دریائے سوات کی تیز لہروں سے کتے کو بچانے والے افسر خان کون ہیں؟

  • محمد زبیر خان
  • صحافی
افسیر خان

،تصویر کا ذریعہTanveer Ahmad Veer

’میں تو نماز پڑھنے کے لیے مسجد جا رہا تھا۔ وہاں پر دیکھا کہ کسی مزدور کی ریڑھی کھڑی ہے اور یہ سوچ کر کہ کہیں وہ دریا میں بہہ نہ جائے سوچا کہ چلو اس کو سائیڈ پر کرتا ہوں۔ مگر جب ریڑھی کو محفوظ کرنے گیا تو کسی نے بتایا کہ دریا کے اس طرف کتا بھی موجود ہے تو میرے دل اور ضمیر نے گوارہ نہیں کیا کہ میں کتے کو تیز رفتار پانی میں مرنے کے لیے چھوڑ دوں۔‘

یہ کہنا تھا صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات کے علاقے بحرین کے افسر خان کا۔

افسر خان کی وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ منگل کو اونچے درجے کے سیلاب اور تیز رفتار لہروں کے دوران پانی سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے کے پاس کھڑے ہیں اور اردگرد موجود لوگ شور مچا رہے ہیں۔

ملبے کے پاس کھڑے ہو کر وہ لوگوں سے کچھ پوچھتے ہیں۔ پھر ملبے میں ہاتھ ڈالتے ہیں۔ ایک کتے کو گردن سے دبوچ کر تیز رفتار لہروں میں سے ہوتے ہوئے واپسی کے لیے مڑ جاتے ہیں۔

جب افسر خان کتے کو پکڑ کر واپسی کی راہ لیتے ہیں تو سینکڑوں کا مجمع خوشی سے تالیاں بجاتا ہے اور بھرپور خوشی کا اظہار کرتا ہے۔

افسر خان کی اس ویڈیو پر ان کو ہر طرف سے شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

افسر خان کون ہیں؟

جب افسر خان کی تلاش کے لیے بحرین میں رابطے کیے گئے تو ان کی تلاش میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ وہ علاقے میں مشہور و معروف ہیں۔

بحرین کے مقامی لوگوں کے مطابق افسر خان بحرین میں تبلیغی جماعت کے امیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بحرین کے بازار میں ان کی ایک چھوٹی سی دکان ہے جہاں وہ واسکٹ، ٹوپیوں اور بچوں کے گارمنٹس کا کاروبار کرتے ہیں۔ سیاست سے ان کا دور کا واسطہ نہیں ہے۔

مقامی لوگوں اور بحرین کے بازار میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کو بحرین میں لوگ امیر صاحب کے نام سے جانتے ہیں۔

’کسی ستائش کی تمنا نہیں ہے‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

افسر خان نے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ’میں ریڑھی کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ کسی دھاگے سے بندھی ہوئی ہے۔ میں نے جیب سے چھوٹا چاقو نکالا اور اس کو ٹائروں سے کاٹا اور دو بندوں نے ریڑھی کو اٹھایا۔ اس موقع پر دوسرے بندے نے مجھے کہا کہ وہاں پر کتا پھنسا ہوا ہے۔ اس سے پوچھا کہ کہاں پھنسا ہوا ہے، تو اس نے کہا کہ دوسری طرف ہے۔‘

’میں نے اپنے جوتے اتارے اور چھلانگ لگا کر اس طرف چلا گیا۔ دریا میں چلتے ہوئے میرے ذہن میں بس یہ ہی چل رہا تھا کہ کسی جانور کو بچانا صرف اللہ کی رضا کے لیے ہے، کسی واہ واہ اور کسی کی ستائش کے لیے نہیں ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ جب ’میں دریا میں چل رہا تھا تو لوگوں نے کہا کہ آگے چلے جاؤ۔ جس پر میں کافی دیر دریا میں چلتا رہا۔ اس موقع پر مجھے خوف بھی محسوس ہو رہا تھا کہ میں نہ ڈوب جاؤں۔‘

’پھر میں نے کہا کہ اللہ مالک، مجھے تیرنا بھی آتا ہے۔ پھر جیسے ہی اس مقام پر پہنچا تو دوسرے بندے نے آواز دی کہ آپ اب اس کو پکڑ لو۔ مجھے پھر کچھ خوف محسوس ہوا کہ یہ کہیں مجھے کاٹ نہ لے، مجھے اپنا کوئی خوف نہیں تھا، زیادہ کتے کی فکر تھی۔‘

افسر خان کا کہنا تھا کہ بس یہ ہی فکر تھی کہ کتے کو کسی طرح بچا لوں۔ پھر میں نے اس کی ٹانگ کو ہاتھ لگایا تو اس نے کچھ نہیں کہا تو میں نے ایک دم اس کو گردن سے پکڑ کر بھاگتے ہوئے دریا کو پار کرلیا۔‘

’اپنی زندگی میں دوسرا شدید سیلاب دیکھا ہے‘

افسر خان کا کہنا تھا کہ منگل کو آنے والا سیلاب اتنا ہی شدید تھا جو کہ چند سال (سنہ 2010 میں) قبل آیا تھا۔ جس سے بڑی تباہی ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے کے بعد میں خاموشی سے پہلے دکان اور پھر گھر آگیا تھا، جس کے بعد کئی لوگ میرے پاس آئے، مجھے ویڈیو دکھاتے، کچھ شاباش دے رہے تھے اور کچھ کہہ رہے تھے کہ بہت زیادہ خطرہ مول لیا۔ مگر میں نے گردن اٹھا کر کسی کو یہ بھی نہیں کہا کہ ٹھیک ہے اچھا ہے یا برا ہے۔‘

میرے پاس پرانے ماڈل کا موبائل ہے جو کہ میری ضرورت کے لیے ہے۔ اس پر آج کے دور کا سوشل میڈیا نہیں چلتا۔ مگر میرے بیٹے کے پاس جدید موبائل ہے جس پر اس نے دریا والی ویڈیو دیکھی اور اپنی والدہ اور بہنوں کو بھی دکھائی۔

وہ بتاتے ہیں ’رات کو جب گھر گیا تو بیگم نے بھی مجھے بہت ڈانٹا کہ یہ میں نے یہ کیا کیا۔ میں بس چپ چاپ کھانا کھاتا رہا تھا۔‘

’اس موقع پر میری والدہ نے کہا کہ اس نے ٹھیک کیا ہے۔ بچیوں نے بھی کہا کہ اتنا خطرہ لینے کی ضرورت کیا تھی؟ ان سے بھی کہا کہ جاندار ہے کوشش کی ہے تو وہ بچ گیا ہے۔ یہ اچھا کام ہے۔‘

مقامی لوگوں نے کیا دیکھا

بحرین کے مقامی صحافی تنویر احمد ویر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جس مقام اور وقت پر انھوں نے کتے کو بچایا اس کے کچھ دیر بعد اس مقام پر موجود ایک مسجد اور بحرین کے دو مشہور زمانہ ریستوران دریا برد ہوگئے تھے۔ اب دریا کنارے صرف ان ریستورانوں کے ناموں کے بورڈ موجود ہیں۔‘

تنویر احمد ویر کا کہنا تھا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت درجنوں لوگ موقع پر دیکھ رہے تھے۔

’جب امیر صاحب دریا میں اترے تو کئی درجن لوگ ان کی وڈیو بنا رہے تھے۔ کسی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیوں دریا میں اترے ہیں۔ سب لوگ حیرت سے ان کو دیکھ رہے تھے۔‘

ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ’بپھرا ہوا دریائے سوات صرف موت کا پیغام لاتا ہے۔ اس بپھرے ہوئے دریائے سوات میں کوئی تیراکی وغیرہ کام نہیں کرتی ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’امیر صاحب مقامی بندے ہیں۔ وہ دریائے سوات کی تباہ کاریاں جانتے ہیں۔ اس کے باوجود ایک کتے کے لیے تیز رفتار لہروں میں جانا بہت بڑے دل گردے کا کام ہے۔‘