افغان اداکارہ صبا سحر پر کابل میں قاتلانہ حملہ

صبا سحر

،تصویر کا ذریعہReuters

افغان حکام کے مطابق افغانستان کی پہلی فلم ڈائریکٹر صبا سحر کو گولی مار دی گئی ہے۔ 44 برس کی اداکارہ کو ہسپتال لے جایا گیا ہے جہاں اب وہ زیر علاج ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے یا نہیں۔

ان کے شوہر ایم ذکی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ منگل کو کام پر جا رہی تھیں کہ دارالحکومت کابل میں ایک مسلح شخص نے ان کی گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔

ان کا کہنا تھا کہ خاتون کے محافظوں کو بھی گولیاں لگی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صبا سحر افغانستان کی مقبول اداکارہ اور ہدایتکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن بھی ہیں۔

ذکی کے مطابق فائرنگ کا واقعہ کابل شہر کے مغرب میں پیش آیا۔

ان کے بقول اس وقت گاڑی میں صبا سحر سمیت پانچ افراد تھے جن مںی ڈرائیور، دو محافظ ، صبا صحر اور ایک بچہ شامل ہیں۔ بچے اور ڈرائیور کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کے گھر سے نکلنے کے پانچ منٹ بعد ہی انھوں نے گولیاں چلنے کی آواز سنی۔ انھوں نے جب صبا سحر کو فون کیا تو انھوں نے بتایا کہ ان کے پیٹ میں گولیاں لگی ہیں۔

انھوں نے بتایا 'میں جائے واردات پر پہنچا اور سب کو زخمی پایا۔ انھیں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ فنکارہ کا کامیاب آپریشن کیا گیا ہے۔

صبا سحر ایک پولیس افسر کی حیثیت سے بھی تربیت یافتہ ہیں اور اب بھی وزارت داخلہ کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کے ٹیلی وژن پروگرام اور فلمیں انصاف اور بد عنوانی کے موضوع پر ہوتی ہیں۔

اس حملے کے حوالے سے ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ افغانستان میں فلمی اداکاروں، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر حملوں میں اضافہ پریشان کن ہے۔