کورونا وائرس: کیا آپ کو اپنے بچوں کو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے دینا چاہیے؟

کورونا تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

جیسے جیسے پوری دنیا میں کورونا وائرس کے مزید پھیلنے کے خدشے کے پیش نظرسکول بند ہو رہے ہیں ویسے ویسے والدین کو اس طرح کے سوالات کا سامنا ہو رہا ہے کہ ان کے بچے گھر پر رہ کر کیا کریں اور کیا نہ کریں؟

کیا آپ کے بچے کو باہر جا کر اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا چاہیے؟ کیا سماجی دوری اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کے کھیلنے کا وقت ختم ہوگیا ہے اور اب انھیں صرف گھر پر رہنا ہے؟

اگر کیتھرین ولسن کا بس چلے اور وہ ماضی میں جا کر حالات بدل سکتی تو وہ اپنے پڑوسی کے گھر اس رات کے کھانے پر نہ جاتیں۔

دو ہفتے قبل جب اٹلی میں کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا اور حکومت نے تب تک لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد نہیں کی تھی تب دو نوعمر بچوں کی والدہ کیتھرین کو روم شہر میں ایک ڈنر پارٹی کا دعوت نامہ موصول ہوا تھا جس میں ان کے علاوہ دو اور خاندان مدعو تھے۔

کورونا وائرس: تحقیق، تشخیص اور احتیاط، بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

کورونا: دنیا میں کیا ہو رہا ہے، لائیو

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

کورونا وائرس: چہرے کو نہ چھونا اتنا مشکل کیوں؟

کیتھرین نے بی بی سی کو بتایا ’میں نے اور میرے خاوند نے سوچا کہ اس دعوت کا اہتمام ایک چھوٹے سے فیلٹ میں ہی تو ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بڑی محفل ہو۔‘

کیھترین ایک امریکی ادیب ہیں اور ان کی شادی اٹلی کے ایک شخص سے ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت بہت ساری ماؤں کو لگ رہا تھا کہ سکولوں کا بند ہونا ایک چھٹی کی طرح ہے۔

’ہمیں لگا، وہ اچھی بات ہے۔ یہ ایک ویکیشین کی طرح ہے۔ چلو اس پارک میں چلتے ہیں وہاں ہمارا کبھی جانا نہیں ہوتا۔‘

لیکن یہ دیکھ کر کہ ان کے ملک میں کس قدر تیزی سے یہ وائرس پھیلا ہے، ان کو احساس ہوا ہے کہ کاش انھوں نے زیادہ احتیاط برتی ہوتی اور اپنے خاندان کی نقل و حرکت کو محدود کر لیتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Katherine Wilson
Image caption کیتھرین ولسن اور ان کا خاندان

’وہاں جانا ایک احمقانہ فیصلہ تھا۔ لیکن دعوت نامے کو قبول نہ کرنا بھی ایک سخت نوعیت کا فیصلہ ہوتا۔‘

کچھ روز بعد اٹلی کی حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا جس کا مطلب تھا کہ پارک جانے اور بچوں کے ان کے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے مخصوص اوقات پر بھی پابندی۔

کیھترین کا مزید کہنا تھا ’ایک طرح سے مکمل لاک ڈاؤن زیادہ آسان ہے۔ آپ کو کم سے کم اس طرح کے فیصلے نہیں کرنے پڑتے جس پر آپ کے بچے اور دوست و احباب سوالات اٹھائیں۔‘

’لوگ دونوں طرح کے لوگوں کے بارے میں رائے اختیار کر رہے تھے، ان کے بارے میں بھی جو بہت محتاط تھے اور ان کے بارے میں بھی جو صورتحال کی سنجیدگی کو نہیں سمجھ رہے تھے۔‘

کیھترین کی طرح پوری دنیا میں والدین تجسس کے شکار ہیں کہ ان کے بچوں کے لیے کھیلنے کودنے اور لوگوں سے ملاقات کے کیا ضوابط ہوں؟

ہوسکتا ہے کہ بعض حکومتیں لوگوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی نہ عائد کریں لیکن طبی حکام کا کہنا ہے کہ سوشل ڈسٹینسنگ یا سماجی دوری اختیار کرنا اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بے حد اہم ہے۔

کیا ٹینس کھیلنا صحیح ہے؟ مقامی پلے گراؤنڈ جانا صحیح ہے؟ دوست کے گھر کھیلنے کے لیے جانا صحیح ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کی جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے ’بلومبرگ سکول آف پبلک ہیلتھ‘ میں وبائی امراض کی ماہر پروفیسر کیری ایلتھوف کا کہنا ہے کہ سماجی دوری سب کے لیے اہم ہے، چاہے وہ بچے ہوں یا جوان۔ ان کا کہنا ہے کہ سب کے لیے ایک دوسرے سے کم از کم چھ فٹ (دو میٹر) کی دوری اختیار کرنا اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ باسکٹ بال اور فٹ بال جیسے کھیلوں سے گریز کیا جائے۔

حالانکہ بعض ایسے کھیل ہیں جو بچے آپس میں کھیل سکتے ہیں جیسے ٹینس یا چھپن چھپائی، لیکن بچوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ کھیل کے دوران ان ضوابط کا خیال رکھیں گے، ایک بڑی بات ہے۔

’کھیل کے دوران کوئی کسی سے دوری نہیں رکھ پاتا، کھیل کے میدان کا مقصد بھی یہ نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے شواہد موجود ہیں کہ یہ وائرس چيزوں کی سطحوں پر کئی دن تک موجود رہ سکتا ہے تو بہتر یہی ہے کہ کھیل کے میدان اور کھیلوں کے آلات کو چھونے سے گریز کریں۔

حالانکہ بچوں میں کورونا وائرس کے معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں لیکن وہ اس وائرس کو دوسرے لوگوں میں ضرور منتقل کرسکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا بچہ اور اس کے دوست بظاہر بالکل صحت مند نظر آسکتے ہیں لیکن وہ پھر بھی اپنے ارد گرد موجود لوگوں میں یہ وائرس پھیلا سکتے ہیں۔

پروفیسر ایلتھوف کا کہنا ہے کہ ’فی الوقت والدین کو بھی اپنا بہت خیال رکھنا ہوگا۔‘

اریڈینے لیبس نامی لیبارٹری میں وبائی امراض کی ماہر ڈاکٹر کیتھرین سیمراؤ کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتوں کو عوام کے سامنے سماجی دوری ایک واضح تعریف پیش کرنی ہوگی۔

’ہم آج جو اقدامات کریں گے ان کا اثر آئندہ دو، تین اور چار ہفتوں میں واضح ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈاکٹر کیھترین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے علاقے میں مکمل لاک ڈاؤن نہیں بھی ہے، جیسا کہ اٹلی میں نہیں تھا تو اب وہ وقت ہے جب آپ خود سے یہ فیصلہ کریں کہ آپ کو کم سے کم وقت کے لیے کم سے کم مقامات پر جانا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مستقبل کے لیے والدین کو بچوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے بارے میں حکمت عملی بنانی ہوگی اور بچوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس طرح کی صورتحال کا سامنا کیسے کیا جائے۔

’کسی بھی خاندان کے لیے سب سے پریشان کن بات یہ ہوگی کہ وہ ایسی صورتحال کا سامنا کریں جس کے لیے وہ تیار نہیں تھے اس لیے والدین کو مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ سماجی دوری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ لوگوں کے رابطے میں نہ رہیں بلکہ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے دوست اور رشتہ داروں سے مستقبل رابطہ برقرار رکھیں لیکن انٹرنیٹ کے ذریعے۔

'سوشل ڈسٹینسنگ' یا سماجی دوری کے ساتھ زندگی کا لطف کیسے لیں؟

چھٹیوں کے دوران بچوں کے لیے محفوظ مصروفیات کے بارے میں اپنے مقامی محکمہ صحت کی جانب سے جاری کی گئی ضوابط پر عمل کریں۔

کھیل کے میدانوں، کھلونوں کی دوکان اور پارک میں پلے ایریاز میں نصب آلات کو چھونے سے گریز کریں۔

گھر سے باہر نکلیں۔ پارک میں چہل قدمی کریں، سائیکل کی سواری کریں اور ایسے کام کریں جس سے آپ کے تجربات میں اضافہ ہو۔

انٹرنیٹ پر اپنے دوستوں اور خاندان والوں سے رابطے میں رہیں۔ بچوں کو تخلیقی کاموں میں مصروف کریں جیسے مصوری اور دستکاری۔

بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کے دوران جب بچے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں تو انھیں گھر کے کاموں جیسے صفائی، کھانا پکانا اور بیکنگ میں اپنے ساتھ شریک رکھیں۔

یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے اونٹاریو انسٹی ٹیوٹ فار سٹڈیز آف ایجوکیشن کی پروفیسر انگیلا پائیل کا کہنا ہے کہ بچوں کو ان کی تخیل کا استعمال کرنے دیں اور ان کو کسی ٹائم ٹیبل کا محتاج نہ رکھیں، ان کو فراغت کا وقت دیں تاکہ وہ گھٹن محسوس نہ کریں۔

’اکثر بچوں کو افسانوی کھیل کھیلنے کا شوق ہوتا ہے۔ وہ اپنے کھلونوں، گڑیوں اور جانوروں کے ساتھ الگ الگ طرح کے منظرنامے بناتے ہیں اور اس طرح کے کھیل فیس ٹائم ایپ کے ذریعے بھی کھیلے جاسکتے ہیں۔‘

پرفیسر پائیل کو اپنی سات سالہ بیٹی کو محظوظ رکھنے کے لیے خود اس طرح کے متبادل سوچنے پڑے تھے کیونکہ ٹورونٹو میں وہ جہاں رہتی ہیں، وہاں بھی حکومت سماجی دوری قائم رکھنے کا مشورہ دے رہی ہے اور سکول اور ڈے کیئر سینٹر بند ہیں۔

’ہم گھر پر کھیلتے ہیں، اپنے محلے میں چہل قدمی کرنے جاتے ہیں، سائیکل اور سکوٹر چلاتے ہیں۔ کوئی بھی ایسی چيز جو ہمیں پارک جانے کے بجائے گھر سے باہر لے جائے، تو پھر وہ سکوٹر کی سواری ہو یا پھر سائیکل کی سواری۔ پارک میں بہت زیادہ لوگ جمع ہوجاتے ہیں جو کہ بہت محفوظ نہیں ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں