کورونا وائرس: پاکستان میں تعلیمی ادارے، شادی ہالز کے علاوہ دیگر سرگرمیوں پر عائد پابندی ختم، برازیل میں وبا سے ہونے والی ہلاکتیں ایک لاکھ سے زیادہ

پاکستان

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستان میں حکومت کے فیصلے کے بعد پیر دس اگست سے ملک کے تمام علاقوں میں تعلیمی اداروں اور بڑے اجتماعات، شادی ہالز کے علاوہ دیگر تمام کاروباری اور تفریحی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔

ملک کے چاروں صوبوں کی جانب نے اس حوالے سے اپنے طور پر نوٹیفیکشن جاری کیے جس کے مطابق چھوٹے بڑے کاروبار حکومتی ایس او پی پر عمل درآمد کی شرط پر کام شروع کر چکے ہیں۔

پاکستان میں جولائی کے مہینے میں کورونا وائرس میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی اور یہی رحجان ساتھ ساتھ اگست میں بھی چل رہا ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 10 اگست تک صرف 17 ہزار سے زیادہ زیر علاج مریض تھے جبکہ کل ہلاکتوں کی تعداد 6097 ہے۔ فروری 2020 سے پہلے کیس کی تشخیص کے بعد اب تک ملک میں مجموعی طور پر دو لاکھ 84 ہزار سے زیادہ متاثرین کی شناخت ہو چکی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

گ

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

صوبے سندھ کی جانب سے دیے گئے اعلامیے کے تحت شادی ہال اور تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے دوبارہ کھل جائیں گے جبکہ کھیلوں کی سرگرمیاں بغیر شائقین کے فوراً شروع کی جا سکتی ہیں۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ پبلک ٹرانسپورٹ، ریستوران، ہوٹل، سنیما ہالز وغیرہ میں سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی جائیں لیکن ان کے لیے لازم ہو گا کہ وہ حکومتی شرائط اور ضوابط کار کر پورا عمل کریں۔

حکومت پنجاب کے محکمہ صحت کی جانب سے نو اگست کو جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق ماسوائے شادی ہال اور تعلیمی اداروں کے تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں لیکن اس کے لیے لازم ہے کہ ضوابط کار کا پورا خیال رکھا جائے۔

حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ تمام کاروبار کے اوقات کار بھی کووڈ 19 کی وبا کے شروع ہونے سے پہلے کے ہیں۔

مذہبی اجتماعات کے بارے میں کہا گیا کہ وہ صرف حکام کی اجازت سے ہو سکتے ہیں۔

صوبہ خیبر پختون خوا اور صوبہ بلوچستان میں بھی حکومتوں نے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی تجاویز کی روشنی میں دس اگست سے تمام سرگرمیوں کو حفاظتی ایس او پیز کے ساتھ باضابطہ طور پر شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

سیاحت کی اجازت مل جانے کے بعد ملک کے شمالی حصوں میں سیاحوں کا رش بڑھ گیا ہے اور گاڑیوں کی کئی کئی کلو میٹر لمبی قطاریں بھی لگی ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency/Getty

ادھر لاطینی امریکہ کے ملک برازیل میں کووڈ 19 کے سبب ہونے والی ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ اس وبا کے باعث ہلاکتوں کی دوسری بڑی تعداد ہے اور یہاں وبا کے کم ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

تین ماہ کے دوران وائرس کے سبب کم از کم 50000 افراد ہلاک ہوئے اور پھر صرف 50 دنوں میں یہ تعداد دو گناہ ہو گئی۔ اب تک برازل میں 30 لاکھ سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اگرچہ ملک میں وائرس ابھی عروج پر ہے تاہم دکانیں اور ریستوران کھول دیے گئے ہیں۔

صدر جائر بولسونارو نے وائرس کے اثرات کو کمزور سمجھا اور ایسے تمام اقدامات کی مخالفت کی جو ملکی معیشت کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔

دائیں بازو کی جماعت کے رہنما جو خود بھی وبا کا شکار ہو کر صحت یاب ہو چکے ہیں انھوں نے گورنرز کی جانب سے کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے عائد کردہ پابندیوں کی مخالفت کی اور باقاعدگی سے اپنے حامیوں کے اجتماعات میں بغیر ماسک کے نظر آئے۔

ماہرین نے موجودہ صدر کی انتظامیہ کی جانب سے منصوبہ بندی میں تعاون کے فقدان کی شکایت کی ہے، خصوصاً جب مقامی حکام معشیت کی بحالی پر توجہ دے رہی ہیں جس سے ممکن ہے کہ اس سے وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو۔

برازیل اس بحران کا سامنا کیسے کر رہا ہے؟

ملک کی وزرات صحت کی سربراہی ایک فوجی جنرل کے پاس ہے جنہیں صحت عامہ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

اس سے پہلے دو وزرا جو ڈاکٹر تھے صدر کے ساتھ سماجی دوری برقرار رکھنے سے متعلق اقدامات اور علاج کے لیے ہائیڈروکسی کلوروکوئین کے استمعال پر اختلافات کے باعث عہدے سے الگ ہو چکے ہیں۔

صدر بولسونارو کووڈ 19 کو ’ایک معمولی فلو‘ قرار دے چکے ہیں اور اپنے ملک اور عالمی سطح پر اس کے حوالے سے رد عمل پر تنقید کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود اس انفیکشن سے ملیریے سے بچاؤ کی دوا سے ٹھیک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

برازیل کے صدر خود کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد اپنح حامیوں کے درمیان

انفیکشیئس ڈیزیز سوسائٹی کے سینیئر رکن ڈاکٹر جوش ڈیوی کا خبر رساں ادارے روئٹر سے کہنا تھا ’ہمیں اس وقت مایوس ہونا چاہیے کیونکہ یہ عالمی جنگ جیسا المیہ ہے۔ لیکن پورا برازیل ایک اجتماعی انستھیزیا (بے ہوشی کے عالم) میں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس وقت حکومت کا پیغام یہ ہے کہ ’کورونا وائرس ہونے دیں اگر آپ کی حالت خراب ہوتی ہے تو انتہائی نگہداشت موجود ہے‘ اور یہ ہماری آج کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ ‘

برازیل میں وزرات صحت کے مطابق وائرس کے باعث 100477 اموات ہو چکی ہیں جبکہ یہاں 3012412 مصدقہ کیسز ہیں۔ تاہم خیال ہے کہ ناکافی ٹیسٹنگ کے باعث ان کیسز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ برازیل سے زیادہ متاثرین کی تعداد صرف امریکہ میں ہے۔

متاثرین اور اموات کی تعداد کتنی ہے؟

کووڈ 19 سانس لینے میں دشواری پیدا کرتا ہے۔ اس کے ابتدائی متاثرین چین میں 2019 کے اواخر میں ووہان شہر میں سامنے آئے تھے۔

اس کے بعد یہ 2020 کے ابتدائی مہینوں کے دوران دنیا بھر میں تیزی سے پھیل گیا۔

کا نقشہ

دنیا بھر میں مصدقہ متاثرین

Group 4

مکمل انٹرایکٹو دیکھنے کے لیے اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کریں

ذریعہ: جان ہاپکنز یونیورسٹی, قومی محکمۂ صحت

آخری مرتبہ اپ ڈیٹ کیا گیا 5 جولائی، 2022 12:59 PM GMT+5