#MeccaGirl: ’مکہ گرل‘ میوزک ویڈیو بنانے والی سعودی ریپر اصايل سلاي مشکل میں

Asayel Slay تصویر کے کاپی رائٹ Asayel Slay
Image caption یہ ویڈیو گذشتہ ہفتے یوٹیوب پر ایک نوجوان خاتون ریپر نے جاری کی تھی جو اپنا نام اصايل سلاي بتاتی ہیں

سعودی عرب میں حکام ایک ایسی خاتون ریپر کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں جنھوں نے اپنے ’مکہ گرل‘ نامی گانے کی میوزک ویڈیو نشر کی ہے۔ اس ویڈیو میں مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ میں رہنے والی خواتین کو ’طاقتور اور خوبصورت‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے اس پر غصے کا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے حکام کو ’منافقانہ‘ قرار دیا ہے۔

سنہ 2018 میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب جیسے انتہائی قدامت پسند معاشرے کو بدلنے اور جدید خطوط پر استوار کرنے والے اصلاحات کے ایک پروگرام کا آغاز کیا تھا۔

لیکن اس کے برعکس انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سختیوں میں اضافہ ہوا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغنیں لگائیں جا رہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب میں کنسرٹ منسوخ کرو!

سعودی عرب میں ’ایک ناقابلِ فراموش رات‘

35 سالہ پابندی کے بعد سعودی عرب میں پہلا سنیما

یہ ویڈیو گذشتہ ہفتے یوٹیوب پر ایک نوجوان خاتون ریپر نے جاری کی تھی جو اپنا نام اصايل سلاي بتاتی ہیں۔

اصايل مکہ شہر میں رہنے والی خواتین کے بارے میں ریپ میوزک بناتی ہیں۔ مکہ اسلام کا سب سے مقدس مقام ہے جہاں لاکھوں مسلمان ہر سال حج یا عمرے کے لیے جاتے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سعودی خاتون ڈرائیورز: ’گاڑی چلانا میرا بچپن کا خواب تھا‘

متنازع ویڈیو میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ایک کیفے میں ڈانس کرتے دکھایا گیا ہے جن کے بیچ اصايل گا رہی ہیں ’ہم دوسری لڑکیوں کی عزت کرتے ہیں لیکن مکہ کی لڑکی ’شوگر کینڈی‘ ہے۔‘

اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا اور لوگوں نے اس کی تعریف کرتے ہوئے ہیش ٹیگ #Mecca_Girl_Represents_Me کا استعمال بھی کیا۔

جمعرات کے روز مکہ کے گورنر خالد الفیصل نے ویڈیو بنانے والوں کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ اس میں ’مکہ کے رسم و رواج کی توہین‘ کی گئی ہے۔ اس ٹویٹ کے ساتھ انھوں نے #لستن_بنات_مكه یا ’وہ مکہ کی لڑکیاں نہیں ہیں‘ ہیش ٹیگ کا استعمال کیا۔

اصايل سلاي کے اکاؤنٹ کو معطل کردیا گیا ہے اور اب یہ ویڈیو یوٹیوب پر دستیاب نہیں ہے۔

ایک صارف نے اپنے تبصرے میں لکھا ’یہ وہ واحد ریپ گانا ہے جس میں ایک بھی فحش، توہین آمیز، فحش منظر کی عکاسی، عریانی، چرس یا تمباکو نوشی نہیں دکھائی گئی۔ حتیٰ کہ ریپر نے حجاب بھی پہنا ہوا ہے۔‘

’لڑکی کو گرفتاری کا سامنا کرنا ہے کیونکہ یہ گانا نئے اور پرانے دونوں سعودی عرب سے مطابقت نہیں رکھتا۔‘

کئی سوشل میڈیا صارفین، مرد، خواتین کے لیے دوہرا معیار اپنانے کی بھی شکایت کرتے نظر آئے۔

کئی صارفین نے مراکشی گلوکار سعد لمجارداد کی جانب بھی توجہ مبذول کروائی جنھیں عصمت دری کے تین الزامات کا سامنا کرنے کے بعد بھی ریاض میں پرفارم کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ سعد لمجارداد خود پر لگے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے حکام پر الزام لگایا کہ وہ بیرونِ ملک تو جدید اور ماڈرن سعودی عرب کی شبیہہ پیش کرتے ہیں لیکن ملک کے اندر وہ لوگوں پر اس طرح سے کریک ڈاؤن اور سختیاں روا رکھے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نکی مناج کے طے شدہ کنسرٹ پر سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی

خود کو سعودی امریکن فیمینسٹ کہنے والی أماني الأحمدي نے ٹویٹ کیا ’یہ سعودی حکومت کا روایتی طریقہ ہے کہ وہ باہر سے ایسا مغربی اثرورسوخ لائیں گے جو سعودی ثقافت کو سرے سے مٹا دے لیکن اپنی ثقافتی شناخت دکھانے کی کوشش کرنے والی سعودی خواتین پر حملے کریں گے۔‘

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے اصلاحاتی پروگرام ’وژن 2030‘ منصوبہ کے تحت بیرون ملک، سعودی عرب کی ایک جدید شبیہہ کو فروغ دے رہے ہیں۔

ماریہ کیری، نکی میناج اور بی ٹی ایس سمیت کئی فنکاروں کو سعودی عرب میں پرفارم کرنے کے لیے مدعو کیا جا چکا ہے۔

لیکن شدید ردِعمل سامنے آنے کے بعد، نکی میناج نے خواتین اور ہم جنس پرست افراد کے لیے اپنی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے جدہ میں اپنا طے شدہ کنسرٹ منسوخ کر دیا تھا۔

دسمبر میں ایک میوزک فیسٹیول کے دوران 120 سعودی مرد و خواتین کو ’نامناسب لباس‘ پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں