کرائسٹ چرچ حملہ: متاثرین کا حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ سے سامنا، عدالت میں رقت آمیز مناظر

ٹیرنٹ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

احد نبی نے اپنے والد حج کو النور مسجد میں کھو دیا تھا

’میں بار بار یہ سوچنے کی کوشش کرتی ہوں کہ میرا پیارا بیٹا حملے کے موقع پر کیا محسوس کر رہا ہو گا۔‘

میصون سلاما کی طرح متعدد متاثرین اپنے پیاروں کو یاد کرتے وقت یہی سوچتے ہیں اور ایسے میں ان کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ تاہم آج ان کے سامنے وہ شخص بھی موجود تھا جس کے باعث ان کی زندگی اس نہج تک پہنچی۔

گذشتہ برس نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں 51 افراد کو قتل کرنے والے برینٹن ٹیرنٹ کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمی ہونے والے افراد نے حملہ آور کا سامنا کیا اور بیانات دیے۔

اس دوران کمرہ عدالت میں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، کچھ متاثرین بات کرتے ہوئے رو پڑتے اور ان کے لیے اپنے جملے مکمل کرنا مشکل ہو جاتا لیکن وہ ٹرینٹ کو یہ باور کرواتے رہے کہ ’یہ آنسو تمہارے لیے نہیں ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

24 سالہ سارہ قاسم کے والد النور مسجد میں ہلاک ہوئے تھے

'یہ آنسو تمہارے لیے نہیں ہیں'

24 سالہ سارہ قاسم کے والد النور مسجد میں ہلاک ہوئے۔

’میرا نام سارہ قاسم ہے۔ میں ایک چمکتے دمکتے شخص کی بیٹی ہوں۔ عبدالفتح قاسم، یہ نام یاد رکھیے گا۔‘

انھوں نے اپنے والد کی موت کے آخری لمحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کبھی سوچتی ہوں کہ کیا وہ اس وقت تکلیف میں ہوں گے، کیا وہ خوفزدہ ہوں گے اور ان کے ذہن میں آنے والے آخری خیالات کیا ہوں گے۔ دنیا میں کسی بھی چیز سے زیادہ میری خواہش ہے کہ میں ان کا ہاتھ پکڑنے کے لیے وہاں موجود ہوتی اور انھیں بتاتی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن میں ایسا نہیں کر سکی۔‘

انھوں نے اپنے والد کے ساتھ مستقبل کے لیے بنائے گئے منصوبوں کے بارے میں بھی بتایا جو اب پورے نہ ہو پائیں گے۔ وہ اپنے والد کے ساتھ سیر و سیاحت کے لیے جانا چاہتی تھیں۔ ان کے ہاتھ سے بنے کھانے کی مہک سے محظوظ ہونا چاہتی تھیں۔

یہ کہتے ہوئے سارہ رونے لگیں اور پھر انھوں نے خود کو سنبھالا اور ٹیرنٹ کو دیکھتے ہوئے کہا 'یہ آنسو تمہارے لیے نہیں ہیں۔'

،ویڈیو کیپشن

حمیمہ تویان کے شوہر زکریا ان 51 لوگوں میں سے ہیں جو کرائسٹ چرچ حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

’اس نے ہمارے بابا کو کیوں قتل کیا؟‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

حمیمہ تویان، زکریا تویان کی بیوی جو واقع کے 48 دن بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے تھے۔

’مجھے جتنے روپے بھی مل جائیں لیکن یہ میرے بچوں کے والد اور شوہر کو واپس نہیں لا سکتے۔ میں ان کے ہاتھ کے پکے ہوئے کھانے کو یاد کرتی ہوں، ان کے روکھے لطیفے اور ان کے خراٹے۔

’وہ میرے باڈی گارڈ تھے، مجھے ہنساتے تھے، مجھے پرسکون رکھتے تھے، میرے سب سے گہرے دوست تھے۔‘

’میرے سب سے بڑے بیٹے کی اپنے والد کے ساتھ صرف پانچ برس کی یادیں ہیں جبکہ اس سے چھوٹے کی تو بالکل بھی نہیں۔‘

’میرے بیٹے نے مجھ سے پوچھا کہ انھوں نے ہمارے بابا کو کیوں قتل کیا؟ اپنے بچوں کو سمجھانے کے لیے میں انھیں بتاتی ہوں کہ یہ جاہل شخص دراصل ان کے سکول میں اس بچے کے جیسا ہے جسے چھوٹے بچوں سے کھیلنا نہیں آتا تو وہ اپنے اس خوف کا اظہار انھیں مار کر کرتا ہے۔

’میں اپنے بیٹے کی آنکھوں میں اداسی دیکھتی ہوں، جب وہ دوسرے بچوں کو اپنے والد کے ہاتھ پکڑتے ان کے ساتھ لیگوز بناتے دیکھتے ہیں۔ میں بطور ماں ان کے دکھی دلوں کو کیسے تسلی دوں؟

’میرے بیٹے اپنے والد سے اتنی محبت کرتے تھے کہ جب وہ گھر میں داخل ہوتے تو یہ ان کی جانب لپکتے، انھیں چومتے اور یہ سلسلہ ہر روز دہرایا جاتا۔ اب ان کے والد مستقبل میں ان کی کامیابیوں کا جشن منانے کے لیے ان کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ اب ان کے پاس ایک مثالی کردار نہیں ہو گا جو انھیں راہ دکھائے۔

’لیکن تمہارے اس گھناؤنے اقدام کے باعث نیوزی لینڈ کے ہزاروں افراد ہمارے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہوئے ہیں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہاں تم متاثرہ شخص ہو اور ہم زندہ بچ جانے والے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

احد نبی: 'میرے 71 سالہ والد کو اگر تم لڑائی کے لیے چیلنج کرتے تو انھوں نے تمہارے دو حصے کر دینے تھے'

’تم اس معاشرے کی گندگی بن گئے‘

احد نبی نے اپنے ضعیف العمر والد حج کو النور مسجد میں کھو دیا تھا۔

نیوزی لینڈ کی رگبی لیگ کی ٹیم نیوزی لینڈ واریئرز کی جرسی پہنے احد مجرم کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکے۔

انھوں نے ٹیرنٹ کو ایک کیڑا کہہ کر پکارا اور کہا کہ 'تمہارے والد کچرا اٹھاتے تھے اور تم اس معاشرے کی گندگی بن گئے۔ تمہیں کچرے کے میدان میں دفن کرنا چاہیے۔'

انھوں نے جج سے بھی درخواست کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ ’گندگی سے بھرا ہوا شخص اپنی زندگی میں جیل سے کبھی باہر نکلنے نہ پائے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میرے 71 سالہ والد کو اگر تم لڑائی کے لیے چیلنج کرتے تو انھوں نے تمہارے دو حصے کر دینے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

منال دوخان حملہ آور کو مخاطب کرتے ہوئے

’جیسے میں بچے کی پیدائش کے وقت ہونے والا درد بار بار محسوس کر رہی ہوں‘

محمد عطاالیان کی والدہ میصون سلاما اپنے بیٹے کی موت سے قبل آخری لمحات کو یاد کرتے ہوئے رو پڑیں۔

میصون سلاما کے دوست اور گھر والے ان کی ہمت بندھانے کے لیے عدالت میں موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ بطور والدہ میرا دل 'لاکھوں مرتبہ ٹوٹ چکا ہے، جیسے میں بچے کی پیدائش کے وقت ہونے والا درد بار بار محسوس کر رہی ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں بار بار یہ سوچنے کی کوشش کرتی ہوں کہ میرا پیارا بیٹا حملے کے موقع پر کیا محسوس کر رہا ہو گا۔‘

’اس نے حملہ آور کا کیسے مقابلہ کیا ہو گا، ان کے ذہن میں کیا خیالات آئے ہوں گے جب انھیں احساس ہوا ہو گا کہ وہ اپنے آخری سفر پر گامزن ہیں؟

’تم نے اپنے آپ کو یہ اختیار دے دیا کہ تم 51 معصوم افراد کی زندگیاں لے لو جن کا اکلوتا جرم تمہاری نظر میں یہ تھا کہ وہ مسلمان تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

علی ضراغمہ اپنی بیٹی کے ساتھ النور مسجد میں موجود تھے جہاں ان پر متعدد مرتبہ گولیاں برسائی گئیں۔

’تمہاری وجہ سے ہم مزید پرعزم اور طاقتور ہو گئے ہیں‘

وسیم ساطع علی ضراغمہ اپنی بیٹی کے ساتھ النور مسجد میں موجود تھے جہاں ان پر متعدد مرتبہ گولیاں برسائی گئیں۔

ضراغمہ نے جب کٹہرے کی جانب قدم بڑھائے تو ان کی چال میں ہچکچاہٹ نہیں تھی۔

انھوں نے براہ راست ٹیرینٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہاں موجود تمام افراد کو سہ پہر بخیر سوائے تمہارے۔ شکر ہے کہ ہم بچ گئے کیونکہ تمہیں انتہائی قریب موجود افراد کو نشانہ بنانے کے علاوہ بندوق استعمال کرنی نہیں آتی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

عبدالعزیز وہاب زادہ حملہ آور کو مخاطب کرتے ہوئے عدالت میں بات کر رہے ہیں

اس دوران ٹیرنٹ نے قہقہہ لگایا لیکن فوراً ہی خود کو سنبھالا اور پھر اپنا منہ چھپا لیا۔

ضراغمہ نے مزید کہا ’تمھیں لگتا ہے کہ تم نے ہماری برادری کو تباہ کر دیا ہے اور ہمارے ایمان کو متزلزل لیکن تم کامیاب نہیں ہو سکے۔ تمہاری وجہ سے ہم مزید پرعزم اور طاقتور ہو گئے ہیں۔

’تم مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہو۔ تم مکمل طور ناکام ہو گئے ہو۔‘