امریکی پوسٹل سروس: ٹرمپ کی ہار یا جیت سے ڈاک کے نظام کا کیا تعلق؟

امریکی شہریوں کی ڈاک کا صدارتی انتخابات سے کیا تعلق؟

سنہ 2020 میں بہت سی عجیب چیزیں ہوئی ہیں۔ لیکن اس سے عجیب شاید کوئی نہیں کہ امریکی پوسٹل سروس کا ادارہ رواں سال کے صدارتی انتخابات میں ایک تنازعے سے گھرا ہوا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چیختے ہوئے ریپبلیکن پارٹی کے حمایتیوں کے ایک ہجوم کو بتایا کہ 'ہم صرف اس صورت میں یہ انتخاب ہاریں گے کہ اس میں دھاندلی ہو جائے۔'

لیکن ایک ٹاک شو میں ان کے حریف اور صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیداوار جو بائیڈن نے متنبہ کیا ہے کہ: 'صدر یہ الیکشن چُرانے کے کوشش کرنے والے ہیں۔'

اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دونوں اس بارے میں بات کر رہے ہیں کہ امریکی شہری اپنی ڈاک کیسے وصول کرتے ہیں۔

چار سال قبل گذشتہ صدارتی انتخابات کی ووٹنگ کے دوران دھاندلی کے الزامات جاسوسی پر مبنی کسی بُری فلم کی کہانی جیسے لگ رہے تھے جس میں سوشل میڈیا کے پُراسرار الگوردھم، روسی ہیکرز اور خفیہ ریکارڈز کا ذکر کیا جاتا تھا۔

لیکن رواں سال بات ڈاک کی ہو رہی ہے۔

تو سب ڈاک کی بات کیوں کر رہے ہیں؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

امریکی پوسٹل سروس سے متعلق غصے میں کئے گئے بہت سے ٹویٹس میں سے ایک میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 'وہ یہ الیکشن چُرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے!'

یہ بھی پڑھیے

یہ اس لیے کہ جو بائیڈن اور ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ نومبر کے انتخابات جس حد تک ممکن آرام سے گزر سکیں۔ اور یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلیکنز چاہتے ہیں کہ ان میں تاخیر ہو۔

رواں سال کورونا کی وجہ سے کئی لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں تو یہ حیرت کی بات نہیں کہ اس سے انتخابات پر بھی اثر پڑے گا۔

کچھ ریاستوں میں براہ راست ووٹنگ پر پابندی عائد کی جا رہی ہے تاکہ کووڈ 19 کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔ اور جہاں اس کی اجازت ہے وہاں بھی یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ لوگ ایک ہی وقت میں پولنگ سٹیشنز میں داخل نہ ہوں۔

امکان ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں اضافہ ہوگا اور کوئی نہیں جانتا کہ آیا امریکی پوسٹل سروس اس کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بائیڈن، جو انتخابی تجزیوں میں تو کئی مہینوں سے برتری حاصل کر رہے ہیں، چاہتے ہیں کہ سب ٹھیک انداز میں چلے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جیت جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہDEMOCRATIC NATIONAL CONVENTION

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کو کورونا وائرس کے باعث ایک لاکھ 70 ہزار اموات کی وجہ سے نقصان ہوا ہے اور عالمی وبا سے معیشت بھی بحران کا شکار ہے۔ وہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر کو لگتا ہے وہ نومبر میں انتخابات ہار جائیں گے اور نئے ووٹرز کے اعتماد کے لیے مزید وقت چاہتے ہیں۔

لیکن ٹھہریں، کیا آپ امریکہ میں براہ راست پولنگ سٹیشن پر آئے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈال سکتے ہیں؟

جی ہاں۔ سنہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں قریب ایک چوتھائی ووٹ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے تھے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس مرتبہ یہ نمبر بڑھ جائے گا۔

وفاقی انتخابات کے لیے ریاستیں افرادی طور پر ووٹنگ کے اصول بدل سکتی ہیں اور بعض ریاستوں میں کوشش کی جا رہی ہے کہ الیکشن کے روز پولنگ سٹیشن میں لوگوں کا ہجوم روکا جاسکے اور پوسٹل ووٹنگ کو بڑھایا جائے۔

کئی ملکوں میں ووٹنگ کے دوران سکیورٹی کے انتظامات سخت ہوتے ہیں لیکن امریکہ میں یہ دن کافی پُرسکون ہوتا ہے اور امکان رہتا ہے کہ دھاندلی کی شرح بہت کم ہے۔

ڈیموکریٹس ٹرمپ پر کیا الزام لگا رہے ہیں؟

سابق ڈیموکریٹ صدر باراک اوباما نے ٹرمپ پر پوسٹل سروس کو 'مسلسل کمزور' کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

انھیں ڈر ہے نئے پوسٹ ماسٹر جنرل لوئیس ڈیجوئے ان کے لیے یہ کام کریں گے۔

گذشتہ 20 سال سے یہ عہدہ پوسٹل سروس کے اندر کے کسی شخص کو دیا جاتا تھا لیکن جون میں ڈیجوئے کو یہ عہدہ دیا گیا جن کا تعلق پوسٹل سروس سے نہیں۔ انھوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے 12 لاکھ امریکی ڈالر عطیہ کیے تھے۔

ڈیموکریٹس نے ڈیجوئے پر الزام لگایا ہے کہ وہ پوسٹل سروس کو تباہ کر دیں گے تاکہ ٹرمپ نومبر میں ہار نہ سکیں۔

ان کی تعیناتی کے آغاز سے انھوں نے اس خوف کو کم کرنے کی زیادہ کوشش نہیں کی اور ڈاک پہچاننے والی 600 مشینوں کو بند کر دیا ہے۔ ان میں سے قریب 10 موجودہ حالات میں استعمال ہو رہی تھیں۔

عملے کے اوور ٹائم یعنی زیادہ کام کرنے کے عوض اضافی پیسوں کو محدود کیا گیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ڈاک پہنچی یا نھیں جو اضافی سفر کی سہولت تھی وہ بھی ختم کر دی ہے۔

ان تبدیلیوں سے اتنا تنازع کھڑا ہوا ہے کہ انھیں امریکی سینیٹ کی ہوم لینڈ سکیورٹی کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑا جہاں ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا کہ یہ دیکھا جائے آیا وہ سیاسی بنیادوں پر پوسٹل سروس میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔

دوسرے ریپبلیکنز کے ساتھ انھوں نے یہ دعوے مسترد کیے کہ نئے اصولوں کو انتخابات میں چھیڑ چھاڑ کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ یہ 160 ارب امریکی ڈالر کے خسارے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ (اور آپ سوچ سکتے ہیں کہ ای میل کے رجحان میں اضافہ اور حال ہی میں کورونا وائرس کے باعث سروس کو مالی طور پر مزید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔)

لیکن ٹرمپ بھی سمجھتے ہیں کہ اس الیکشن میں دھاندلی ہونے جا رہی ہے۔۔۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی صدر نے کہا ہے کہ پوسٹل ووٹنگ میں اضافے سے زیادہ لوگ الیکشن میں حصہ لے سکیں گے اور نومبر میں ان کی برتری میں اضافہ ہوگا کیونکہ یہ 'ملک کی تاریخ کا سب سے کرپٹ الیکشن ہونے جا رہا ہے۔'

ماہرین کی رائے کے برعکس ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ پوسٹل ووٹ 'ڈاک کے بکسوں سے چُرائے جائیں گے' یا بعض گروہوں کی جانب سے ان میں 'بیرونی طاقتوں کی جانب سے جعلی ووٹ ڈالے جائیں گے جو ٹرمپ کی فتح نہیں چاہتے۔'

ان مبینہ خطرات کی بنا پر انھوں نے تجویز دی ہے کہ انتخابات میں تاخیر کی جانی چاہیے۔

صدر ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ایوان نمائندگان کی جانب سے منظور کیا گیا ایک ایسا بِل بھی ویٹو کرنا چاہتے تھے جس سے پوسٹل سروس کو 25 ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ ملے گی تاکہ ووٹنگ کے مراحل میں اس کی مدد ہوسکے۔

تو کیا ڈاک کا نظام انتخابات کے دوران بوجھ سے گِر جائے گا یا اس کے ذریعے دھاندلی ہوسکتی ہے؟

سیاستدان اس حوالے سے کافی بیان بازی کر رہے ہیں لیکن خدشات اتنے واضح نہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ کرسمس سے قبل پوسٹل سروس ایک دن میں قریب 50 کروڑ خط لوگوں تک پہنچاتی ہے۔

اگر 15 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز نے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالے تب بھی اس پر زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا۔

اور پوسٹ ماسٹر جنرل لوئیس ڈیجوئے نے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا تھا کہ انھوں نے مزید کسی بھی تبدیلی کو معطل کر دیا ہے اور یہ ادارہ 'انتخابات کے کے دوران ووٹوں کی باحفاظت اور وقت پر منتقلی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔'

'یہ مقدس ذمہ داری اب سے الیکشن کے دن تک میری اولین ترجیح ہے۔'

اور دھاندلی کے خدشات کا کیا؟ گذشتہ برسوں کی ملک گیر اور ریاستی تحقیق یہ ثابت کرتی ہیں کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں دھاندلی کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق 2000 اور 2012 کے درمیان لاکھوں ووٹوں میں سے دھاندلی کے صرف 491 واقعات پیش آئے۔

لیکن نومبر میں انتخابات کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ آپ یہ کافی اکثر سنیں گے کہ عام امریکی شہری اپنی ڈاک کیسے وصول کرتا ہے، خاص کر کے جب انتخابی مہم تلخ اور مقابلہ سخت ہوتا جائے گا۔