کورونا وائرس: امریکہ میں سب اچھے کی خبر تھی پھر سب بدل گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چار فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سٹیٹ آف دی یونیں خطاب میں کہا کہ ’نوکریاں عروج پر ہیں، آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے، غربت میں تیزی سے کمی آرہی ہے، جرائم کی شرح کم ہو رہی ہے، اعتماد بڑھ رہا ہے اور ہمارا ملک ترقی کر رہا ہے۔‘

ٹرمپ 21.44 ٹریلین ڈالر کی زوردار امریکی معیشت کے بارے میں پر جوش تھے۔ یاد رہے کہ چین کی جی ڈی پی 14.4 ٹریلین ڈالر، انڈیا کی دو اعشاریہ آٹھ ٹریلین اور پاکستان کی 320 بلین ڈالر ہے۔

لیکن یہ وہ دور تھا جب رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ چین میں پہلے ہی کورونا وائرس سے ہزاروں افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے اور کئی ہزار لوگ اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اس وقت تک امریکہ میں اس بحران کے سنگین اثرات نمودار ہونا شروع نہیں ہوئے تھے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی حصص بازار میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا اور ڈو جونز پہلی مرتبہ 29 ہزار سے اوپر کی سطح تک گیا۔

بے روزگاری کی شرح تقریباً تین اعشاریہ چھ فیصد کے لگ بھگ رہی جو کہ 50 سال کی کم ترین سطح ہے۔ امریکہ نے چین کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا جس میں 200 بلین ڈالر کی خریداری اور کاپی رائٹ کے قواعد کو مستحکم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے:

کورونا وائرس کا خوف امریکہ کو کیسے متاثر کر رہا ہے

کورونا وائرس نے امریکہ کو کیسے بے نقاب کیا؟

کورونا وائرس: چہرے کو نہ چھونا اتنا مشکل کیوں؟

جنوبی کوریا کے پادری کی کورونا وائرس پھیلانے پر معافی

ڈیڑھ ماہ بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی

امریکہ میں کورونا وائرس سے تقریباً سات سو افراد کے ہلاک ہونے اور 53 ہزار افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

کاروبار، سکول، کھیلوں کے مقابلے سمیت سب کام بند ہیں اور تمام معاشی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔ ویران سڑکیں، مال، خالی پروازیں اور ٹرینیں تیزی سے خوفناک حقیقت کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ ’معیشت ڈوب رہی ہے‘، ’معیشت کا پرسان حال نہیں‘ جیسے جملے گردش میں ہیں۔

سرمایہ کار رے ڈیل یو نے سی این بی سی کو دیے گیے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے ویسا زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا، اس وقت ہم ایک بحران سے گزر رہے ہیں۔‘ امریکہ وہ ملک ہے جہاں دو ہزار سترہ میں جاب سائٹ کیریئر بلڈر کے مطابق 78 فیصد لوگ ایک نتخواہ سے دوسری تنخواہ کے درمیان مشکل سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ چار میں سے ایک کام کرنے والا شخص ہر ماہ کوئی بچت نہیں کر پاتا۔ سروے کے مطابق چار میں سے تین ورکر قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں،اور تقریباً آدھے کام کرنے والوں کو ایک سے زیادہ نوکری کرنا پڑتی ہے۔

لیکن اگر آپ بڑے بینکوں اور اداروں کی پیشینگوئیوں پر نظر دوڑائیں تو ممکنہ اثرات سنگین نطر آتے ہیں۔

گولڈمین سیکس کے ماہرین معاشیات نے مندی کی پیشینگوئی کی ہے جس میں پہلی سہ ماہی میں چوبیس فیصد جبکہ دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی چھ فیصد نیچے کی جانب جائے گی۔ یہ حیرت انگیز اعداد و شمار ہیں۔

بینکنگ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ سمجھے جانے والے جے پی مورگن کے تجزیے کے مطابق امریکہ کی معیشت ’پہلی سہ ماہی میں چار فیصد، دوسری سہ ماہی میں چودہ فیصد جبکہ تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں آٹھ اور چار فیصد تک جانے کی امید ہے۔‘

جے پی مورگن کے چیف ماہر اقتصادیات مائکل فیرولی کی مارچ میں کی جانے والے تئیسویں رپورٹ کے مطابق امریکہ کے ابتدائی بے روزگاری کے دعوے آنے والے ہفتوں میں چالیس ہزار سے زیادہ ہوجائیں گے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم سرکاری طور پر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ معیشت کساد بازاری کی لپیٹ میں آگئی ہے اور باقی دنیا کے ساتھ پیش آنے والے اتار چڑھاؤ کا حصہ بن گئی ہے۔‘

بینک آف امریکہ کے امریکی ماہر اقتصادیات میشیل میئر کہتے ہیں کہ نوکریاں، دولت اوراعتماد سب ختم ہو جائے گا۔

فرم کا خیال ہے کہ معیشت دوسری سہ ماہی میں بری طرح گِر جائے گی اور جی ڈی پی سکڑ کر بارہ فیصد تک آ جائے گی اور پورا سال صفر اعشاریہ آٹھ فیصد پر رہے گی۔

اگرچہ ماہرین معاشیات سخت دور کے بعد ایک بہتر صورتحال کی امید لگائے ہویے ہیں، پھر بھی یقینی طور پر کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ دور کب تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔

سوئس انوسٹمنٹ بنک اور فنانشل سروسز کمپنی کے یو بی ایس نے دو ہزار بیس کی دوسری سہ ماہی میں امریکی معیشت کو دھچکے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے سال کے پہلے چھ ماہ میں کسادبازاری کا امکان ظاہر کیا ہے۔ سوئس بینکنگ والوں کا مزید کہنا ہے کہ پہلی سہ ماہی میں امریکہ کی معیشت کی ترقی میں منفی دو اعشاریہ ایک فیصد کمی دیکھنے کو ملے گی،جبکہ دس فیصد کی کمی اگلی سہ ماہی میں متوقع ہے اور یہ گراوٹ نوکریوں میں تیزی سے کمی کا باعث بنے گی۔

بنک آف امریکہ کو خدشہ ہے کہ ملک میں بے روز گاری کا تناسب دو گنا بڑھ جائے گا، جس کے بعد تقریباً ہر ماہ ایک میلن نوکریاں ختم ہو جایئں گی۔

تجزیہ کرنے والی فرم آکسفرز اکنامکس کے اندازے کے مطابق آمد و رفت میں کمی کے باعث چار اعشاریہ چھ ملین نوکریاں صرف دو ہزار بیس میں نیچے آئیں گی۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں سفری معاملات میں تین سو پچپن بلین ڈالر کی کمی کے بعد معیشت پر آٹھ سو نو بلین ڈالر کا نقصان پہنچے گا جو کہ نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے چھ گنا زیادہ ہو گا۔"

امریکہ کی لیبر یونین یونائٹ ہیئر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’خدشہ ہے کہ ہمارے تیس ہزار ممبران میں سے اسی سے نوے فیصد افراد جو مہمان نوازی کی انڈسٹری سے وابستہ، کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے باعث غیر معینہ مدت کے لیے بے کار ہو جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ میں بھی کورونا وائرس کی وباہ پھیلنے کے بعد پابندیوں کی شروعات ہوئی تو لوگوں نے بڑی تعداد میں مارکیٹوں کا رخ کیا(فائل فوٹو)

ائیرلائن انڈسری ٹریڈ آرگنائزیشن، ائرلائنز فار امریکہ نے ریبپلکنز اور ڈیموکرٹس دونوں جماعتوں کو ایک خط لکھا ہے جس میں کانگریس سے یہ گزارش کی گئی ہے کہ وہ سات لاکھ پچاس ہزار نوکریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک فنانشل پیکج کو پاس کرے۔

تازہ ترین اطلاع کے مطابق امریکہ میں لاونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان 2 ٹریلین ڈالر کے امدادی اقتصادی پیکج پر معاہدہ ہو گیا ہے۔ اسے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ کہا جا رہا ہے۔

اس معاہدے کے تحت جوڑوں، خاندانوں اور تنہا افراد کو براہ راست فوائد پہنچیں گے اور اس کے ساتھ کاروبار، صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں اور دیگر کئی شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو فائدہ ہو گا۔

لیکن واضح بات یہ ہے کہ غریب، بے گھر، کم آمدنی والے افراد کے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہیں انثسورنس کا تحفظ بھی حاصل نہیں۔ ان افراد کے لیے علاج معالجے کی سہولیات ان کی پہنچ سے دور ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ستائس اعشاریہ پانچ ملین لوگ جو کہ کل آبادی کا آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد بنتے ہیں، ہیلتھ انثسورنس سے محروم ہیں۔ایسی صورتحال میں نسل، صنف اور امیگریشن کے ذریعے کمزوریوں کی نشاندہی زیادہ واضح طور پر ہو رہی ہیں۔

کورونا وائرس کے اثرات سے متعلق شائع ہونے والی ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق ’تقریباً چالیس اعشاریہ چھ ملین لوگ غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں، جن کے پاس خود کو برے وقت میں سہارا دینے کے لیے کوئی بچت بھی موجود نہیں ہے۔‘

امریکہ میں معاشی عدم مساوات کا تعلق نسلی تفریق اور آمدن سے ہے۔ تقریباً اکیس فیصد سیاہ فارم اور اٹھارہ فیصد لاطینی نسل کے لوگ آٹھ فیصد گورے لوگوں کے مقابلے میں غربت کی لکیر کےنیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کو ایسا دشمن قرار دیا ہے جو دکھائی نہیں دیتا۔ اپنے انتخابی سال میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ شاید ایسٹر سنڈے بارہ اپریل تک ان کا ملک ایک بار پھر اسی حالت میں واپس آ جائے گا جیسا پہلے تھا۔

معیشت اور ملازمتوں پر پائے جانے والے کمزور اثرات پر غور کرتے ہوئے بہت سے افراد پابندیوں میں نرمی لانے اور نوجوانوں سے کام شروع کرنے کی اجازت دینے کے حق میں بات کر رہے ہیں۔

زیادہ تر بزرگ افراد اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن اموات اور تصدیق شدہ کورونا کیسز کی تعداد کے ساتھ جو تیزی سے بڑھ رہی ہے، یہ اتنا آسان کام نہیں ہوگا۔ کچھ حلقوں میں ایک احساس موجود ہے کہ آنے والے مسائل کے مکمل اثرات کو ابھی تک محسوس نہیں کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں