اسرائیل کا غزہ اور شام میں فلسطینی جنگجو گروپ کے خلاف فضائی حملے کا دعویٰ

فضائی حملہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک راکٹ حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ اور شام میں فلسطینی جنگجو گروپ کے خلاف فضائی کارروائی کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اتوار کے روز جنوبی دمشق اور غزہ کی پٹی میں جنگجو گروپ ’اسلامک جہاد‘ کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

شام پر حملے کا اعتراف کرتے ہوئے اسرائیل نے کہا ہے کہ اس حملے میں ’اسلامک جہاد کی سرگرمیوں کے مرکز‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب شام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ فضائی دفاع کے ذریعے بہت سے اسرائیلی میزائلوں کو مار گرایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں غزہ میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم ہلاکتوں کی فوری اطلاعات موصول نہیں ہو سکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لاکھوں اسرائیلی فلسطینی علاقوں میں کیوں رہتے ہیں؟

ٹرمپ کا امن منصوبہ: ’صدی کی عظیم ڈیل بہت بڑا جوا ہے‘

فلسطین:’یہودی بستیوں پر امریکی بیان ’جنگل راج‘ کی توثیق ہے‘

اسرائیل کی جانب سے یہ حملہ اتوار کی صبح غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل پر داغے گئے متعدد راکٹ حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی سے کیے گئے حملے میں کم از کم 20 راکٹ داغے گئے تھے۔ ان راکٹ حملوں میں کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔

تازہ جھڑپ اتوار کی صبح اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے کہا کہ اس نے اپنی سرحد کے نزدیک غزہ کی پٹی پر فلسطینی اسلامک جہاد کے ایک رکن کو ہلاک کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص دھماکہ خیز مواد نصب کر رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی کی جانب سے جنوبی اسرائیل کی طرف کم از کم 20 راکٹ داغے گئے

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اسرائیلی بلڈوزر کس طرح ایک لاش کو اٹھا رہا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد فلسطین میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔

بعض فلسطینیوں نے اس عمل کے خلاف جوابی کارروائی کی بات کی، جس کے چند گھنٹے بعد غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹ داغے گئے اور اس کے بعد فضائی حملے کے سائرن سنے گئے۔

اسلامی جہاد نے راکٹ داغنے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اسے غزہ سرحد پر اپنے ایک جنگجو کے ہلاکت کی جوابی کارروائی کہا ہے۔

اسلامی جہاد کو ایران کی حمایت حاصل ہے اور وہ غزہ میں سب سے مضبوط جنگجو گروہوں میں سے ایک ہے۔ حماس کے ساتھ اس نے حالیہ دہائیوں میں اسرائیل کے خلاف کئی کارروائیوں میں شرکت کی ہے۔

اسرائیل اور اسلامی جہاد کے درمیان تشدد کے واقعات گذشتہ نومبر میں اس وقت سامنے آئے جب اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں جنگجو گروپ کے ایک سینیئر کمانڈر ہلاک ہو گئے تھے۔

رواں ماہ کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبہ کے اعلان کے چند دنوں بعد بھی فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا تھا۔

اسی بارے میں