کورونا وائرس: مشکل وقت میں خوش رہنے کے چند کارگر نسخے

خوشی کے نسخے تصویر کے کاپی رائٹ getty images

کورونا وائرس کے عالمی وبا میں تبدیل ہونے کے ساتھ ہی دنیا بھر میں بہت بڑی آبادی گھروں تک محدود رہنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ سرحدیں بند ہیں اور عالمی معیشت مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ ایسے میں بے چینی، مستقبل کی فکر اور پریشانی کا احساس کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔

تاہم چند نسخے ایسے ہیں جو ان حالات میں بھی آپ کا حوصلہ بلند رکھ سکتے ہیں اور آپ کو خوش رہنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

جذبات کی سائنس کو سمجھنا آسان کام نہیں ہے اور اس بارے میں کافی تحقیق کی گئی ہے۔ گذشتہ برسوں میں بی بی سی نے درجنوں ماہر نفسیات کے انٹرویوز کیے۔ انھوں نے ہمارے ساتھ ایسے نسخے شیئر کیے جن کی مدد سے ذہنی تناؤ کے مسئلے سے نمٹنا آسان ہو سکتا ہے۔

دھیان بٹائیے

کوئی ایسا موضوع جو آپ کو تشویش میں مبتلا کر رہا ہو اس پر بار بار بات کرنا ایک قدرتی عمل ہے۔ چاہے وہ کورونا وائرس ہو، ماحولیاتی تبدیلی یا کوئی اور بات۔

ایسے میں جو نسخہ کام آ سکتا ہے وہ ہے خود کو اور اہنے ساتھیوں کو ایسی گفتگو سے دور رکھنا۔ اپنا اور ان کا دھیان بٹانے کی کوشش کیجیے۔ ایسا کرنے سے فشار خون ٹھیک رہتا ہے اور ذہن کو راحت ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

خوش رہنے کے پانچ طریقے

نفرت اور غصہ بھی خوشی کا ایک ذریعہ

صرف 10 منٹ کی مشق خوشی میں اضافے کی ضامن!

ضروری نہیں مراقبہ ہر کسی کے لیے اچھا ہو

ذہنی دباؤ کے اس دور میں ہو سکتا ہے بہت سے لوگوں کے لیے مراقبہ مددگار ثابت ہو۔ لیکن یہ ہر کسی کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔

کچھ لوگ خاموشی اختیار کرتے ہی غور و فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ذہن کو پرسکون کرنے کے عمل میں گہری سوچ میں پڑ جانا قدرتی بات ہے۔ ایسے افراد کو مراقبے کے بجائے کسی اور کام سے دھیان بٹانا چاہیے۔

حالات پر نظرِ ثانی

تصویر کے کاپی رائٹ getty images

ہم کیسا محسوس کر رہے ہیں اس بات کا براہ راست تعلق ہمارے حالات کے حوالے سے ہماری سوچ پر منحصر ہے۔ مقبول مصنف ڈیرن براؤن اپنی کتاب ’ہیپی‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹینس کے ایک کھلاڑی کی مثال دیتے ہیں۔

کھلاڑی میدان میں یہ سوچتے ہوئے جاتا ہے کہ ’مجھے جیتنا ہے۔’ اگر وہ میچ کا آغاز ہی اسی خیال کے ساتھ کرتا ہے کہ جیتنا ہی سب کچھ ہے تو ایسے میں ہار جانے کو ایک مکمل ناکامی سمجھنے لگتا ہے۔

یہ ایک ایسا جال ہے جس میں ایسے لوگ باآسانی پھنس جاتے ہیں جنھیں ہر کام کو بہترین طریقے سے سر انجام دینا پسند ہے۔ ایسے افراد ناکامی کی صورت میں زیادہ غصے، احساس ندامت اور شرمندگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔

جو کھلاڑی میدان میں یہ سوچ کر اترتا ہے کہ وہ ’اپنی طرف سے بہترین کھیلے گا’ وہ شکست سے کم متاثر ہوتا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کے لیے شکست کا احساس اور تکلیف مختلف ہوتی ہے۔

ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ یہ نسخہ ہم اپنے آپ پر کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔ نتائج پر غور کرنے کے بجائے ذہنی دباؤ کی صورت میں خود کو حالات کے مطابق ڈھال لینا اور خود سے جائز توقعات رکھنا ہی بہترین راستہ ہے۔

جن نتائج پر آپ کا کنٹرول نہیں ان سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ دباؤ کی صورت ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ اس پر قابو پانے کی کوشش میں ہم کئی بار خود پر زیادتی کر جاتے ہیں۔

خود کو زبردستی خوش رہنے پر مجبور نہ کریں

خوش رہنے کے لیے اہنے ساتھ زبردستی کرنے کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔

ہم اپنی خوشی پر جتنا زیادہ دھیان دیں گے اتنا ہی کم دھیان ہمارے ساتھ رہنے والوں کی خوشی پر ہو گا۔ ایسا کرنے سے تنہائی آپ کو اپنی گرفت میں لے سکتی ہے۔ دوسروں سے الگ تھلگ پڑ جانا آپ کو ڈپریشن میں دھکیل سکتا ہے۔ خوشی کی تلاش کرنا اور یہ محسوس کرنا کہ وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے ایک قدرتی عمل ہے۔

اور ویسے بھی اگر آپ خود کو خوش رہنے کے لیے مجبور کریں گے اور پھر بھی خوش نہ ہوئے تو ناکامی کا احساس مایوسی اور دکھ کا باعث بن سکتا ہے۔

چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے بارے میں سوچیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اپنا موڈ اچھا کرنے کے لیے ایسی باتوں کے بارے میں سوچیے جو آپ کو خوشی دیتی ہیں۔ سینٹرل لنکاشائر یونیورسٹی میں لیکچرار اور مصنفہ سینڈی مان نے اپنی کتاب ’ٹین منٹز ٹو ہیپینیس’ میں اپنا دن بھر کا حساب کتاب رکھنے کے بارے میں لکھا ہے۔

ان کی سٹریٹجی ’مثبت نفسیات’ پر مبنی ہے۔ اس کے تحت ہم اپنے دن بھر کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے بارے میں سوچ کر اپنا موڈ اچھا رکھ سکتے ہیں۔

مان کے مطابق مندرجہ ذیل چھ سوالات پر ہر روز صرف دس منٹ خرچ کر کے آپ خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔

  1. کن تجربات نے آپ کو خوشی دی؟
  2. آپ سے اس بارے میں کیا کہا گیا؟
  3. کن لمحات میں آپ کو لگا کہ آپ خوش قسمت ہیں؟
  4. چھوٹے یا بڑے، کن تجربات کو آپ اپنی کامیابی سمجھتے ہیں؟
  5. آپ کن چیزوں کے لیے شکرگزار محسوس کرتے ہیں؟
  6. آپ نے کس طرح کسی کے لیے ہمدردی کا احساس ظاہر کیا؟

جب ہم ان باتوں کے بارے میں لکھتے ہیں تو ہمیں وہ تمام باتیں ایک ساتھ یاد آتی ہیں جو ہمیں خوشی دیتی ہیں۔

صفائی رکھیں

اگر آپ قرنطینہ میں ہیں تو اس وقت کا استعمال اپنے گھر کو صاف کرنے کے لیے کیجیے۔ گھر کو ترتیب میں لانے کے بہت سے فوائد ہیں۔

گھر بکھرا ہو تو کسی کام پر توجہ دینا مشکل ہوتا ہے۔ اگر آپ گھر سے کام کر رہے ہوں تو آپ کا صاف ستھرا ماحول کام کو جلد ختم کرنے میں نفسیاتی طور پر مدد کرتا ہے۔ جس طرح بکھری ہوئی خواب گاہ میں نیند آنا مشکل ہوتا ہے اسی طرح صاف ماحول کا تعلق کام پر توجہ دینے سے منسلک ہے۔

حالانکہ ضروری نہیں کہ ہر شخص کو صاف ماحول میں رہنا یا کام کرنا پسند ہو۔ بہت سے لوگ تب آرام کا احساس کرتے ہیں جب ان کے ارد گرد بہت سا سامان ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا کے استعمال میں توازن برتیے

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

سوشل میڈیا پر اچھی اور بری تمام طرح کی خبریں ہر وقت دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ دنیا بھر کی تازہ ترین معلومات کی جگہ بھی ہے۔

کوشش کیجیے کہ آپ اپنے فون کو خواب گاہ میں ساتھ نہ لے جائیں۔ اس کے علاوہ اپنے لیے طے کیجیے کہ دن بھر میں آپ کو کل کتنا وقت سوشل میڈیا پر صرف کرنا ہے۔ اس طرح آپ سوشل میڈیا پر موجود متعدد منفی خیالات سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔

شہر سے باہر چلے جائیے

اگر آپ کسی بہت مصروف شہر میں رہتے ہیں تو کوشش کیجیے کہ کچھ دن بھیڑ سے دور رہ سکیں۔ آپ کہیں شہر سے باہر بھی جا سکتے ہیں۔ لیکن ایسا تبھی کریں جب آپ کو یقین ہو کہ شہر سے باہر آپ سوشل ڈسٹینسنگ یعنی لوگوں سے دوری قائم رکھنے میں کامیاب رہ سکیں گے۔

شہروں میں رہنے والے افراد میں دیہی علاقوں کے مقابلے میں موڈ کے زیادہ مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کھلا آسمان اور صاف پانی موڈ کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہریالی بھی موڈ کو تازگی بخشتی ہے۔

تو اگلی بار جب آپ کو موجودہ صورت حال پر جھنجھلاہٹ، غصے یا دکھ کا احساس پریشان کرے تو ان نسخوں پر غور کریں۔ یاد رکھیں کہ ہم جیسا محسوس کرتے ہیں اس میں ہمارا اپنا بہت بڑا کردار شامل ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں