برطانیہ میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی تجربہ گاہیں

کم بولٹن، کیمبرج شائر

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

کم بولٹن، کیمبرج شائر

آئر لینڈ سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر دارا میک گراتھکیمیائی اور حیاتیاتی جنگ سے منسلک برطانوی مقامات کی عکس بندی کرتے ہیں۔

انھوں نے اپنے اس پراجیکٹ کو ’پراجیکٹ کلین سوئیپ‘ کا نام دیا ہے۔ یہ نام برطانیہ کی وزارت دفاع کی جانب سے سنہ 2011 میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کی مناسبت سے ہے۔

اس رپورٹ میں برطانیہ میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری، انھیں ذخیرہ کرنے اور تلف کرنے کے ان 14 مقامات کی بابت بتایا گیا تھا جو ان مقامات پر باقی رہ جانے والی آلودگی کے باعث خطرے کی زد میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جنگ عظیم دوئم کے دوران کیمبرج شائر کے علاقے کم بولٹن میں ریل گاڑی کے ایک چھوٹے ٹریک کو کیمیائی ہتھیاروں کو عارضی طور پر ذخیرہ کرنے اور مشرقی انگلینڈ میں قائم ہتھیاروں کے ڈپوز تک بھیجنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ یہ ہتھیار جرمنی کی فوج کی جانب سے انگلینڈ پر حملے کے پیشِ نظر ہنگامی استعمال کے لیے ترسیل کیے گئے تھے۔

آج کل یہ مقام ایک چراہ گاہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

ریڈم وِن، فلنٹ شائر کی ایک سرنگ

87 ایکٹر پر محیط ریڈم وِن (فلنٹ شائر) میں واقع اس مقام کو ’دی ویلی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سینٹر کو کیمیائی ہتھیاروں، جیسا کہ مسٹرڈ گیس، کی بڑے پیمانے پر تیاری اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں پر جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ہونے والے تحقیق بھی کی جاتی رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

ریڈم وِن کی دیواروں پر لگے پرانے پوسٹرز

جب دوسری عالمی جنگ اپنے عروج پر تھی تو ریڈم وِن کے اس مقام پر 2200 افراد کام کرتے تھے۔

سنہ 1960 میں اس سائٹ کو بند کر دیا گیا تھا۔ سنہ 2008 میں یہاں واقع 21 عمارتوں اور سرنگوں کا اندراج تاریخی یادگاروں کے طور پر ہوا۔

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

ریڈم وِن میں واقع یہ سائٹ اب محفوظ قدرتی مقام بن چکی ہے

جنگ عظیم کے دوران ڈربی شائر کے علاقے ہارپر ہل میں 104 ایکٹر پر محیط ’مینٹینینس یونٹ 28‘ برطانیہ میں کیمیائی ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ مرکز تھا۔

جنگ کے بعد اس مرکز میں دشمن افواج سے پکڑے جانے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا کام کیا جاتا تھا۔ یہ سائٹ سنہ 1960 میں بند کر دی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

ڈربی شائر، ہارپر ہل

برطانیہ کی وزارت دفاع کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں درج شدہ 14 مقامات کے علاوہ میک گراتھ نے اسی نوعیت کے مزید 92 مقامات کی نشاندہی کی ہے۔

سکاٹ لینڈ کے شمال مغربی ساحل پر واقع جزیرہ گروئینارڈ وہ مقام ہے جہاں سنہ 1942 میں برطانوی فوج کے سائنسدانوں نے حیاتیاتی ہتھیاروں کا سب سے پہلا تجربہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

شمال مغربی سکاٹ لینڈ میں واقع جزیرہ گروئینارڈ

اس جزیرے پر 80 بھیڑوں کو لا کر چھوڑ دیا گیا اور اس کے بعد اینتھراکس سے بھرے بم چلائے گئے۔

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

جزیرہ گروئینارڈ میں نصب پرانے وارننگ بورڈ

اس جزیرے کو چار سال تک کیمیائی اور حیاتیاتی کثافتوں سے پاک کرنے کے بعد اپریل 1990 میں عوام کے لیے محفوظ قرار دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

جزیرہ گروئینارڈ اب بھی غیر آباد ہے

1950 کی دہائی میں کورنوال کے علاقے نینسکیوک میں واقع ’کیمیکل ڈیفنس اسٹیبلشمنٹ‘ برطانیہ میں اعصاب پر اثر انداز ہونے والی گیسوں کی پروڈکشن کا سب سے بڑا مرکز تھا۔

جب اس مرکز کو بند کیا گیا تو یہاں موجود آلودہ عمارتوں اور سامان کی باقیات کو یہاں کھودے گئے گہرے گڑھوں میں پھینک کر تلف کیا گیا تھا۔

اس مقام پر اب ایک فوجی ریڈار سٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

نینسکیوک سائٹ کے گرد خاردار باڑ لگائی گئی ہے

’آپریشن کولڈرون‘ سنہ 1952 میں جنگ میں استعمال ہونے والے حیاتیاتی ہتھیاروں کے سلسلہ وار تجربات پر مبنی تھا۔

رائل نیوی کے سائنسدانوں نے جزیرہ لوئس کے ساحل پر حیاتیاتی ایجنٹس چھوڑے تاکہ وہاں پنجروں میں قید 3500 بندروں اور سوروں پر ان کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس بڑے ٹیسٹ سے قبل ’سینڈاؤن بے‘ میں بہت سے چھوٹے چھوٹے فرضی تجربات کیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

سینڈاؤن بے پر موجود افراد

سنہ 1963 سے سنہ 1975 کے دوران ڈورسیٹ کے علاقے لائم بے پر بھی اس نوعیت کے تجربات کیے گئے تھے۔

اس خفیہ ٹیسٹنگ پروگرام کے تحت ایک کشتی سے زندہ اور مردہ بیکٹریا کا سپرے کیا گیا تھا۔

اس کے بعد ان بیکٹریاز کے پھیلاؤ کی نگرانی 60 خفیہ موبائل سائٹس پر کی گئی۔ ان سائٹس کو فرضی طور پر فضائی آلودگی اور موسم کی جانکاری کے لیے قائم سٹیشنز کا نام دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

لائم بے، ڈورسٹ

اگرچہ بین الاقوامی معاہدے کے تحت کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کو روک دیا گیا ہے لیکن ان کے استعمال کا خطرہ تاحال برقرار ہے۔

سنہ 2018 میں سابق روسی کرنل سرگی سکریپل اور ان کی بیٹی یولیا کو ایک ایجنٹ نووچوک نے زہر دے کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس کے بعد ڈان سٹروگس حادثاتی طور پر اپنے گھر میں ایک پرانی پرفیوم کی بوتل سے سپرے کرنے کے بعد ہلاک ہو گئی تھیں۔ پرفیوم کی یہ بوتل اس حملے میں استعمال کی گئی تھی۔

ایک اندازے کے مطابق 600 سے 800 خصوصی تربیت یافتہ فوجی جوانوں نے سکریپل کے گھر اور سالسبری کے آس پاس موجود دیگر مقامات کی جانچ پڑتال کرنے میں 13 ہزار گھنٹے صرف کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہDara McGrath

،تصویر کا کیپشن

سالسبری، ولٹ شائر

’پراجیکٹ کلین سوئیپ‘ نامی کتاب اس کے ناشر کیہرر ورلاگ کے پاس دستیاب ہے۔

تمام تصاویر کے جملہ حقوق دارا میک گراتھ کے پاس محفوظ ہیں۔