ڈونلڈ ٹرمپ ثانی: جوشیلے باپ سے زیادہ جوشیلا بیٹا

  • ٹیرا میککلوے
  • بی بی سی وائٹ ہاؤس رپورٹر
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ڈونلڈ ٹرمپ ثانی جولائی 2019 میں کولوراڈو کنویشن سے خطاب کرتے ہوئے

ریپبلیکن پارٹی کے کنوینشن کی پہلی ہی شام صدر کے سب سے بڑے بیٹے، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر (ثانی) توجہ کا مرکز بن گئے۔

اپنی تقریر میں انھوں نے اپنے والد کی قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کے لیے راکٹ فیول کی اصطلاح استعمال کی، یعنی ان کے بقول ان اقدامات نے امریکی معیشت کو بام عروج پر پہنچا دیا ہے۔

مگر ان کی زیادہ زوردار باتیں صدر کے بارے میں نہیں بلکہ ان کے ڈیموکریٹک حریف، جو بائڈن، پر تنقید کی تھی۔

ٹرمپ ثانی نے کہا ’بائڈن کی انتہائی بائیں بازو پالیسیاں معاشی بحالی کو مکمل طور پر ٹھپ کر دیں گی۔‘ انھوں نے کنزرویٹیوز کو خبردار کیا کہ ڈیموکریٹس ان تمام کامیابیوں پر پانی پھیر دیں گے جو لوگوں نے ان کے والد کی قیادت میں حاصل کی ہیں۔

اپنے والد کی زبردست وکالت کرنے والے جوشیلے ٹرمپ ثانی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے زور خطابت سے حاضرین میں بجلی بھر دیتے ہیں جبکہ ان کے عیب جُو ان پر جلتی پر تیل چھڑکنے کا الزام لگاتے ہیں۔

جب اپنی تقریروں میں وہ لبرلز، جو بائڈن کے بیٹے ہنٹر بائڈن اور میڈیا پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہیں تو مجمع جوش میں آجاتا ہے۔

شعلہ بیاں مقرر، کھلاڑی اور شکاری ٹرمپ ثانی اپنے والد کو دوبارہ صدر منتخب کروانے میں ہر ممکنہ مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ریپبلیکنز کی حکمت عملی یہ ہے کہ صدر کے حامیوں میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا جائے اور اس کے لیے جوان ٹرمپ سے زیادہ موزوں اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

صدر ٹرمپ کے حامیوں کے ساتھ، جن کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی اور شکار کی شوقین ہے، ان کا ایک خاص تعلق ہے۔

ریپبلیکن تزویرکار (strategist) رون بونجین کہتے ہیں ’انھیں ٹرمپ کے مستقر تک پہنچنے کا راستہ سمجھا جاتا ہے۔‘

ریاست کنساس میں ریپبلیکن پارٹی کے سربراہ مائیکل ککلمین کا کہنا ہے کہ لوگ ان کے ’سنجیدہ طرزِ خطابت‘ کو پسند کرتے ہیں۔

صدر کے بہت سے حامی اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ جوان ٹرمپ بعض اوقات اسلحہ کی صنعت کی، جو چاہتی ہے کہ سائلینسرز پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، اپنے والد سے بڑھ کر حمایت کرتے ہیں ۔

خود کو کئی رنگین کرداروں سے منسوب کرنے پر ان کی جرات کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔ گزشتہ برس وہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے چندہ جمع کرنے والے گروپ ’وی بلڈ دا وال‘ کی ایک ریلی میں نظر ائے تھے۔

اس گروپ کے بانیوں پر حال ہی میں عطیات دینے والوں کو دھوکہ دینے کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کنزویٹیو اجتماعات میں ان کا خیرمقدم ایک راک سٹار کی طرح کیا جاتا ہے۔

ہوفسٹرا یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر لارنس لیوی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ثانی اپنے والد کی وکالت غیر معمولی انداز میں کرتےہیں۔ اور ہو سکتا ہے کہ یہ زیادہ اہم ذمہ داری اٹھانے کی جانب ایک قدم ہو۔

ان کے بقول ’طاقتور لوگوں کے کامیاب بیٹے اپنے والد کے سایہ میں صرف زندہ نہیں رہتے بلکہ پروان چڑھتے ہیں اور کسی روز وہ اس سائے سے نکل کر خود اپنے خاندان کے سربراہ کے روپ میں سامنے آ جاتے ہیں۔‘

اس وقت وہ کئی اعتبار سے اپنے والد کی طرح ہیں اور ان ہی کی طرح متنازع بھی۔

صدر کے حامی جتنا انھیں پسند کرتے ہیں، لبرلز اتنا ہی ناپسند کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ٹرمپ ثانی 2016 میں انتخابی مہم کے دوران اسلحہ کی ایک دوکان میں

فورڈہیم یونیورسٹی کی پروفیسر کرِسٹینا گریئر انھیں ’اقرباپروری کی پیداوار‘ قرار دیتی ہیں۔

نیویارک میں مقیم ڈیموکریٹک تزویرکار، جان رینِش کہتے ہیں کہ وہ ایوان صدر کے تاریک گوشوں سے توانائی جذب کرنے والے اور ’اپنے والد کی تیزابیت کی جوان شکل ہیں۔‘

رینیش کے بقول ’ٹرمپ ثانی جلتی پر تیل ہے۔‘

خشخشی داڑھی، تراشیدہ بالوں اور کھلے کالر کی قمیض پہنے والے ٹرمپ ثانی جب بولتے ہیں تو ان کے ہاتھ ہوا میں لہراتے ہیں۔

تقریر کے دوران وہ ایک باکسر کی طرح اپنے پاؤں پر بھی اچھلتے ہیں۔ ان کا یہ جوشیلا پن مجمع کے اندر بھی سرایت کر جاتا ہے۔

ٹرمپ ثانی کا بچپن چیکوسلواکیا میں اپنے دادا کے ساتھ شکار کھیلتے گزرا ہے۔ لڑکپن میں وہ جھگڑالو تھے۔

جوانی کے ابتدائی برسوں کے دوران وہ نیو آرلینز میں کھلے عام شراب پی کر اودھم مچانے کے جرم میں دھر لیے گئے تھے اور جیل کی ہوا کھانا پڑی تھی۔

اپنی پہلی بیوی، وینِسا ہیڈن، سے ان کے پانچ بچے ہیں۔ ان کی حالیہ گرل فرینڈ، کِمبرلی گِلفوئل، عطیات جمع کرنے والی مہم کا حصہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ٹرمپ ثانی اور ان کی گرل فرینڈ کِمبرلی گِلفوئل کے ساتھ

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سنہ 2016 میں جب انھوں نے ایک روسی خاتون وکیل سے، جن کے روسی حکومت سے قریبی تعلقات ہیں، ملاقات کی تو ایک بہت بڑے تنازع نے جنم لیا۔

اسی موسم گرما میں انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات کے دوران خصوصی قونصل رابرٹ مولر نے اس ملاقات کی بھی جانچ پڑتال کی۔ لیکن اپنی رپورٹ میں مولر نے کہا کہ انھیں اس ملاقات سے متعلق کسی مجرمانہ سازش کے شواہد نہیں مل سکے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیٹے کا مکمل دفاع کرتے ہوئے اس ملاقات کو غیر اہم قرار دیا تھا۔ 2017 میں صدارتی طیارے، ایئر فورس ون‘ میں پرواز کے دوران صدر نے مجھ سمیت کئی صحافیوں کو بتایا تھا ’اس نے ایک ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں کچھ نہیں ہوا تھا۔‘

ٹرمپ آرگنائزیشن میں ایک اعلی عہدیدار ہونے کے باوجود صدر نے ان کے بارے میں ایسے بات کی جیسے وہ کم سِن ہوں۔ انھوں نے کہا: ’وہ اچھا لڑکا ہے۔ وہ اچھا بچہ ہے۔‘

اب دونوں کی نگاہیں نومبر کے انتخابات پر جمی ہوئی ہیں۔ ان کا مستقبل داؤ پر ہوا ہے۔

لارنس لیوی کا کہنا ہے کہ اس جوان کے لیے انتخابات کا دن نئے امکانات لے کر آ سکتا ہے: ’وہ خود کو ٹرمپ کا مالی اور سیاسی وارث بننے کے لیے تیار کر رہے ہیں، اور جو وہ چاہتے ہیں اس کا انحصار اس صدارتی مہم کی کامیابی پر ہے۔‘

لیوی بہت آگے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’ٹرمپ کے حامی ان کے دیوانے ہیں۔ سرخ (رپبلیکن حامی) ریاستوں میں وہ انتہائی مقبول ہیں۔ اگر وہ صرف کانگریس کا رکن بننا چاہتے تو کامیابی ان کے قدم چوم سکتی تھی۔ مگر میرے خیال میں ان کے عزائم بہت بلند ہیں۔‘

مستقبل میں ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہوں گے اگر وہ اپنے والد کے لیے یہ معرکہ سر کر سکے۔ اب سے نومبر تک باپ بیٹے کی نگاہیں اسی انعام پر ٹکی ہوئی ہیں۔