چین کا ہدف مشرق وسطیٰ: عرب دنیا میں چینی میڈیا نے کیسے قدم جمائے؟

  • محمد الاثار
  • مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ، بی بی سی مانیٹرنگ
چین عرب

،تصویر کا ذریعہChina's Foreign Ministry

گذشتہ ایک دہائی سے چین مشرقِ وسطیٰ میں ذرائع ابلاغ کی ایک موثر حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ اس سے پہلے مشرقِ وسطیٰ میں چین کے عزائم بڑی حد تک محدود تھے۔

کووڈ 19 کی وبا کے آغاز کے ساتھ ہی عربی زبان میں چین کے میڈیا آپریشنز میں مزید تیزی آئی اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ میں چین نے اس شعبے میں کتنی زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

اس کے علاوہ اس صورتحال سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ چین مشرقِ وسطیٰ میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کو کتنی اہمیت دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین کے ریاستی خبر رساں اداروں نے مشرقِ وسطیٰ میں مقامی لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے اور مقامی اداروں سے پارٹنرشپ اور مجموعی طور پر چین کی مثبت تصویر پیش کر کے قدم جمائے ہیں۔

چینی اقدار پر مبنی پیغامات کی ترویج چین کی میڈیا سے متعلق حکمتِ عملی کا محور ہے۔ چینی مواد مشرقِ وسطیٰ میں مختلف پیلٹ فارمز کو دیا جا رہا ہے اور میڈیا کے مختلف اداروں کے ذریعے عوام تک پہنچایا جا رہا ہے۔

عربی زبان میں چینی میڈیا کے اداروں کو مغرب مخالف جذبات، ثقافتی مماثلتوں، چین کی تیز رفتار ترقی کی مدح سرائی اور یہاں تک کے اسلامی اصطلاحات کا استعمال کر کے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

میڈیا پر مغرب کی اجارہ داری کا خاتمہ، چین کے سماجی کنٹرول اور مرکزی جدیدیت کے چینی ماڈل کو مشکلات کی شکار حکومتوں کو برآمد کرنا، مشرقِ وسطیٰ کے تنازعوں میں ثالث کے طور پر امریکہ کی جگہ لینا اور اس پورے خطے کے حالات کو موافق بنانا تا کہ توانائی کی متواتر ترسیل ہو سکے جو چین کے روڈ اینڈ بیلٹ نامی منصوبے کا ایک حصہ ہے، چین کے مقاصد میں شامل ہیں۔

توجہ کا نیا مرکز

،تصویر کا ذریعہChina's Foreign Ministry

،تصویر کا کیپشن

جولائی میں چائنا عرب سٹیٹس کوآپریشن فورم کا اجلاس

سنہ 2004 میں چین اور عرب ممالک نے چائنا عرب سٹیٹس کوآپریشن فورم قائم کیا جو کئی شعبوں پر مشتمل ایک مشترکہ پلیٹ فارم بن چکا ہے۔

میڈیا، کلچر اور نیوز کے شعبوں میں تعاون کے ذریعے تیزی سے آگے بڑھنے پر اتفاق ہوا اور یہ فیصلہ ہوا کہ چائنیز-عرب میڈیا ڈائیلاگ کانفرنس باقاعدگی سے منعقد کروائی جائے گی۔

اس سلسلے کا پہلا اجلاس سنہ 2008 میں بیجینگ اولمپکس سے پہلے چین کی پیپلز ریپبلک سٹیٹ کونسل اور عرب لیگ نے منعقد کروایا جس میں حکومتی اہلکاروں، سفارت کاروں اور نامی گرامی صحافیوں نے شرکت کی۔

اس اجلاس کے اگلے برس چین کے سرکاری ٹی وی چینل سی سی ٹی وی نے عربی زبان کا ایک بین الاقوامی ٹی وی چینل شروع کر دیا جس کا ہدف مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے تیس کروڑ ناظرین تھے۔

سی جی ٹی این عربی (سابقہ نام سی سی ٹی وی عربی)

(ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ فیس بک فالوور، ہانچ کروڑ ساٹھ لاکھ سے زیادہ یو ٹیوب ویوز، 693700 سے زیادہ ٹویٹر فالوور)

جولائی 2009 میں جب سی سی ٹی وی عربی کا آغاز ہوا تو اس چینل پر چند ہی پروگرام نشر کیے جاتے تھے جنھیں دن میں چھ مرتبہ دو بارہ نشر کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ اس چینل پر چینی ثقافت کے بارے میں ڈاکیومنٹری پروگرام عربی زبان میں ڈب کر کے نشر کیے جاتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/cgtnarabic

،تصویر کا کیپشن

سی جی این ٹی وی عربک کا فیس بک پیج

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس چینل کے زیادہ تر میزبان عربی زبان اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے چینی طالبِ علم ہوا کرتے تھے جو چینی لہجے میں عربی میں خبریں پڑھتے تھے جو ناظرین کے مشکل سے سمجھ میں آتی تھیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ اس چینل کی نشریات بہتر اور ناظرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ چینل کو سمجھ میں آ گیا کہ عرب ناظرین کی دلچسپی کے موضوعات کون سے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ ایک دہائی سے جاری جنگوں کے دوران اکثر مقامی لوگ ایک ہی طرح کی خبریں دیکھ دیکھ کر تنگ آ گئے اور متبادل کی تلاش شروع کر دی۔ سی سی ٹی وی نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔

اس نے دوسرے چینلوں سے بریکنگ نیوز میں مقابلے کی کوشش نہیں کی بلکہ عرب ناظرین کو صورتحال سے ذہنی فرار حاصل کرنے والا مواد فراہم کیا۔

سی سی ٹی وی نے خوبصورت قدرتی مناظر، رنگ برنگی تقریبات، مارشل آرٹس کے سبق، گھریلو ڈرامے اور کارٹون پیش کیے۔ یہ واضح تھا کہ سی سی ٹی وی کو اپنے ناظرین سے یہ توقعات نہیں تھیں کہ وہ خطے میں جاری مسلح تنازعوں سے متعلق خبروں کے لیے اسے دیکھیں گے۔

سنہ 2016 میں جب سی سی ٹی وی کا نام بدل کر سی جی ٹی این (چائنا گلوبل ٹیلی وژن نیٹ ورک) رکھا گیا اور دبئی میں اس کے عربی چینل کا ریجنل ہیڈ کواٹر قائم کیا گیا تو یہی حکمتِ عملی جاری رہی۔

سی جی ٹی این عربی کی کوریج کا مجموعی پیغام امید اور مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا تھا جس میں اس طرح کی کہانیاں دکھائی جاتی تھیں کہ مختلف برادریوں اور انفرادی طور پر لوگوں نے کس طرح اپنے حالات بہتر بنائے۔

پیغمبرِ اسلام کی مشہور حدیث کا کہ 'علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے تمھیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے' اکثر حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ سب مشرقِ وسطیٰ کے ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیابی کی وجہ بنا۔

بی بی سی کے والٹ سافٹ ویئر کے ذریعے 28 جولائی سے تین اگست 2020 کے دوران سی جی ٹی این عربی کی نشریات کے تجزیے سے ان 100 الفاظ کے بارے میں معلوم ہوا جو اس چینل کے ناظرین نے سب سے زیادہ سنے۔

توقع کے مطابق سب سے زیادہ استعمال ہونے والے دو الفاظ چائنا اور چائنیز تھے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سی جی ٹی این کا مشن چینی سیاست، معاشرے اور ثقافت کا فروغ ہے۔

اسی ہفتے کے دوران متواتر استعمال ہونے والے دوسرے الفاظ دنیا، ریاست، صدر اور فوج تھے جو بی بی سی عربی اور الجزیرہ جیسے دوسرے حریف چینلوں میں بھی اسی تواتر سے استعمال ہوئے تھے۔

لیکن کچھ الفاظ زیادہ تر سی جی ٹی این پر ہی استعمال ہوئے جن میں سمندر، مچھلیاں، پانی، زندگی، تعمیر، شخص، ماں، امن، تعاون، سکول، تعلیم، غربت اور گھر شامل ہیں۔

سی جی ٹی این نے جن ممالک کا سب سے زیادہ ذکر کیا وہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہیں۔ یہ دونوں ملک خطے میں مغرب کے اہم اتحادی ہیں جنھوں نے حالیہ برسوں میں ڈرامائی تیز رفتاری سے چین کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کیے ہیں۔

بی بی سی کے تجزیے کے مطابق حیرت انگیز طور پر سی جی ٹی این نے اپنے حریف چینلوں کے مقابلے میں امریکہ کا ذکر کم کیا۔

ٹاک شوز

خبروں کے لحاظ سے سی جی ٹی این عربی کی نسبتاً کمزور کوریج کے باوجود اس کے دو ٹاک شوز 'دا ڈسکشن' اور 'فیس ٹو فیس' مقبول ہیں۔

ان پروگراموں کے اینکر چن شی اور لی جینگ روانی سے عربی بولتے ہیں، مختلف موضوعات پر ان کی گرفت اور معلومات اچھی ہیں اور دونوں دلکش شخصیت کے مالک ہیں۔

یہ اینکر ایسے کئی افراد میں شامل ہیں جنھوں نے عرب میڈیا میں کورونا وائرس کی وبا سے متعلق چین کے موقف، تجربے اور اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

ان ٹاک شوز میں مشکل اور متنازع موضوعات پر کھل کر گفتگو ہوتی ہے۔ انسانی حقوق، چین کے اندر علاقائی، سماجی اور لسانی کشیدگیاں اور مشرقِ وسطیٰ کے متنازع معاملات ان موضوعات میں شامل ہیں۔

سی جی ٹی این کے ٹاک شوز میں انسانی حقوق کی نئی تشریح پیش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مغرب مخالف جذبات کو ابھارا جاتا ہے۔

ایک ٹاک شو کے اینکر نے پروگرام کے آغاز میں اپنی تمہید میں کہا کہ 'گزشتہ چار دہائیوں کے دوران چین نے زبردست معاشی ترقی کی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا معیارِ زندگی مسلسل بہتر ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انسانی حقوق بھی بہتر ہوئے ہیں۔

اس لیے میرا نہیں خیال کہ ہمیں شہروں اور چین کے زیادہ تر علاقوں میں انسانی حقوق پر گفتگو کرنی چاہیے۔

لیکن میں اس جانب نشاندہی ضرور کرنا چاہوں گا کہ ابھی بھی چین میں ایسے علاقے ہیں جہاں غربت ہے اور چین غربت کے مکمل خاتمے کے لیے کام کر رہا ہے۔ لہذا دور دراز غریب علاقوں میں انسانی حقوق کی کیا صورتحال ہے؟'

کئی ٹاک شوز میں انسانی حقوق کی چینی تشریح پر بات ہوتی ہے۔ لوگوں کے لیے بہتر شہری ڈھانچہ، بجلی کی فراہمی، قانون کی حکمرانی، تعلیم، معاشی ترقی، ماحول کا تحفظ، انسدادِ دہشتگردی اور کرپشن کے خلاف جنگ انسانی حقوق کی چینی تشریح میں شامل ہیں۔

چین کا عربی زبان کا میڈیا مشرقِ وسطی اور چین کے اندر انسانی حقوق کی صورتحال کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

جب عرب ناظرین کے ذہنوں میں مشرقِ وسطی میں عدم استحکام کے بارے میں سوال اٹھتے ہیں تو چائنا انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے ڈائریکٹر سی جی ٹی این پر اپنے ایک انٹرویو میں ان سوالوں کے جواب دیتے ہوئے امریکہ کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں۔

'سب جانتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی بڑی وجوہات میں سے ایک امریکہ ہے جس نے یک طرفہ پالیسی اپنائی ہوئی ہے جو بنیادی طور پر ایک خودغرض پالیسی ہے اور متعصابانہ طور پر اسرائیل کے حق میں ہے۔'

سی جی ٹی این نے قائرہ کے بجائے دبئی کو اپنا ہیڈکواٹر بنایا ہے حالانکہ چین کے عربی اخبارات اور ریڈیو سٹیشنز قائرہ میں قائم ہیں۔ سی جی ٹی این عربی کے ڈائریکٹر کے مطابق اس کی وجہ دبئی کے ایک ٹرانسپورٹ جب والی حیثیت ہے۔ دبئی بین الاقوامی ایئر لائن ایمیریٹس کا ہیڈکواٹر اور ایک اہم بندرگاہ ہے۔

چائنا عرب ٹی وی

(70 ہزار سے زیادہ فیس بک فالوورز اور 217000 یوٹیوب ویوز)

یہ چینل سنہ 2014 میں دبئی سٹوڈیو سٹی میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں میڈیا کے شعبے میں چین کے پرائیوٹ سیکٹر کی پہلی سرمایہ کاری تھی۔ یہ سیٹیلائٹ چینل زیادہ تر عربی زبان میں ڈب ہوئے چینی ڈرامے نشر کرتا ہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق سنہ 2017 میں اسے چین کی حکومت کی جانب سے خبریں نشر کرنے کی اجازت ملنے کے بعد سنہ 2018 میں ایک نئی شکل میں دوبارہ شروع کیا گیا۔

میڈیا میں شراکت داری

مشرقِ وسطیٰ میں چین کی میڈیا کی حکمتِ عملی میں شراکت داری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

نومبر 2018 میں سعودی ملکیت والے ایم سی بی گروپ نے، جو دبئی میں قائم ہے، چین کے قومی ریڈیو اور ٹی وی ایڈمنسٹریشن (این آر ٹی اے) کے ساتھ تین سال کی شراکت داری کا معاہدہ کیا۔ چین نے کئی ایسے عرب ٹی وی چینلوں کے ساتھ بھی معاہدے کیے جو مالی مشکلات کا شکار تھے۔

چینی مواد میں عریانیت، فحاشی اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق حساس موضوعات نہیں ہوتے جو مشرقِ وسطیٰ کی ثقافت اور سماجی روایات سے بڑی حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔ کئی مقامی ٹی وی چینلوں کے ڈائریکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسی شراکت داریوں سے مقامی چینلوں کو زیادہ فائدہ ہے۔

اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں چینی زبان کی تعلیم کی مانگ بڑھ رہی ہے اور اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی چینی زبان کے کورسز متعرف کرائے گئے ہیں۔

چائنا ریڈیو انٹرنیشنل (سی آر آئی)

27 لاکھ سے زیادہ فیس بک فالورز، 17 ہزار سے زیادہ ٹویٹر فالوورز)

سی سی ٹی وی کے آنے سے کافی پہلے سی آر آئی بیرونِ ملک چین کی آواز ہوا کرتا تھا۔ اس ریڈیو سٹیشن کو سنہ 1941 میں چین میں خانہ جنگی کے دوران قائم کیا گیا تھا۔ سی آر آئی نے سنہ 1957 میں عربی زبان میں خبروں کے لیے دن میں دو مرتبہ آدھے آدھے گھنٹے کا وقت مختص کیا تھا۔

آج اس ریڈیو سٹیشن سے پوری عرب دنیا میں عربی زبان میں نشریات کی جاتی ہیں۔ جبکہ شمالی افریقہ میں سی آر آئی کی فرانسیسی زبان میں نشریات ہوتی ہیں۔

خبر رساں ادارہ شنوا

(آٹھ کروڑ پچیس لاکھ سے زیادہ گلوبل فیس بک پیچ پر فالوورز، عرب ٹویٹر پر ساڑھے 16 ہزار فالوورز)

یہ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ہے جو پیپلز ڈیلی نامی اخبار کے ساتھ چین کا اہم ترین پروپیگینڈا میڈیا ادارہ ہے۔ رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز (آر ڈبلیو بی) کے مطابق یہ دنیا کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی ہے جس میں آٹھ ہزار افراد کام کرتے ہیں اور اس کی دنیا بھر میں 105 شاخیں ہیں۔

شنوا کا مشرقِ وسطیٰ کا ہیڈکواٹر سنہ 1985 سے قائرہ میں قائم ہے۔ سنہ 2005 میں چینی اور مصری حکام نے اس کے نئے دفتر کا افتتاح کیا تھا جو 6700 مربع میٹر پر پھیلی ہوئی عمارت میں قائم کیا گیا ہے۔

شنوا عربی مشرقِ وسطیٰ میں وہ واحد چینی نیوز ایجنسی ہے جو عربی زبان میں فوری خبریں اور بریکنگ نیوز فراہم کرتی ہے۔

چائنا ٹو ڈے (ال سن ال یوم)

(ایک لاکھ تیئس ہزار فیس بک فالوورز)

یہ چین کا صفِ اول کا پالیسی جریدہ ہے جو عربی زبان میں آن لائن اور پرنٹ دونوں میں موجود ہے۔ یہ قائرہ سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے مواد میں فیچر، نیوز رپورٹیں اور سیاست، ثقافت، بین الاقوامی حالاتِ حاضرہ اور معیشت پر تفصیلی تجزیے شامل ہیں جو چینی اور غیرملکی صحافی لکھتے ہیں۔

پیپلز ڈیلی (الشاب ال یومیہ)

( 20 لاکھ سے زیادہ فیس بک فالوورز)

یہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سرکاری اخبار کی عربی زبان کی ویب سائٹ ہے جسے جون 2011 میں مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں بیداری کی لہر (عرب سپرنگ) کے موقع پر شروع کیا گیا تھا۔ اس وقت سے اب تک اس میں کئی بڑی تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔

میڈیا کے ان اداروں کے علاوہ چائنا انٹرنیٹ انفارمیشن سینٹر، دیٹس بُک، چائنا اِن اربک سمیت کئی آن لائن خبر رساں ادارے کام کر رہے ہیں جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں چین کے موقف کی ترویج کرنا ہے۔ کئی ایسے مسائل اور معاملات ہیں جن کے بارے میں مشرقِ وسطیٰ کی بعض حکومتوں اور عوام کی سوچ اور چینی سوچ میں اتفاق پایا جاتا ہے۔