خشک سالی: برطانیہ کے علاقے ویلز میں قدیم رومی دور کے قلعوں اور سڑکوں کا انکشاف

  • جارج ہرڈ
  • بی بی سی نیوز
ویلز

،تصویر کا ذریعہCROWN COPYRIGHT

،تصویر کا کیپشن

سنہ 2018 کی خشک سالی نے قدیم روم اور ویلز میں ٹراسکوڈ کی عمارت سمیت کئی ایک قلعوں اور کھنڈرات کا انکشاف کیا

سنہ 2018 کی گرمی کی لہر اور خشک سالی کے بعد ایک فضائی جائزے میں برطانیہ کے علاقے ویلز میں قدیم روم کے زمانے کے قلعے، سڑکوں، فوجی چھاؤنیوں اور دیہات کا انکشاف ہوا ہے۔

اس خشک سالی کے دوران جلی ہوئی فصلوں والے میدانوں کے فضائی جائزے سے تقریباً 200 ایسی جگہوں کا انکشاف ہوا جہاں کھنڈرات کے آثار نظر آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم رومانوی کھنڈرات کے آثار سے یہ معمہ حل کرنے میں مدد ملے گی کہ ویلز کو دو ہزار برس پہلے روم نے کیسے فتح کیا۔

ایک محقق ٹوبی ڈرائیور نے کہا کہ ان دریافتوں سے ہمیں ’رومیوں کے بارے میں جو کچھ بھی اس وقت معلوم تھا وہ سب اب الٹ ثابت ہو سکتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

رائل کمیشن آن اینشینٹ اینڈ ہِسٹاریکل مانیومنٹس آف ویلز کے فضائی محققین نے کہا کہ ’بریٹانیہ‘ نامی تحقیقی میگیزین کے مطابق ’رومی فوج ویلز کے دیہی علاقوں تک بھی پہنچی تھی۔‘

ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ مونموتھ شہر میں کائروینٹ نامی مقام پر روم کی فوج کے عارضی قیام کے کیمپ کے آثار ملے ہیں۔

’فوج کے عارضی قیام کے کیمپ واقعی بہت دلچسپ ہیں۔ یہ رات بھر کے قیام کے لیے کیمپ ہوتے تھے جو رومیوں نے ایک دشمن علاقے میں فوجی نقل و حرکت کے لیے تعمیر کیے ہوئے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہCROWN COPYRIGHT

،تصویر کا کیپشن

ویلز میں وادئِ گوینٹ کے قصبے کیرو ہِل نامی قلعے کے کھنڈرات دریافت کیے گئے ہیں جن کا شاید کائرلیون لیجینری قلعے سے تعلق بنتا ہے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس جگہ غالباً دفاعی دستوں کے رات بھر کے قیام کی جگہیں اور کھانے پکانے کے لیے تندور جیسی جگہیں موجود تھیں۔

محقق ڈاکٹر ڈرائیور کہتے ہیں کہ 'یہ وہ زمانہ ہے جب ویلز روم کی فوج کے لیے ایک خطرناک خطہ تھا، ان پر اس دور میں بھی حملے ہوتے رہتے تھے۔‘

ماہرین کا خیال ہے کہ جنوب مشرقی ویلز کے ’اسک‘ کے علاقے سے لے کر ’کائرلیون‘ تک کے پورے خطے میں اس طرح کے کیمپ بنائے گئے ہوں گے کیونکہ یہاں رومی فوج نے ’سیلٹِک‘ قبائل، خاص کر جنوب میں ’سیلورس‘ قبیلے، کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے 20 برس تک فوجی کاروائی جاری رکھی۔

لیکن جب یہ فوجی کارروائی ختم ہو گئی تو پھر ان علاقوں کو پھر سے ’فوراً زیرِ کاشت لے آئے تھے۔‘

ڈاکٹر ڈرائیور کہتے ہیں ’جنوب مشرقی ویلز میں ہم یہ تیسرا عارضی قیام کا کیمپ دریافت کر پائے ہیں۔ یہاں ایسے کئی اور کیمپ ہوں گہ جو یہاں فوج کی نقل و حرکت کو ظاہر کریں گے۔ اس علاقے میں بڑی رہ زروں کے علم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ویلز کو کنٹرول کرنے کے لیے انھیں استعمال کرتے تھے۔‘

فضائی جائزے کے ذریعے لی گئی تصویروں سے کم از کم تین نئے قلعوں کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ ان میں پہلا ویلز میں رومی قصبے ’کئیروینٹ‘ کے مغرب میں وادی ویل میں ’قلعہ کیرو ہِل‘ دریافت ہوا ہے اور رومن لیجینیری قلعہ ’کایرلیون‘ میں ملا ہے۔

فصلوں کے میدانوں میں فضائی تصویروں سے ملنے والے آثار سے نظر آتا ہے کہ ان قلعوں میں ایک بیرونی دفاعی فصیل تھی اور ایک اندرونی فصیل تھی جبکہ ان دونوں کے درمیان قتل گاہیں تھیں جن میں حملہ آور کو نیزے سے باآسانی ہلاک کیا جا سکتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہCROWN COPYRIGHT

،تصویر کا کیپشن

چیپسٹو کے شمال میں وِن کلف وِلا کے متعلق پہلے یہ خیال تھا کہ یہ شاید ایک معبد خانہ تھا، لیکن اب ملنے والی معلومات سے تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ ایک رومن ولا تھا

ان تصویروں میں ’ہے-آن-وائی‘ کے قریب ’ایبرلِن فی‘ قلعے کے آثار نظر آئے ہیں جس کے کچھ حصے فصلوں کے میدان میں ہیں جبکہ کچھ حصے پر آج کے دور کے رہائشی مکانات تعمیر ہو چکے ہیں۔

’ٹری ٹاور‘ اور ’کرک ہاؤل‘ نامی شہروں کے قریب پاوئس میں پین وائ گیئر میں بغیر کسی کھدائی کیے مزید تحقیقات سے اب تک پوشیدہ آثار کے بارے میں مزید انکشاف ہوا ہے۔

دو رومن محققین جیفری ڈیویز اور بیری برنھم سمیت ماہرین منموتھ شائر میں چیپسٹو کے شمال میں سینٹ آروینز کے علاوہ کئی اور عمارتوں کے آثار کی تفصیلات حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے اس جگہ کو ماضی میں کھدائی کے دوران تانبے کے بنے ہوئے مریخ کے مجسمے کے حصے ملنے کی وجہ سے ایک معبد خانہ سمجھا جاتا تھا۔

لیکن گرمی کی لہر کے بعد فضائی تصویروں سے ملنے والی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ یہ تو رومیوں کے لیے ایک دیہاتی بنگلہ تھا جس کے کمروں کا دیواروں کا آثار واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہCROWN COPYRIGHT

،تصویر کا کیپشن

اس تصویر میں نظر آنے والے آثار میں سڑک کا یہ حصہ کارمرتھن سے کِڈویلی تک کا ہے، جو کہ ان فضائی تصویروں کے حاصل ہونے سے پہلے نامعلوم تھا۔

لیکن جو سب سے زیادہ حیران کرنے دینے والی دریافتیں ہیں وہ قدیم رومیوں کی سڑکوں کے نقوش ہیں۔

ایک تصویر سے یہ آثار نظر آتے ہیں کہ کس طرح روم کی فوج نے کارمرتھن سے کِڈویلی کی جانب پیش قدمی کی جن سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ یہ قصبہ غالباً ان کا ایک قلعہ تھا، چاہے یہ علاقہ کِڈویلی قلعے کا حصہ نہ بھی رہا ہو۔

ڈاکٹر ڈرائیور کہتے ہیں ’یہ ویلز کو کنٹرول کرنے کے لیے تعینات ذرائع کی وسعت ہے جو ہمیں حیران کرتی ہے۔‘

’ان میدانوں سے گزرتی ہوئی سڑکیں، یہ تیر کی طرح سیدھی بنی ہوئی پتلی سڑکیں۔‘

،تصویر کا ذریعہCROWN COPYRIGHT

،تصویر کا کیپشن

ویلز میں لیم پیٹر نامی جگہ پر ایک اور سڑک رومی سڑک کے آثار جو یہ اشارہ دیتی ہے کہ ابھی دریافت کے لیے بہت کچھ کرنے کا کام ہے

گرم ترین مئی کے مہینے کے بعد ڈاکٹر ڈرائیو کی امید ہے کہ جیسے ہی کورونا وائرس کا لاک ڈاؤن ختم ہوتا ہے وہ دوبارہ سے فضا سے زمینی جائزے کا کام شروع کردیں گے تاکہ وہ اور ان کی ٹیم ویلز میں رومی نوآبادیات کے معمے حل کر نے کے لیے مزید معلومات حاصل کرسکیں۔

وہ کہتے ہیں ’ابھی بھی بہت ساری باتیں ہمارے علم میں نہیں لیں۔ ہم ابھی تک ایک رومی قلعے بنگور کو تلاش کررہے ہیں، ہمیں سڑکوں کے آثار مل گئے ہیں، ہمیں سنگِ میل بھی ملے ہیں لیکن رومیوں یہ قلعہ نہیں ملا ہے۔ ہم مغربی ویلز میں لیم پیٹر کے قریب سینٹ آساف میں بھی ایک رومی قلعہ تلاش کر رہے ہیں جو کہ وہاں پر ہونا چاہیے۔‘

’اگرچہ سنہ 2018 میں ہمارے ہاتھ نئی معلومات کا ذخیرہ لگا ہے لیکن ہمیں رومی فوج کے زمانے کے ویلز کی معلومات کی کمی کے حصے بھی نظر آئے ہیں، یہاں فوجی چھاؤنیاں ہونی چاہیے۔۔۔ لیکن ان کو تلاش کرنے کے لیے آپ کو خشک موسم میں آنا ہو گا۔‘