بیلجیئم کے شہر کے میئر کا دل ایک یادگار فوارے میں مدفون ملا

بیلجیئم

،تصویر کا ذریعہVERVIERS.BE

مشرقی بیلجیئم کے شہر ورویرز میں لگے ایک خوبصورت فوارے نے ایک صدی سے زیادہ عرصے تک اپنے اندر رکھی ہوئی ایک چیز کو باہر نکال دیا ہے، یہ ہے شہر کے پہلے میئر کا دل۔

یہ جسمانی عضو جس کو ایک چھوٹے زنگ آلود صندوقچے جس کے اندر الکوحل تھی میں رکھا گیا تھا اور یہ اس فوارے کی مرمت اور تزیئن و آرائش کے کام کے دوران ملا ہے۔

اب اس صندوقچے کو شہر کے میوزیم آف فائن آرٹس میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ میئر پیری ڈیوڈ کا انتقال 1839 میں ہوا تھا ، لیکن ان کے نام سے منسوب فوارے کا افتتاح 1883 میں ہوا تھا۔

اس صندوقچے پر کندھی ایک تحریر پر لکھا ہے کہ اسے اس یادگار پر اسی وقت رکھا گیا تھا۔

' پیری ڈیوڈ کا دل اس یادگار میں 25 جون 1883 میں رکھا گیا تھا۔'

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہVERVIERS.BE

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ورویرز الڈر مین فار پبلک ورکس، میکسم ڈیگی کا کہنا ہے کہ ' ایک شہری داستان حقیقت بن گئی ہے: صندوقچہ پیری ڈیوڈ کے مجسمے کے بالکل قریب ، فوارے کے اوپری حصے میں ایک پتھر کے پیچھے تھا جسے ہم نے فوارے کی تزئین و آرائش کے دوران ہٹا دیا تھا۔'

براڈکاسٹر آر ٹی بی ایف کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ کاریگروں کو 20 اگست کو ملنے والا صندوقچہ 'واقعی بہت اچھی حالت میں تھا۔'

میئر پیری ڈیوڈ کا انتقال 68 سال کی عمر میں موسم خزاں میں ہوا تھا جب وہ سنہ 1839 میں اپنے باڑے میں کام کر رہے تھے۔

اس وقت شہر کے حکام نے ان کی تعظیم کے لیے ایک یادگار بنانے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا جبکہ اور ان کے اہلخانہ کی رضامندی سے ڈاکٹروں نے ان کا دل جسم سے نکال لیا تھا تاکہ اس یادگار میں رکھا جاسکے۔

ورویرز کی سرکاری ویب سائٹ verviers.be کا کہنا ہے کہ اس کے بعد شہر کو ان کی یاد میں ایک مناسب یادگار بنانے کے لیے رقم جمع کرنے میں کئی دہائیاں لگ گئیں تھیں۔

دریں اثناء ، شہر کے وسط میں ان کے نام سے منسوب یادگاری فوارہ نصب کرنے سے قبل یہ بھی بحث ہوئی کہ شہر کے پہلے میئر کو کس طرح عزت دی جائے۔

پیری ڈیوڈ کون تھے؟

،تصویر کا ذریعہPublic Domain

انھوں نے بلجیئم کی تاریخ کے ہنگامہ خیز ادوار میں زندگی گزاری جن میں سنہ 1830 میں اس کی بطور آزاد ریاست کا قیام بھی شامل ہے۔

وہ 1800 سے 1808 تک بیلجیئم کے شہر ورویرز کے پہلے میئر تھے، جب آج کا بلجیئم فرانس کے زیر حکمرانی تھا۔

بعدازاں سنہ 1830 میں ڈچ کی حکمرانی کے خلاف انقلاب کے نتیجہ میں بیلجیئم آزاد ہوا اور اسی سال پیئر ڈیوڈ دوبارہ میئر کی حیثیت سے خدمات انجام کرنے کے لیے منتخب ہو ہوئے۔

میئر پیری ڈیوڈ کو خصوصاً 1802 میں ورویرز شہر میں فائر بریگیڈ کی سروس کا آغاز کرنے کے لیے یاد کیا جاتا ہے جو اس دور میں ایک غیر معمولی اور نادر کام تھا۔

وہ فرانسيسی ثقافت کے مداح تھے اور انھوں نے انقلاب فرانس کے نظریے کی حمایت کی تھی لیکن پھر انھوں نے 1815 سے 1830 کے درمیان ڈچ حکمرانی کے عرصے میں زندگی گزاری۔

1830 کے بغاوت کے نتیجے میں ورویرز بری طرح تباہ ہو گیا تھا اور پیری ڈیوڈ کو اسے دوبارہ تعمیر کرنے اور اس کی بحالی کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ جسے کی وجہ سے انھیں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔