کابل میں افغان رہنماؤں سے مذاکرات میں ناکامی کے بعد امریکہ کا افغانستان کے لیے امداد میں کمی کا اعلان

افعان رہنما تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کابل میں افغان رہنماؤں کے درمیان حکومت بنانے پر اتفاق رائے پیدا نہ ہونے کے بعد امریکہ نے افغانستان کو دی جانے والی امداد میں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افغان رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد سوموار کو امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغانستان کی مالی امداد میں ایک بلین ڈالر تک کمی کا اعلان کیا۔

مائیک پومپیو کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو اس بات پر شدید افسوس ہے کہ افغان رہنما: اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کابل میں حکومت سازی پر اتفاق رائے پیدا نہ کر سکے۔

یہ بھی پڑھیے

’ایک ملک، دو صدور‘: افغانستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟

امریکہ نے افغانستان سے فوج کا انخلا شروع کر دیا

افغان صدر اشرف غنی کی طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری

امریکہ افغان رہنماؤں سے کس بات پر خفا ہے

مائیک پومپیو کے مطابق ان کی اس ناکامی سے جہاں امریکہ اور افغانستان کے باہمی تعلقات کو نقصان پہنچا ہے، وہیں اس سے ان افغان، امریکیوں اور اتحادیوں کی بھی بے توقیری ہوئی جنھوں نے افغانستان کے لیے جانی اور مالی قربانیاں دیں ہیں۔

واشنگٹن کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر خارجہ مائیک پومپیو افغان رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد کابل سے واپس امریکہ پہنچے۔ ان مذاکرات میں طالبان سے کیے گئے امن معاہدے پر بھی عملدرآمد شامل تھا، جس کے تحت افغان حکومت نے طالبان قیدیوں کی رہائی ممکن بنانی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مائیک پومپیو کے دورے کے دوران قیدیوں کے رہائی سے متعلق افغان طالبان نے دوحہ سے ویڈیو لنک کے زریعے مذاکرات میں حصہ لیا۔

خیال رہے کہ امریکہ نے طالبان سے افغان امن معاہدے کے تحت افغانستان سے فوج کا انخلاء شروع کر دیا ہے جس کا مقصد ملک میں امن قائم کرنا ہے۔

امریکہ نے معاہدے کے تحت، 135 دن کے اندر افغانستان میں اپنی فوج کو 12 ہزار سے کم کرکے 8600 کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ افغانستان سے امریکی فوجیوں کو واپس بھیجنا امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو ہونے والے تاریخی امن معاہدے کی ایک شرط تھی۔

مائیک پومپیو امن معاہدے کے معترف

امریکہ نے صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ میں حکومت سازی پر عدم اتفاق کو امن کوششوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

تاہم مائیک پومپیو نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ میں طالبان کے ساتھ کیے گئے امن معاہدے کے بعد امریکہ میں کافی حد تک امن قائم ہوا ہے اور اس دوران امریکی افواج پر حملے بھی نہیں ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اپنے حالیہ دورہ کابل سے واپسی کے بعد مائیک پومپیو نے واشنگٹن جاتے ہوئے دوحہ میں 75 منٹ کا قیام کیا اور اس دوران افغان طالبان کے اہم مذاکرات کار ملا برادر اخوند سمیت دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔

خیال رہے کہ انتخابی نتائج پر تنازعے کے بعد افغانستان میں مختلف جماعتوں کا حکومت بنانے پراتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا، جس کے بعد اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے افغانستان کے صدر کے طور پر علیحدہ علیحدہ منقعد کردہ تقریبات میں حلف اٹھایا۔

امریکہ نے اپنے نمائندے کے زریعے صدر اشرف غنی کی تقریب حلف برادری میں حصہ لیا تھا۔

اتفاق رائے کی صورت میں امریکہ فیصلہ واپس لے سکتا ہے

مائیک پومپیو نے بتایا کہ اگر افغان رہنما آپس میں اتفاق رائے پیدا کر لیتے ہیں تو پھر ایسی صورت میں امریکہ مالی امداد کم کرنے سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔

اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں امریکہ اگلے سال 2021 کے لیے بھی دی جانے والے امداد میں سے بھی مزید ایک ارب ڈالر کی کمی کردے گا۔ مائیک پومپیو کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ افغانستان کے لیے مالی امداد سے متعلق کیے گئے وعدوں اور کانفرنسز پر بھی نظرثانی کرے گا۔

امریکہ نے کورونا وائرس کے شدید خطرے کے باوجود امداد میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں