کورونا وائرس: فرانس کے مشہور تفریحی مقام پر کووِڈ 19 پھیلانے والے برہنہ لوگ

  • کرس بوکمین
  • کیپ ڈی ایج، جنوبی فرانس
Entrance to the naturist village

کئی ’نیچرئسٹ‘ یعنی فطرت پسند لوگوں کے لیے بالخصوص ’سوئنگرز‘ یعنی گروپ کی شکل میں سیکس کرنے یا پارٹنر بدلنے والوں کے لیے کیپ ڈی ایج گرمیوں کی روایتی منزل ہوتی ہے، لیکن کورونا وائرس کی وبا نے ایسے فطرت پسندوں کے اِس متبادل طرز زندگی کو کافی متاثر کر دیا ہے۔

فرانس میں کورونا کے نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور حال ہی میں ایک دن میں سات ہزار افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ہیرالٹ کے جنوبی علاقے کیپ ڈی ایج میں خصوصاً کورونا متاثرین کی تعداد بڑھی ہے۔

یہ یورپ میں فطرت پسندوں کے ریزارٹس کا مرکز ہے۔ یہاں لذت و سرور کو خصوصی توجہ حاصل ہے۔ تاہم اب محکمہ صحت کے حکام نے اس گاؤں کے باہر ایک موبائل ٹیسٹنگ آپریشن کا آعاز کیا ہے جہاں تقریبا 800 فطرت پسندوں میں سے 30 فیصد افراد میں کورونا مثبت پایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہم سب جانتے ہیں کہ ہم یہاں کیوں ہیں

’فطرت پسندوں کا گاؤں‘ کہلانے والی اس جگہ میں کافی محدود لوگ ہیں اور یہاں درجن بھر سوئنگر کلب ہیں، بھاپ کے غسل خانے اور کلبس ہیں جہاں جوڑوں کے چھپ کر قربت قائم کرنے یا دوسروں کے نظروں سے دور ہونے کے لیے جگہیں موجود ہیں۔

یقیناً تمام فطرت پسند سوئنگرز نہیں ہوتے اور ان میں سے کچھ لوگ گاؤں کے دوسری جانب قدرے خاموش مقام پر جا کر کیمپنگ کرنا پسند کرتے ہیں۔

لیکن کیپ ڈی ایج میں کافی حدود ہیں۔ ایک سوئنگر نے بی بی سی کو بتایا ’تمام لوگ سارا دن ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں رہتے ہیں اور یقیناً برہنہ۔‘

’ہم سب جانتے ہیں کہ ہم یہاں کیوں ہیں۔ یہاں کچھ خاندان کے ساتھ آنے والے فطرت پسند بھی ہیں جو ساحل کے پاس رہتے ہیں اور سیکس کلبز نہیں جاتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہاں ایک گرمیوں کے معمول کے دن میں یومیہ 45 ہزار افراد آتے ہیں۔ زیادہ تر یہاں ایک ہفتے کے لیے کرائے پر جگہ لی جاتی ہے۔ یہاں ہفتے کے آخر میں آنے والے اور ایک دن کے لیے آنے والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سب کورونا کی وبا سے پہلے ہوتا تھا۔

وبا کا آغاز کیسے ہوا؟

یہاں واقع ایک پرتعیش ہوٹل کے دو ملازمین میں اگست میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

،تصویر کا کیپشن

اس ہوٹل کے دو ملازمین میں اگست میں کورونا مثبت آیا

ہوٹل کے مالک نے تسلیم کیا کہ ایک ’بیہودہ پارٹی‘ یہاں کی چھت پر کی گئی جہاں سماجی دوری کے اصول کی خلاف ورزی کی گئی۔

مینیجر ڈیوڈ مسیلا کا کہنا تھا ’ہمارا دگنا نقصان ہوا۔ ہمارے زیادہ تر سیاح یا مہمان غیر ملکی ہوتے ہیں، زیادہ تر نیدر لینڈ اور جرمنی سے آتے ہیں، اس کے علاوہ اٹلی اور برطانوی لوگ بھی یہاں آتے ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشن

مینیجر ڈیوڈ مسیلا کا کہنا تھا 'ہمارا دوگنا نقصان ہوا‘

’وائرس کی وجہ سے باقاعدگی سے چھٹیاں گزارنے کے لیے آنے والے افراد رواں برس نہیں آئے اور یقیناً ہم وائرس سے بھی متاثر ہوئے جس سے بچنا شاید ممکن نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آپ کو بتاؤں کہ یہاں ایک ہزار کیمپ سائٹس اور 15 ہزار بستروں کی سہولت کے ساتھ یہ گاؤں قریب ہی واقع سات گنا بڑے شہر مونٹپلیر سے زیادہ کما لیتا ہے۔‘

مقامی حکام کا کیا ردعمل تھا؟

فرانس کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ کیپ ڈی ایج میں ٹیسٹ کے بعد مثبت آنے والے کیسز قریبی علاقوں سے چار گنا زیادہ ہیں۔

طبی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی ہسپتال میں فوری علاج کی ضرورت نہیں پڑی۔

یقیناً باقی گاؤں کی طرح یہاں منھ ڈھانپنا لازمی ہے لیکن جب لوگ ’سوئنگنگ‘ کر رہے ہوتے ہیں تو ماسک اور سماجی فاصلہ قائم نہیں ہو سکتا۔

مجھے دو جوڑے ملے جو قریبا سارا سال ہی اس گاؤں میں ہوتے ہیں۔ جورمی اور نیجی کی عمریں لگ بھگ 40 برس ہیں اور وہ ایک سوئنگرز کلب میں ملے تھے جس کے بعد وہ ساتھ رہنے لگے۔

ان کے بقول ’یہ گاؤں ایک جادوئی جگہ سے ایک دم المیے کا شکار جگہ بن گیا ہے۔ یقیناً ہم سب خطرہ مول لے رہے ہیں لیکن لاک ڈاؤن بہت مشکل اور طویل تھا۔‘

نوجوان لوگ زیادہ خطرہ مول لیتے ہیں

ایلن اور ان کی اہلیہ میرے بالمقابل بیٹھے تھے، دونوں برہنہ تھے اور صرف شفاف سکرین اُن کے چہرے کے سامنے تھی۔

دونوں کی عمریں 60 برس سے زائد ہیں اور ان کے خیال میں اس گاؤں کو الگ تھلگ کرنا ٹھیک نہیں۔

ایلن کا کہنا تھا ’ہماری عمر میں یقینا ہم زیادہ محتاط ہیں۔‘

’نوجوان لوگ زیادہ خطرات مول لیتے ہیں اور ایسا صرف یہاں نہیں ہے۔ ملک میں جہاں جہاں نوجوان جمع ہوئے وہاں وبا پھیلی۔‘

وبا پھوٹنے کے بعد یہاں حکومت کے نمائندے نے تمام کلب بارز اور ایسی جگہیں بند کروا دیں جہاں جسمانی تعلق قائم کیا جاتا تھا۔

ان میں سے ایک ویئکی بیچ ریسارلٹ بھی تھا۔

یہاں کے ڈائریکٹر کریم اسرتل کا کہنا تھا ’مجھے اپنے 22 ملازمین کو فارغ کرنا پڑا کیونکہ سیزن ختم ہو گیا تھا۔ ہمارا کلب اپنی پرہجوم پول پارٹیز کی وجہ سے مشہور تھا اور حکام نے کہا تھا کہ اب ہم اسے جاری نہیں رکھ سکتے۔‘

،تصویر کا کیپشن

یہاں کے ڈائریکٹر کریم اسرتل کا کہنا تھا کہ انھیں اپنے 22 ملازمین کو فارغ کرنا پڑا

سوئنگرز کے لیے ایک اور مشہور جگہ یہاں کا ’لی گلیمر‘ نائٹ کلب ہے۔ یہاں برہنہ پارٹیز میں ایک ہزار افراد ہوتے ہیں اور اسے مارچ میں بندش کے احکامات دیے گئے تھے۔

انھوں نے ایج قصبے میں لوگوں سے کہا ہے کہ ’صبر کریں بہت جلد لی گلیمر دوبارہ کھلے گا۔‘

کوئی بھی مزہ کرنے کے موڈ میں نہیں

فلپ بیریاؤ 30 سال سے یہاں ایک کپڑوں کی دکان چلا رہے ہیں۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان کا کہنا تھا ’ہم مقامی معیشت کے لیے بہت اہم ہیں۔ ہمارے عملے کے 800 اہلکاروں میں سے 300 کو فارغ کر دیا گیا۔ میرا کاروبار 80 فیصد کم ہوا اور میں تنہا نہیں ہوں۔‘

’اس وقت یہاں صرف پانچ ہزار افراد مقیم ہیں حالانکہ سال کے ان دنوں میں یہاں 25 ہزار لوگ ہوتے ہیں۔ کوئی بھی مزہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔‘

تاہم جن سوئنگز سے میری ملاقات ہوئی انھوں نے تسلیم کیا کہ ایک ساتھی پر اکتفا نہ کرنے والوں کے لیے جنسی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں ہیں۔ کئی کے بقول وہ پہلے سے زیادہ شوقین ہو گئے ہیں۔

ساحل سمندر پر کئی خواتین نے اپنی کمر پر زیوارات پہن رکھے تھے جبکہ مرد جسم کے بال صاف کر کے گھوم رہے تھے۔

کئی لوگ 50 اور 60 کی عمروں کے پیٹے میں تھے لیکن کئی نوجوان جوڑے بھی تھے۔ شام میں زیادہ تر لوگ کپڑے پہن کر بارز اور ریستوانوں میں جاتے ہیں۔ لیکن یہ لباس بھی ایسے ہوتے ہیں کہ اس سے جسم جھلکتا ہے اور دعوتِ نظارہ ملتا ہے۔

لوگ اپنے ساتھ والی میزوں پر بیٹھے لوگوں سے گپ شپ کرتے ہیں۔ کبھی کبھار تو وہ واپسی پر ایک دوسرے کی رہائش گاہوں میں چلے جاتے ہیں۔

ابھی تو حکام چھٹیوں کے لیے ان مقامات کو جانے کی منصوبہ بندی کرنے والوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اس گاؤں سے فی الحال دور ہی رہیں۔

اور جو لوگ یہاں چھٹیاں گزار کر جا رہے ہیں انھیں اپنے ٹیسٹ کروانے کو کہا جا رہا ہے تاکہ وہ گھر واپس جاتے ہوئے وائرس ساتھ نہ لے جائیں۔