کورونا وائرس: بیماری کا شکار مریضوں میں ہلاکت کی شرح کتنی ہوتی ہے؟

چین. تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پچاس سے زیادہ ملکوں میں اب تصدیق شدہ مریض موجود ہیں

تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے ایک ہزار مریضوں میں سے مرنے والوں کی تعداد پانچ سے 40 کے درمیان ہے لیکن زیادہ درست اندازہ یہ ہے کہ یہ تعداد ایک ہزار میں نو ہے جو کہ لگ بھگ ایک فیصد بنتی ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکاک نے اتوار کو کہا تھا کہ برطانوی حکومت کا بہترین اندازہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ کر ہلاک ہونے والوں کی شرح دو فیصد یا اس سے بھی کم ہے۔

لیکن اس کا دار و مدار بہت سے دوسرے عناصر پر بھی ہے جس میں مریض کی عمر، اس کی عمومی صحت اور اس کو دستیاب صحت کی سہولیات شامل ہیں۔

کورونا وائرس کس چیز پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟

کورونا کے مریض دنیا میں کہاں کہاں ہیں؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

مرنے والوں کی شرح کا اندازہ کرنا کتنا مشکل ہے؟

یہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا پی ایچ ڈی کرنا۔ مریضوں کی گنتی کرنا بھی بہت پیچیدہ عمل ہے۔

زیادہ تر اقسام کے وائرس کا شکار لوگ، جن میں معتدل نوعیت کی علامات ہوتی ہیں، عام طور پر ڈاکٹروں سے رجوع نہیں کرتے اور اس طرح وہ کسی شمار میں ہی نہیں آتے۔

مختلف ملکوں میں مرنے والوں کی شرح جو رپورٹ کر جا رہی ہیں اور ہمارے علم میں آ رہی ہیں وہ مختلف ہونے کی بڑی وجہ وائرس کی مختلف اقسام نہیں ہو سکتیں۔

برطانیہ میں امپیریل کالج کے تحقیق کاروں کے مطابق اس کی وجہ مختلف ملکوں میں متعدل اور سنگین نوعیت کے کیسز کے بارے میں اعداد و شمار اکھٹا کرنے کی صلاحیت کا یکساں نہ ہونا ہے۔

لہذا مریضوں کی اصل تعداد کا علم نہ ہونے کی وجہ سے مرنے والوں کی شرح زیادہ یا کم ہو سکتی ہے۔

کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد مریض کے صحت یاب ہونے یا اس کی موت واقع ہونے میں وقت لگتا ہے۔

اگر آپ ان تمام مریضوں کا شمار کر لیں جو وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہونے یا اس سے ہلاک ہونے کے عمل سے گزر رہے ہیں تو اموات کی شرح کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے کیوں کہ آپ کو علم نہیں کہ کتنے مریض صحتیاب ہوں گے اور کتنے اس سے جانبر نہیں ہو سکیں گے.

طبی ماہرین ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے انفرادی کیسوں کے بارے میں دستیاب شواہد کا سہارا لے رہیں ہیں تاکہ اموات کی شرح کا مکمل خاکہ تیار کیا جا سکے۔

مثال کے طور پر لوگوں کے ایک مخصوص گروپ، جس کی کڑی نگرانی کی گئی ہو جیسا کہ فضائی مسافروں کی جاتی ہے، میں مریضوں کی شرح کا تعین کیا جائے۔

اس طرح حاصل کیے گئے نتائج جو مختلف شواہد سے اخذ کیے جاتے ہیں ان کی بنیاد پر ایک وسیع خاکہ تشکیل کرنا۔

اگر آپ صرف چین کے شہر ہوبائی کے اعداد و شمار دیکھیں جہاں اموات کی شرح چین کے دوسرے علاقوں سے سب سے زیادہ تھی تو مجموعی طور پر اموات کی شرح اور زیادہ تشویش ناک نظر آئے گی۔

لہذا سائنس دان ایک اندازہ ہی لگاتے ہیں۔

لیکن اس سے اموات کے بارے میں کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آتی۔

میرے جیسے لوگوں کے لیے کتنا خطرہ ہے؟

کچھ لوگوں کا اس وبا کا شکار ہونے کے بعد مرنے کا زیادہ امکان ہو سکتا ہے مثلاً عمر رسیدہ افراد، غیر صحت مند افراد اور شاید مرد۔

چین میں 44 ہزار مریضوں پر کیے جانے والے اب تک کے سب سے بڑے سروے میں عمر رسید افراد میں اموات کی شرح درمیانی عمر کے لوگوں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ تھی۔

اموات کی شرح 30 سال سے کم عمر افراد میں سب سے کم تھی۔ 30 سال سے کم عمر 45 سو مریضوں میں سے صرف آٹھ افراد کی موت واقع ہوئی۔

ذیابیطس، بلند فشار خون اور امراض دل میں مبتلا افراد میں مرنے والوں کی شرح عام لوگوں کے مقابلے میں پانچ گنا ذیادہ پائی گئی۔

عورتوں کے مقابلے میں مردوں میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔

ان تمام عناصر کا ایک دوسرے پر انحصار ہے جس کی وجہ سے حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ کون اور کس علاقے کے لوگوں کو زیادہ خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جاپان کے ایک مسافر بردار بحری جہاز پر چھ سے زیادہ لوگ اس وبا کا شکار ہوئے

جہاں میں رہتا ہوں وہاں لوگوں کو کیا خطرہ ہے؟

چین میں 80 برس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں خطرے کی نوعیت اسی عمر کے یورپ اور افریقہ میں بسنے والے لوگوں سے مختلف ہو گی۔

آپ کے مرض کی شدت اور اس کے ٹھیک کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ آپ کو کسی طرح کا علاج میسر آتا ہے۔

جس کا پھر دار ومدار اس بات پر ہے کہ کیا دستیاب ہے اور وبا کی نوعیت کتنی سنگین ہے۔

اگر وبا بہت سنگیں ہو جائے تو ہسپتالوں میں مریضوں کا رش ہو جائے گا جس کی وجہ سے وہاں موجود انتہائی نگہداشت کے وارڈ اور ’وینٹیلیٹر‘ کم پڑ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لندن میں کے ایک پسپتال میں اس وبا کا شکار مریضوں کے علاج کے انتظامات کیے گئےہیں

کیا یہ نزلے سے زیادہ خطرناک ہے؟

ہم اس کا موزانہ نہیں کر سکتے کیوں کہ اکثر نزلے زکام کا شکار لوگ ڈاکٹروں سے رجوع نہیں کرتے۔

لہذا ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ہر سال نزلے اور زکام کا شکار کتنے لوگ ہوتے اور کتنے کسی اور وائرس کی لپیٹ میں آتے ہیں۔

برطانیہ میں ہر موسم سرما کی طرح نزلہ اور زکام لوگوں کی اموات کا باعث بن رہا ہے۔

جب زیادہ درست اعداد و شمار دستیاب ہو جائیں گے تو ماہرین یہ پیش گوئی کرنے کے قابل ہو جائیں گے کہ اگر برطانیہ میں یہ وبا شدت اختیار کر لیتی ہے تو آپ کی زندگی کو کتنا خطرہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے عمومی ہدایت یہ ہی ہے کہ اگر آپ اپنے آپ کو ایسے جراثیم سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں جو نظام تنفس کی بیماری کا باعث بنتے ہیں تو آپ ہاتھ دھونے کی عادت اپنا لیں، چھیکنوں اور کھانسی کا شکار لوگوں سے دور رہیں اور اپنی آنکھوں، ناک اور منھ میں انگلیاں ڈالنے سے پرہیز کریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں