرے والد نے مجھے بٹھایا اور بتایا کہ اگر حقیقت پر مبنی بات کی جائے تو میرے جیسے پس منظر سے تعلق رکھنے والا شخص کبھی اس عہدے تک نہیں پہنچ سکتا۔‘

جیان کے والدین اپنے آباؤ اجداد کی طرح کھیتی باڑی کے پیشے سے منسلک تھے۔

جیان کہتے ہیں ’شمالی کوریا میں آگے بڑھنے کے لیے پیسے درکار ہوتے ہیں۔ حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ یونیورسٹی میں ٹیسٹ دیتے ہیں تو یہ معمولی بات سمجھی جاتی ہے کہ اچھے نتائج کے لیے پروفیسروں کو رشوت دی جائے۔‘

اور جو افراد اچھے کالج میں چلے جاتے ہیں یا اچھے رزلٹ کے ساتھ فارغ التحصیل بھی ہو جاتے ہیں تو پیسوں کے بغیر اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ مستقبل بہتر ہو گا۔

وہ کہتے ہیں ’میں ایسے شخص کو جانتا ہوں جو کِم سنگ یونیورسٹی سے اچھے رزلٹ کے ساتھ فارغ التحصیل ہوئے مگر اس کے باوجود وہ بازار میں نقلی گوشت فروخت کرنے پر مجبور ہوئے۔‘

آبادی کا بیشتر حصہ زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

جیان کی زندگی کے ابتدائی برسوں کے مقابلے میں اب ان کے حالات زندگی قدرے بہتر تھے۔ ان کی زندگی کے ابتدائی برسوں میں ملک کو شدید ترین قحط کا سامنا تھا جس نے ملک کو تباہ کر دیا تھا۔ اگرچہ اتنے مشکل نہیں مگر جیان کے لیے حالات اب بھی انتہائی سخت تھے۔

جب جیان کو بتایا گیا کہ وہ اپنی زندگی کا خواب، یعنی پولیس افسر بننا، کبھی نہیں پا سکتے تو انھوں نے اپنی زندگی کا رخ بدلنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

جب جیان کِم سے ملے تو یہ سوچ اپنے ابتدائی مراحل میں تھی مگر کِم سے بات چیت کے بعد یہ سوچ پختہ ہو گئی۔

لائن

ان کا تعلق بہت غیر معمولی تھا، یہ تعلق ایسا ہرگز نہیں تھا جو عمومی طور پر کسی گارڈ اور قیدی کا ہوتا ہے۔

جیان کہتے ہیں کہ قیدیوں کو اتنی اجازت بھی نہیں ہوتی کہ وہ گارڈز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں۔ ’یہ تعلق آسمان اور زمین جیسا ہے۔‘

تاہم جیان کِم کے قید خانے کی آہنی سلاخوں کے سامنے آ کر انھیں ہاتھ سے اشارہ کرتے اور پھر وہ سرگوشیوں میں بات کرتے۔

’وہاں ایک کیمرہ بھی تھا۔ مگر جب بجلی کی فراہمی میں تعطل آتا تو کیمرے کی فوٹیج نہیں دیکھی جا سکتی تھی اور بعض اوقات وہ کیمرے کو اس کی جگہ سے تھوڑا ہلا دیتے۔‘

’اگرچہ قیدیوں کو سب معلوم تھا کہ کون کس کے قریب ہے تاہم قید خانے میں گارڈز کا رعب چلتا تھا۔‘

جیان کہتے ہیں کہ وہ کِم کا زیادہ خیال رکھتے کیونکہ وہ اپنے درمیان ایک تعلق محسوس کرتے تھے۔

پہلی ملاقات کے دو ماہ بعد ان کی دوستی نے زیادہ اہمیت اختیار کر لی۔ کِم کا ٹرائل ہوا اور انھیں چار برس اور تین ماہ قید کی سزا سنانے کے بعد چانگری قید خانے بھجوا دیا گیا۔

انھیں معلوم تھا کہ شاید وہ اس قید خانے سے زندہ باہر نہ آ سکیں۔ سابقہ قیدیوں کی انٹرویوز سے اس بابت معلوم ہوا کہ شمالی کوریا کی جیلوں میں قیدیوں کا استحصال کتنا عام ہے۔

حراستی مرکز تصویر کے کاپی رائٹ DigitalGlobe/ScapeWare3d
Image caption جیل

کِم کہتی ہیں ’میں ناامید تھی۔۔۔ میں نے متعدد مرتبہ خودکشی کا سوچا۔ میں روتی رہتی تھی۔‘

جیان کہتے ہیں کہ ’جب آپ قید خانے میں جاتے ہیں تو آپ کو آپ کی شہریت تک سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ آپ سے انسانوں والا سلوک نہیں کیا جاتا، آپ جانوروں سے کچھ مختلف نہیں ہوتے۔‘

ایک دن جیان نے سرگوشی میں کِم کے کان میں چند ایسے الفاظ کہے جنھوں نے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔

جیان نے کہا ’بہن میں تمھاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔ شاید جیل میں تم مر جاؤ۔ یہاں سے بچ نکلنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ میں تمھاری یہاں سے باہر نکلنے میں مدد کروں۔‘

مگر بہت سے شمالی کوریا کے باشندوں کی طرح کِم بھی دوسروں پر اعتماد نہ کرنا سیکھ لیا تھا۔ کِم نے سوچا کہ شاید انھیں پھنسانے کی یہ ایک ترکیب ہو۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے اس (جیان) کو یہ کہتے ہوئے چلینج کیا کہ کیا تم جاسوس ہو؟ مجھے تباہ کر کے اور میری جاسوسی کر کے تمھیں کیا حاصل ہو گا؟‘ مگر جیان لگاتار کہتے رہے کہ وہ جاسوس نہیں ہے۔

جیان نے کِم کو بتایا نہ صرف وہ کِم کو جنوبی کوریا فرار کرنے میں مدد دینا چاہتا ہے بلکہ وہ خود بھی وہاں (جنوبی کوریا) کِم کے ساتھ جانا چاہتا ہے۔

جیان کو یہ بھی معلوم ہوا کہ جنوبی کوریا میں ان کی رشتہ داروں کی موجودگی اور ان کا ’کم ذات‘ ہونا بھی ان کی توقعات پوری ہونے کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھا۔

تاہم جنوبی کوریا میں موجود ان کے رشتہ داروں نے انھیں ایک مختلف اور اچھے مستقبل کی امید بھی دلوائی تھا۔

جیان نے کِم کو اپنے ان رشتہ داروں کی وہ تصاویر بھی دکھائیں تو انھوں نے اپنے والدین کے گھر سے چپکے سے اٹھا لی تھیں۔ ان تصاویر کے پیچھے ان کے گھروں کے پتے بھی درج تھے۔

یہ وہ موقع تھا جب کِم کو جیان پر یقین آنا شروع ہوا مگر اب بھی وہ بہت ڈری ہوئی تھی۔

کِم بتاتی ہیں ’میرا دل زور زور سے ڈھڑک رہا تھا۔ شمالی کوریا کی تاریخ میں کبھی ایک گارڈ اور قیدی جیل سے اکھٹے فرار نہیں ہوئے تھے۔‘

گذشتہ برس 12 جولائی کو جیان کو لگا کہ اب وقت آ چکا ہے۔ اس دن ان کا باس رات گزارنے کے لیے گھر چلا گیا۔

رات کی تاریکی میں، وہ کھڑکی سے باہر کودے، خاردار تاروں اور چاولوں کے کھیتوں کو عبور کیا اور دریا تک پہنچ گئے۔

کِم کہتی ہیں کہ میں بار بار گِر رہی تھی کیونکہ مہینوں قید میں رہنے کے باعث ان کا جسم کمزور ہو چکا تھا۔

وہ بحفاظت دریا کے کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ اچانک ان سے 50 میٹر دور لائٹ پڑتی ہے۔ یہ لائٹ سرحد پر تعینات گارڈز چوکی سے آ رہی تھی۔

شمالی کوریا

جیان کہتے ہیں ’ہمیں لگا کہ سرحد پر سکیورٹی اس لیے سخت کی جا رہی ہے کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ ہم حراستی مرکز سے بھاگ نکلے ہیں۔‘

’لیکن ہم دھیان سے دیکھ رہے تھے کہ وہ صرف گارڈ تبدیل کر رہے ہیں۔ ہم گارڈز کو آپس میں بات کرتے سن سکتے تھے۔‘

’ہم نے انتظاہر کیا۔ 30 منٹ بعد خاموشی چھا گئی۔‘

’ہم دریا میں چلے گئے۔ میں کئی مرتبہ دریا کے کنارے جا چکا تھا۔ اس میں پانی کی سطح ہمیشہ کم ہوتی تھی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ پانی اتنا گہرا ہو گا۔‘

’اگر میرے پاس کچھ بھی نہ ہوتا تو میں آسانی سے تیر کر دوسرے کنارے جا سکتا تھا۔ لیکن میں نے ایک بستہ پہنا ہوا تھا۔ میرے پاس بندوق تھی اور اگر بندوق گیلی ہو جاتی تو وہ استعمال کے قابل نہ رہتی۔ اس لیے میں نے بندوق ہاتھ میں بلند اٹھائی رکھی۔‘

جیان نے تو تیرنا شروع کر دیا لیکن کِم کو تیرنا نہیں آتا تھا۔

جیان نے ایک ہاتھ میں بندوق اٹھائی اور دوسرے سے کِم کو گھسیٹنا شروع کیا۔

کِم کہتی ہیں ’جب ہم دریا کے بیچ میں تھے تو پانی میرے سر کے اوپر سے جا رہا تھا۔ مجھے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی اور میں آنکھیں نہیں کھول پا رہی تھی۔‘

انھوں نے جیان سے کہا کہ واپس چلو۔

جیان نے جواب دیا کہ ’اگر ہم واپس گئے تو دونوں مارے جائیں گے۔ اُدھر کے بجائے اِدھر مرنا بہتر ہے۔ لیکن میں پریشانی سے سوچ رہا تھا کہ کیا میں اس طرح مر جاؤں گا، کیا میری زندگی اس طرح ختم ہو جائے گی۔‘

آخر کار جیان کے پیر زمین سے ٹکرائے۔

وہ لڑکھڑاتے ہوئے دریا سے باہر نکلے اور سرحد کا وہ آخری حصہ عبور کیا جو چین کے ساتھ لگتا تھا۔

شمالی کوریا

لیکن تب بھی وہ محفوظ نہیں تھے۔

وہ تین دن تک پہاڑوں میں چھپے رہے۔ پھر انھیں ایک مقامی شخص ملا جس نے انھیں اپنا فون استعمال کرنے دیا۔ کِم نے اس بروکر سے رابطہ کیا جسے وہ جانتی تھیں۔ بروکر نے بتایا کہ شمالی کوریا میں حکام ہائی الرٹ پر تھے اور ان کی گرفتاری کے لیے ایک ٹیم کو بھیجا گیا تھا۔ ان اہلکاروں کے چین کی پولیس سے بھی رابطے تھے تاکہ علاقے کی چیکنگ کی جا سکے۔

لیکن کِم کے رابطہ کاروں کی مدد سے وہ ایک محفوظ مقام سے دوسرے محفوظ مقام پر منتقل ہوتے رہے، یہاں تک کہ چین سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور ایک تیسرے ملک پہنچ گئے۔ اپنے سفر کے آخری مرحلے کو مکمل کرنے سے قبل وہ ہمیں ایک خفیہ مقام پر ملے تاکہ اپنے ناقابل یقین فرار کی کہانی سنا سکیں۔

اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ کِم اور جیان کے اقدامات کی بدولت شمالی کوریا کے ذات پات کے نظام میں ان کے خاندانوں کے معاشرتی موقف کو مزید نقصان پہنچے گا اور ان کے فیملی ممبرز کی نہ صرف نگرانی کی جائے گی بلکہ ان سے پوچھ گچھ بھی کی جائے گی۔

تاہم ان دونوں کو امید ہے کہ شمالی کوریا میں ان کو درپیش حالات کے پیش نظر ان کے خاندانوں کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ وہ (خاندان) ان کے منصوبے سے قطعی لاعلم تھے۔

کِم کہتی ہیں ’میں اپنے آپ کو قصوروار سمجھتی ہوں کہ میں زندہ رہنے کے لیے فرار ہوئی۔ درحقیقت یہ سوچ میرا دل توڑ دیتی ہے۔‘

جیان بھی کچھ ایسا ہی سوچتے ہیں۔ اپنے سر کو اپنے ہاتھوں میں لینے سے قبل کو آہستگی سے ایک لوک گیت گاتے ہیں۔

انھیں یہ بھی غم ہے کہ اب ان کی منزل اس عورت کی منزل سے مختلف ہونے جا رہی ہے جو اتنی دور بھاگ کر ان کے ساتھ آئی۔ جیان نے اپنا منصوبہ بدل لیا ہے اور اب جنوبی کوریا جانے کی بجائے امریکہ جانا چاہتے ہیں۔

وہ کِم سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ امریکہ آ جائیں۔ کِم اپنا سر ہلاتے ہوئے کہتی ہیں ’میں پراعتماد نہیں ہوں۔ مجھے انگلش بولنا نہیں آتی۔ میں ڈری ہوئی ہوں۔‘

جیان انھیں آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر وہ اکھٹے امریکہ گئے تو وہ انگلش سیکھ سکتے ہیں۔

جیان کی انگریزی زبان میں ایک تحریر
Image caption جیان کی انگریزی زبان میں ایک تحریر

کِم انھیں خاموشی سے کہتی ہیں ’آپ جہاں بھی جائیں مجھے بھولنا مت۔‘

لیکن وہ دونوں خوش ہیں کہ وہ شمالی کوریا کے جابرانہ نظامِ حکومت کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔

کِم کہتی ہیں کہ انھیں دارالحکومت پیانگ یانگ تک بھی سفر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

’ماضی کو دیکھا جائے تو ہم سب قید میں زندگی گزار رہے تھے۔ ہم اپنی مرضی سے نقل و حرکت نہیں کر سکتے تھے یا جو چاہیں وہ نہیں کر سکتے تھے۔‘

جیان کہتے ہیں ’شمالی کوریا کے لوگوں کے پاس آنکھیں ہیں مگر دیکھ نہیں سکتے، کان ہیں مگر سن نہیں سکتے، منھ ہیں مگر بول نہیں سکتے۔‘

قیدی کی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے اُن کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں