مصر میں ٹِک ٹاک اور انسٹاگرام پر مشہور خواتین کو مقدمات کا سامنا

  • سیلی نبیل
  • بی بی سی عربی، قاہرہ
ٹِک ٹاک

،تصویر کا ذریعہAFP

'ہمیں شدید جھٹکہ لگا۔ اس نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ میری بہن کوئی مجرم نہیں ہے۔' یہ الفاظ ہیں رحما الاعظم کے جو انھوں نے اپنی بہن کے بارے میں کہے۔ ان کی بہن مصر میں سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں۔

22 برس کی موادا یونیورسٹی کی طالبہ ہیں جنھیں گزشتہ مہینے دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے مصر کی خاندانی اقدار کی توہین کی ہے۔

انھیں موبائل ایپ ٹِک ٹاک اور انسٹاگرام پر اپنی ویڈیوز پوسٹ کرنے کے بعد مئی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان ویڈیوز میں وہ مشہور گانوں پر لب ہلاتے اور فیشن ایبل لباس میں ڈانس کرتی نظر آتی ہیں۔ استغاثہ کے مطابق ان کے ویڈیو ’نامناسب‘ تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹِک ٹاک پر موادا کے تین ملین سے زیادہ فالووز ہیں جبکہ انسٹاگرام پر ان کے فالووز کی تعداد 16 لاکھ ہے۔

ان کی بہن رحما کہتی ہیں کہ وہ صرف مشہور ہونا چاہتی تھیں۔

'ٹِک ٹاک گرلز'

موادا ان پانچ خواتین میں سے ایک ہیں جنھیں قید اور تقریباً 20 ہزار ڈالر جرمانے کی سزائیں سنائیں گئیں ہیں۔

یہ پانچوں خواتین ٹِک ٹاک گرلز کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔ موادا کے علاوہ ایک دوسری خاتون کا نام حنین ہشام ہے جبکہ باقی تین کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

رحما کا کہنا ہے کہ ان کی بہن سوشل میڈیا پر کئی مشہور برانڈز کے لیے ماڈلنگ کر رہی تھیں۔ 'وہ بہت بلندی پر جانے کا سوچ رہی تھیں۔ انھوں نے ایک اداکارہ بننے کا خواب دیکھا تھا۔'

رحما نے غصے سے سوال کیا 'وہ ہی کیوں؟ کچھ اداکارائیں بہت کھلے لباس پہنتی ہیں۔ انھیں کوئی کچھ نہیں کہتا۔'

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق استغاثہ نے موادا کے خلاف ان کی 17 تصاویر کو 'غیر مہذب' ہونے کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا۔ موادا کا کہنا ہے کہ ان تصاویر کو گزشتہ برس چوری ہونے والے ان کے موبائل فون سے حاصل کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس مقدمے میں 17 اگست کو اپیل کی جائے گی اور رحما کو امید ہے کہ سزا میں کمی کر دی جائے گی۔

موادا کے وکیل احمد بہکری کے مطابق عدالت کا فیصلہ سننے کے بعد وہ بے ہوش ہو گئیں۔ 'وہ بلکل بے حال ہو گئیں، ان پر جو الزامات لگائے گئے وہ بہت مبہم تھے۔'

موادا کے وکیل نے مزید کہا 'اگر ان کی کچھ ویڈیوز ہماری سماجی اقدار کے خلاف ہیں بھی تو قید کی سزا اس کا کوئی حل نہیں ہے۔ جیلیں جرائم پیشہ افراد پیدا کرتی ہیں۔ حکام انھیں ذہنی تربیت کے لیے بھیج سکتے تھے۔'

مصر میں اس مقدمے کے بارے میں ملا جلا ردعمل ہے۔ موادا نے جیسے ویڈیوز بنائے بعض لوگ انہیں غیر مہذب سمجھتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لڑکیاں ہلکی پھلکی تفریح کر رہی تھیں اور انھیں قید میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کی گرفتاری کے ذریعے مصری حکام کی کوشش ہے کہ آزادیِ اظہار کو محدود کیا جائے اور یہ سائبر سپیس کو قابو میں کرنے کے نئے جابرانہ حربوں کو ظاہر کرتا ہے۔

انسانی حقوق اور سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مصر میں لاکھوں سیاسی قیدی ہیں جن میں لبرل، اسلام پسند، صحافی اور انسانی حقوق کے وکلاء شامل ہیں۔

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی اصرار کرتے ہیں کہ ملک میں ضمیر کے کوئی قیدی نہیں ہیں۔ جبکہ مصری حکومت ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر کئی تنقیدی رپورٹس کی ساکھ پر سوال اٹھاتی رہی ہے۔

’گمراہ اور آوارہ‘

قاہرہ میں قائم مصر کا انسانی حقوق کا کمیشن ان تنظیموں میں شامل ہے جو ان لڑکیوں کی فوری رہائی کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے۔

کمیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر محمد لطفی کہتے ہیں کہ اس مقدمے میں صنفی امتیاز واضح طور پر نظر آتا ہے۔

'سوشل میڈیا پر خواتین کو اپنا اظہار ریاست کے احکامات کے مطابق کرنا پڑتا ہے۔ ان لڑکیوں پر الزام ہے کہ انھوں نے مصر کے خاندانی اقدار کی خلاف ورزی کی ہے لیکن کسی نے کبھی ان اقدار کی تشریح نہیں کی۔'

محمد لطفی کہتے ہیں کہ اگر ان لڑکیوں کو رہا کر دیا جاتا ہے تو بھی تمام لڑکیوں کو ایک وارننگ تو مل ہی گئی ہے۔

'حکام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ آپ اتنی آزاد نہیں ہیں کہ جو مرضی چاہے کہیں یا کریں، اگر آپ سیاست پر بات نہیں کر رہی تب بھی کچھ حدود ہیں جو آپ عبور نہیں کر سکتیں۔'

حالیہ مہینوں میں مصری حکام کی جانب سے بیانات جاری کیے گئے ہیں جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی وجہ سے نوجوانوں کو لاحق خطرات اور ان کے بغیر کسی نگرانی کے چلنے کی نشاندھی کی گئی ہے۔

بیانات میں والدین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نوجوانوں کو 'گمراہ اور آوارہ طرز زندگی' اور 'فضول شہرت اور کامیابی' کی طرف جانے سے روکیں۔

اس دوران رحما کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ اس مقدمے کی وجہ سے اپنے بستر سے اٹھنے کے قابل نہیں رہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی والدہ ہر وقت روتی رہتی ہیں اور اکثر رات میں اٹھ کر پوچھتی ہیں کہ موادا گھر واپس آ گئی یا نہیں۔