جو بائیڈن: ذاتی زندگی میں بہت سے صدمات سہنے والے امریکہ کے 46ویں صدر کون ہیں؟

Joe Biden looks into the distance with US flags behind him.

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن

اپنے حمایتوں کے لیے وہ خارجہ امور کے ماہر ایسے شخص ہیں جنھیں واشنگٹن میں کام کرنے کا کئی دہائیوں کا تجربہ ہے

20 جنوری 2020 کو امریکہ کے 46ویں صدر کے طور پر حلف اٹھانے کے بعد جو بائیڈن کا ایک دیرینہ خواب پورا ہونے جا رہا ہے۔ اوول آفس میں قدم رکھنے کی یہ بائیڈن کی تیسری کوشش تھی اور وہ پہلی مرتبہ اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔

بائیڈن نے صدارت کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے سنہ 1987 اور سنہ 2008 کے صدارتی انتخاب اس آفس کا امیدوار بننے کی کوشش تھی۔ مگر ان دونوں کوششوں کے برعکس سنہ 2020 میں بائیڈن ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ اس دوڑ کے آغاز میں اگرچہ 77 سالہ بائیڈن کو آیووا کاکس اور نیو ہیمپشائر میں ناکامی جیسی رُکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر ’سپر ٹیوزڈے‘ کو ان کی مشکلات آسان ہو گئیں، جب 14 ریاستوں میں انھیں کامیابی مل گئی۔

جہاں تک صدارتی مہم کی بات ہے تو رپبلکن امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں بائیڈن کی مہم ’پھیکی‘ تھی لیکن انھوں نے خود کو کورونا کی وبا کے دوران ایک ایسے ذمہ دار امیدوار کے طور پر پیش کیا جو وبا کی وجہ سے محتاط تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اگرچہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے انھیں ’امریکہ کی تاریخ کا بہترین نائب صدر‘ قرار دیا تھا لیکن چار دہائیوں تک مختلف عوامی عہدوں پر فائز رہنے والے بائیڈن کا سیاسی کردار تنقید کا نشانہ بھی بنتا رہا ہے۔

سیاسی ماہر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

بائیڈن 2009-2017 تک صدر اوباما کے نائب صدر رہے ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

جو بائیڈن نے سنہ 2008 میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں حصہ لیا تھا تاہم پھر وہ اس دوڑ سے دستبردار ہو کر اوباما ٹکٹ پر نائٹ صدر کے امیدوار بن گئے۔

اوباما کے وائٹ ہاؤس میں گزارے گئے آٹھ سال کے دوران وہ اکثر صدر اوباما کے ہمراہ نظر آئے اور یہی وجہ ہے کہ جو بائیڈن اس دور کی کامیابیوں کو اپنی کامیابیوں کے طور پر پیش کر سکتے تھے۔ ان کامیابیوں میں افورڈیبل کیئر ایکٹ کی منظوری اور 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد حکومت کے امدادی پیکج کی منظوری شامل ہیں۔

ان کی صدر اوباما، جنھیں وہ اکثر اپنا بھائی کہہ کر پکارتے ہیں، کے ساتھ وابستگی نے شاید انھیں سیاہ فام امریکیوں کے ووٹ حاصل کرنے میں بھی مدد کی ہوئی ہو۔

اپنے حمایتیوں کے لیے وہ خارجہ امور کے ماہر ایسے شخص ہیں جنھیں واشنگٹن میں کام کرنے کا کئی دہائیوں کا تجربہ تھا اور یہی چیز قدرے ناتجربہ کار اوباما کو درکار تھی۔

‘مڈل کلاس جو‘ کے نام سے معروف جو بائیڈن کو شاید اس لیے بھی شامل کیا گیا تھا کہ وہ متوسط طبقے کے ان سفید فام ووٹروں کی حمایت حاصل کر لیں گے جنھیں اوباما اکیلے اپنی طرف مائل نہیں کر پاتے۔

جو بائیڈن نے سنہ 2012 میں اپنے اس بیان سے تہلکہ مچا دیا کہ وہ ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے مکمل حمایتی ہیں اور عام تاثر یہ ہے کہ اس بیان نے صدر اوباما کو اس پالیسی کی مکمل حمایت پر مجبور کر دیا تھا۔

جو بائیڈن کی ملک کے پہلے سیاہ فام صدر کی حمایت کے پیچھے ایک طویل سیاسی کیریئر تھا۔ چھ مرتبہ سینیٹر بننے والے جو بائیڈن پہلی مرتبہ ڈیلاویئر سے سنہ 1972 میں منتخب ہوئے تھے۔

انھوں نے پہلی مرتبہ سنہ 1988 میں صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی کوشش کی تاہم انھیں اس دوڑ سے اس وقت باہر ہونا پڑا جب انھوں نے اس بات اعتراف کیا کہ انھوں نے ایک برطانوی رہنما نیل کنوک کی ایک تقریر کی نقل کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن

کہا جاتا ہے کہ ان میں ووٹروں کو راغب کرنے کی فطری صلاحیت موجود ہے

ان کے طویل سیاسی کیریئر کی وجہ سے ان کے ناقدین کے پاس بہت سے ایسے موضوعات ہیں جن پر وہ جو بائیڈن کے خلاف بات کر سکتے ہیں۔

اپنے کیریئر کے آغاز میں انھوں نے ملک کے جنوب میں نسلی بنیادوں پر علیحدہ سکولوں کے حامیوں کا ساتھ دیا، یہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا جب عدالت نے حکم دیا تھا کہ بچوں کو سکول لے جانے والی بسوں میں نسلی بنیادوں پر بچوں کو علیحدہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

سنہ 1991 میں سینیٹ جوڈیشری کمیٹی کے سربراہ کے طور پر انھوں نے کلیرنس تھامس کی عدالتِ عظمیٰ میں نامزدگی کی سربراہی کی۔ اس حوالے سے ان پر الزام ہے کہ انھوں نے کلیرنس تھامس کے خلاف خاتون انیتا ہل کی جانب سے جنسی ہراسانی کے المامات کی درست انداز میں تحقیق نہیں کی۔

سنہ 1994 میں انھوں نے جرائم کے خلاف ایک بل کی بھی پُرجوش حمایت کی۔ اس بل کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے شہریوں کو بےجا طور پر طویل سزائیں دی گئیں اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو قید کیا گیا۔

یہی وجوہات ہیں کہ صدر اوباما کا قدرے معتدل نائب صدر شاید جدید ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک مشکل امیدوار تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

بائیڈن کے بیٹے بیؤ نے ڈیلاویر کے اٹارنی جنرل اور عراق میں بطور فوجی خدمات انجام دیں ہیں

جو بائیڈن اپنی ذاتی زندگی میں ایسے سانحوں سے گزرے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ ہیں اور جن کی وجہ سے وہ عوام کے قریب نظر آتے ہیں۔

سینیٹ کا اپنا پہلا الیکشن جیتنے کے بعد جب وہ حلف لینے کی تیاری کر رہے تھے تو اس دوران ان کی اہلیہ نائیلیہ اور بیٹی نومی ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گئیں تھیں جبکہ دونوں بیٹے بیؤ اور ہنٹر زخمی ہوئے تھے۔

بعد میں بیؤ بھی 46 سال کی عمر میں دماغ میں ٹیومر کے باعث وفات پا گئے۔

اپنے پیاروں کی ایک ساتھ موت نے انھیں کئی امریکیوں کے دل کے قریب کر دیا ہے۔ اپنے تمام تر سیاسی اثر و رسوخ اور دولت کے باوجود وہ ایسے ہی سانحے سے گزرے ہیں جس کا عام لوگ بھی سامنا کرتے ہیں۔

مگر جب وہ 2020 کی دوڑ میں شامل ہوئے تو اور بھی مشکلات ان کے آڑے آئیں۔ آٹھ خواتین نے الزام لگایا کہ جو بائیڈن نے انھیں غیر مناسب طریقے سے چھوا، گلے لگایا یا بوسہ لیا۔ امریکی ٹی وی چینلوں پر ان کے کئی کلپ چلائے گئے جن میں وہ مختلف عوامی اجتماعات میں خود آگے بڑھ کر خواتین سے گرم جوشی سے ملتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، ان میں ایسے مناظر بھی شامل ہیں جنھیں دیکھ کر بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خواتین کے بال سونگھ رہے ہوں۔

اس کے ردعمل میں بائیڈن نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ لوگوں سے ملنے کے دوران محتاط رہیں گے۔

تاہم مارچ میں تارا ریڈ نامی ایک خاتون نے الزام لگایا کہ 30 سال قبل بائیڈن نے انھیں زبردستی دیوار سے لگا کر جنسی زیادتی کی۔ ان دنوں یہ خاتون بائیڈن کے دفتر میں ایک اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔

جو بائیڈن نے اس الزام کی تردید کی اور ایک بیان جاری کیا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان اپنے امیداوار کے دفاع میں صدر ٹرمپ کی مثال دی کہ اب تک ایک درجن سے زیادہ خواتین نے ان پر جنسی حملوں کا الزام لگایا ہے۔

جو بائیڈن کے اس انداز نے اگرچہ ماضی میں مسائل پیدا کیے ہیں لیکن ان کے حامیوں کو امید ہے کہ عام لوگوں سے گرمجوشی سے ملنے اور قریب رہنے والا یہ انداز انھیں ایسی صورتحال میں پھنسنے سے بچائے گا جس میں کئی سابق سیاستدان پھنس چکے ہیں۔